رسائی کے لنکس

logo-print

ڈی آئی خان میں پولیس پر حملہ، ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کرلی


فائل فوٹو

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلعے ڈیرہ اسمٰعیل خان (ڈی آئی خان) میں ایک بار پھر مبینہ عسکریت پسندوں نے پولیس پر حملہ کرکے دو اہلکاروں کو قتل کر دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق عسکریت پسندوں نے تحصیل کلاچی کے علاقے ٹکواٹہ میں ہفتے کی رات اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

حکام کا کہنا تھا کہ پولیس اسٹیشن کے قریب قائم چوکی پر جانے والے دو اہلکاروں پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے حملہ کیا۔ ان پر جدید خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔

فائرنگ سے دونوں اہلکار موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ حملہ آور موٹر سائیکل سوار افراد اہلکاروں کی سرکاری کلاشنکوف لے کر باآسانی فرار ہو گئے۔

کالعدم ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کی

پاکستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان نے پولیس اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

شدت پسند تنظیم کے ترجمان نے دونوں اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ چھیننے کی بھی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کو صوبہ پنجاب اور بلوچستان سے ملانے والے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور تشدد کے واقعات تو اتر سے ہو رہے ہیں۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران پولیس اور دیگر اہلکاروں پر عسکریت پسندوں نے پانچ بار حملہ کیا ہے۔ تحصیل کلاچی میں دو ہفتوں کے دوران یہ دوسرا حملہ ہے۔ کلاچی میں دو پولیس اہلکاروں کے علاوہ فرنیٹر کانسٹیبلری (ایف سی) کے تین اہلکار ہلاک جبکہ تین عام شہری زخمی ہوئے تھے۔

پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے دیگر اہلکار وقتاََ فوقتاََ علاقے میں روپوش عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں بھی کرتے رہتے ہیں تاہم مکمل طور پر علاقے میں امن عامہ قائم نہیں ہو سکا ہے۔

ضلعی پولیس کے افسر دلاور خان بنگش نے عسکریت پسندوں کے حملے میں دو اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

دلاور بنگش نے علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا بھی بتایا ہے تاہم کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔

علاوہ ازیں تحصیل کلاچی میں اتوار کے روز بھی نامعلوم افراد نے ایک شہری پر فائرنگ کی جس سے محمد شعیب نامی شخص شدید زخمی ہوا۔

پولیس حکام نے اس واقعے کو بھی دہشت گردی کا واقع قرار دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG