رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین میں ملائشیائی طیارے کا حادثہ، تحقیقاتی ٹیم کا اجلاس


روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند اور یوکرین حکومتی فورسز مشرقی یوکرین میں جنگ میں مصروف تھیں جب یہ طیارہ تباہ ہوا۔ واقعہ کے فوری بعد، مغربی ماہرین اور حکومتوں نے جہاز کی تباہی کی ذمہ داری باغیوں پر عائد کردی تھی

بین الااقوامی تحقیقاتی ٹیم گزشتہ برس ملائشیا کے مسافر بردار طیارے کو یوکرین میں مار گرائے جانے کے شواہد کا جائزہ لینے کے لئے منگل کو نیدرلینڈ میں اکٹھی ہو رہی ہے۔

ڈنمارک کے استغاثہ کے مطابق، تین ہفتوں تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں نیدرلینڈ اور یوکرین کے بلاسٹک ہتھیاروں کے نظام، دھماکہ خیز اور دیگر امور کے تحقیقاتی ماہرین مل بیٹھیں گے اور معاملے کا گہرائی سے مطالعہ کریں گے۔

اجلاس واقعے کی مجرمانہ پہلو کی تحقیقات کی جانب اہم قدم ہوگا اور ٹھوس قانونی ثبوت حاصل کئے جا سکیں گے۔

ڈنمارک کی سیفٹی بورڈ نے گزشتہ ماہ یہ نتیجہ نکالا تھا کہ بوئنگ 77 کو 17 جولائی 2014ء کو روسی بک میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں جہاز فضا ہی میں پھٹ گیا اور اس کے تمام 298 مسافر، جن میں دو تہائی ڈنمارک کے شہری تھے، ہلاک ہوگئے تھے۔ لیکن، روس اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند اور یوکرین حکومتی فورسز مشرقی یوکرین میں جنگ میں مصروف تھیں، جب یہ طیارہ تباہ ہوا۔ واقعہ کے فوری بعد مغربی ماہرین اور حکومتوں نے جہاز کی تباہی کی ذمہ داری باغیوں پر عائد کردی تھی۔

نیدرلینڈ نے سانحہ کی سازش میں ملوث عناصر کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے ایک بین الااقوامی ٹربیونل قائم کرنے کی تجویز دی تھی۔ تاہم، کسی بھی مشتبہ شخص کا نام نہیں لیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG