رسائی کے لنکس

سول سوسائٹی کے اشتراک سے انتہاپسندی پر قابو پایا جاسکتا ہے: ماہرین


ٹائم اسکوائر (فائل)

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مشیر کے بقول، ''دہشت گرد حملوں سے بچنے کی کلید یہ ہے کہ خدشات کا بروقت پتا لگایا جائے، جس کا انحصار اپنی کمیونٹی پر ہے''۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے کام کا آغاز کمیونٹیز اور سکیورٹی فورسز کے مابین تشکیل پانے والے تعلقات پر منحصر ہے۔ یہ بات امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزارت کے مشیر، مائیلس ٹیلر نے کہی ہے۔

ٹیلر کے بقول، ''دہشت گرد حملوں سے بچنے کی کلید یہ ہے کہ خدشات کا بروقت پتا لگایا جائے، جس کا انحصار اپنی کمیونٹی پر ہے''۔

اس ضمن میں اُنھوں نے کہا کہ اس کا دارومدار عالمی سطح پر شدت پسندوں کو اُن کے معاشرے میں قائم محفوظ ٹھکانوں سے محروم کرنے پر ہے۔

ٹیلر نے یہ بات واشنگٹن میں جمعے کے روز پُرتشدد انتہاپسندی کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ شدت پسندی ''خلا میں نہیں پنپتی۔ لیکن، اس کا اندازہ دیگر معاشروں میں موجود منظم جرائم، سماجی بے چینی اور غنڈہ گردی کی حرکات سے لگایا جا سکتا ہے۔

مربوط حکمتِ عملی؟

پُرتشدد انتہا پسندی کے انسداد کے حوالے سے گذشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں مقامی برادریوں کو بااختیار کرنا شامل ہے، جس میں مذہبی راہنمائوں کی جانب سے قانون کا نفاذ کرنے والوں سے مل کر کام کرنا، صحت عامہ کے پیش ور حضرات، اساتذہ اور سماجی خدمات بجا لانے والے ملازمین کے روابط استوار کرنا شامل ہے۔

سال 2016 میں نئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا تجربہ یہ رہا ہے کہ ''کمیونٹی کے ساتھی یہ خوب جانتے ہیں کہ پُرتشدد انشہاپسندی کی جانب سے کس نوعیت کے خطرات پیش آسکتے ہیں، اور وہ مداخلت کرکے پہلے ہی مرحلے پر اس کا تدارک کرسکتے ہیں''۔

پُر تشدد انتہاپسندی سےنمٹنے کے لیے اختیار کردہ حکمتِ علمی محض جہادی گروہوں، کسی مخصوص خطے یا نظرئے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس میں سفید فام بالا دستی، نیو نازی اور انتہاپسند بائیں بازو کے گروہ بھی اس میں شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG