رسائی کے لنکس

logo-print

ای سی ایل میں شامل ناموں پر نظرثانی کی جائے: سپریم کورٹ


سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو ہفتے کے آخرتک جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی جبکہ وفاقی کابینہ کو 172 افراد کے نام ایگزٹ کنڑول لسٹ میں شامل کرنے کے معاملے پر نظر ثانی کی ہدایت کی ہے۔

پیر کو جعلی اکاؤنٹس پر ازخود نوٹس کے مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی۔

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے 172 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ وفاقی حکومت نے ان افراد کے نام ای سی ایل میں کیوں ڈالے؟

عدالت نے وزیراعلیٰ سندھ کاکا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے پر حیرانگی کا اظہارکیا اور کہا کہ کل چیئرمین نیب کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا جائے گا، شہریوں کی آزادی کا معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ نے متعلقہ وزیر کو عدالت طلب کیا۔جس کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی عدالت میں ہیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جے آیی ٹی نے ان افراد کے نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی تھی جس کے بعد کابینہ نے ان افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کیے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی نے اپنے حد سے تجاوز کیا ہے اور عدالتی سماعت کے بغیر نام کیسے ای سی ایل میں ڈالنے کا کہ سکتے ہیں۔

جے آیی ٹی سربراہ احسان صادق نے خط لکھنے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے اس کے کردار کو دیکھ کر سفارش کی جاتی ہے اور ہماری تشویش تھی کہ ٹیم نے بہت کام کیا ہے اور یہ لوگ ملک سے فرار نہ ہو جائیں۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اپنی وزارتِ اعلیٰ چھوڑ کر ملک سے کیا فرار ہو جائیں گے؟ چیف جسٹس نے احسان صادق کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ یہ سب بحران آپ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی فاروق ایچ نائیک سے متعلق سفارشات کالعدم قرار دے دیں ہیں۔

فاروق ایچ نائیک نے آصف علی زرداری کی وکالت سے معذرت کی تو عدالت نے ان کی پیش نہ ہونے کی استدعا مسترد کر دی۔ وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ فاروق ایچ نائیک آصف ذرداری کے وکیل ہیں، ان کو بھی جے آئی ٹی نے ملزم بنادیا، جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر فاروق ایچ نائیک نے زرداری اور فریال تالپور کی وکالت سے معذرت کی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ فاروق ایچ نائیک کو پیش ہونے سے کون روک سکتا ہے۔

عدالت نے آصف علی زرادری کے وکیل کو جواب جمع کروانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دیدی۔

جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے

چیف جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر سندھ حکومت گرانے کی اجازت نہیں دے سکتے، جمہوریت کو اس طرح ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔

اومنی گروپ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نجی ٹی وی دنیا ٹی وی نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو سماعت سے پہلے ہی نشر کر دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے قانون بنا کر اسمبلی کو بھجوائے ہیں، عدالت رپورٹ کی بنیاد پر حکومت گرانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ قوانین میں ترمیم کرنا اسمبلیوں کا کام ہے اور گورنر راج ایسے نہیں لگے گا حکومت کو اس کا جواز دینا پڑے گا۔

سپریم کورٹ نے وفاقی کابینہ کو 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے معاملے کی نظر ثانی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگلے کابینہ اجلاس میں معاملہ کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ جعلی بنک اکاونٹس کیس کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG