رسائی کے لنکس

logo-print

میں اور میرا ڈیجیٹل کلون


جب سے میرا ایک ڈیجیٹل کلون مارکیٹ میں آیا ہے، کلوننگ کے بارے میں میرے سارے شکوک وشہبات دور ہو گئے ہیں اور مجھے یقین ہو گیا ہے کہ کلوننگ سے صرف بھیڑیں اور بندر ہی نہیں بلکہ بندے بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ کلوننگ سے جو کم از کم آٹھ قسم کے حیوان بنائے گئے ہیں، ان میں اپنے ہم جنسوں والی عادات اور خصلیتں ہیں یا نہیں لیکن جو انسانی کلون سامنے آیا ہے، وہ ان بندوں میں سے ہے جو معاشرے اور مذاہب کی ہزاروں برسوں کی کوششوں کے باوجود انسان نہیں بن سکا۔

مجھے اپنے ڈیجیٹل کلون کا اس وقت پتا چلا جب پاکستان سے دوستوں اور عزیزوں کے فون اور ٹیکسٹ آنا شروع ہوئے کہ تم اچانک آکر سرپرائز دینا چاہتے تھے۔ لیکن ہمیں سب پتا چل گیا ہے کہ تم آج کل میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے والے ہو۔ میں نے انہیں کہا کہ اصل میں تم ایک ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں کی فضا افواہوں کے لیے بڑی سازگار ہے اور وہاں ہر لمحے حیران کن افوائیں پھیلتی رہتی ہیں ۔ میرا فی الحال ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ مجھے اس وقت بڑی حیرانی ہوئی جب میرا جواب سنتے ہی انہیں چپ لگ گئی۔ البتہ دو ایک بدلحاظ نکلے اور زور دے کر بولے کہ عجیب آدمی ہو، کبھی کہتے ہو کہ ایئر پورٹ پہنچ چکا ہوں اور بس اب جہاز میں بیٹھنے والا ہوں۔ اور اب کہتے ہو کہ نہیں آ رہا۔ یہ رہے تمہارے قول وفعل کے تضاد کے ثبوت۔

ثبوتوں نے مجھے بھی چکرا کر دیا۔ وہ میرے ہی فیس بک اکاؤنٹ کے میسج تھے۔ وہی تصویر، سب کچھ ہو بہو وہی۔ کسی نے میرے فیس بک اکاؤنٹ سے تمام تصویریں اور معلومات چرا کر میرے ہی نام سے نیا اکاؤنٹ کھول کر میرا ایک کلون کھڑا کر دیا تھا۔
اور پھر اس کلون نے میرے اکثر عزیزوں اور دوستوں کو اس مضمون کے میسج بھیجنے شروع کیے کہ میں پاکستان آ رہا ہوں، میں گھر چل پڑا ہوں، اب ایئر پورٹ پر ہوں، جہاز میں سوار ہونے والا ہوں۔۔۔ اور ہاں میرا ایک دوست ہے سعید خاور، اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور بیوی اسپتال کی ایمرجینسی میں پڑی ہے۔ بے چارے کو پیسوں کی سخت ضرورت ہے، اگر ہو سکے تو بھیج دو، میں پہنچتے ہی لوٹا دوں گا۔

یہ وہ جنیرک کہانی ہے جو پاکستان کے اکثر شہروں اور قصبوں کے گلی کوچوں، کاروباری مراکز، بس سٹاپوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر پیشہ ور ٹھگ سنا کر اپنی زندگی کی گاڑی کو دھکا لگا تے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ میرے دوستوں نے یہ کہانی سن کر نہیں بلکہ میرے نام پر اس کے دیے گئے فون نمبر وں پر پیسے بھجوا دیے، اور اسی لیے ان میں سے اکثر مجھے یہ بتانے سے ہچکچا رہے ہیں کہ کلون کے ہاتھوں شکار ہو چکے ہیں۔ میرے ایک دوست اسد اشتياق چھٹیاں گزارنے پاکستان گئے ہیں، انہیں بھی پردیس میں کلون کا مالی جھٹکا سہنا پڑا۔

میں ان کے خلوص اور محبت کی قدر کرتا ہوں لیکن میری ان سے بھی اور سب لوگوں سے گزارش ہے کہ جدید الیکٹرانک پلیٹ فارم استعمال کرتے وقت کلونوں اور جعل سازوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ دنیا بھر میں سائبر کرائمز کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

دھو کہ دہی اور جعل سازی کے واقعات امریکہ میں بھی بہت ہوتے ہیں۔ ایک بار میں نے بھی سیل کے لالچ میں ایک بڑی رقم گنوا دی تھی۔ تاہم خیریت گذری، یہاں بینکوں اور کریڈٹ کے ذریعے لین دین محفوظ ہوتا ہے۔ میرے بینک نے مجھے ڈوبی ہوئی رقم لوٹا دی تھی۔ افسوس یہ ہے کہ اس واقعہ میں بھی ایک پاکستانی ملوث تھا جس نے ایک بڑی الیکٹرانک کمپنی کی جعلی ویب سائٹ بنا کر مصنوعات کی تقریباً آدھی قیمت پر سیل لگا رکھی تھی۔

حیرت کی بات یہ ہے امریکہ اور کئی ترقی یافتہ ملکوں میں انٹرنیٹ، فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے دھو کہ دہی اور جعل سازی میں زیادہ تر تیسری دنیا کے غریب ملکوں کے افراد اور گروہ ملوث ہیں اور بیرون ملک ہونے کی وجہ سے مقامی قوانین کی گرفت میں آنے سے محفوظ رہتے ہیں۔

مجھے خیال آتا ہے کہ تیسری دنیا کے لوگ شاید اس لیے بھی غریب رہ گئے ہیں کیونکہ ان کی ذہانت اور مہارت کا مثبت استعمال نہیں ہو رہا۔ وہ ہیکنگ اور جعلی ویب سائٹس سے لے وہ دھو کہ دہی کی ایسی ایسی کارروائیاں کرتے ہیں جو ہمارے اور آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتیں۔ اگر وہ آؤٹ سورسنگ کی کھربوں ڈالر کی منڈی میں اپنی یہ ذہانت اور مہارت اگر سافٹ ویئر اور آئی ٹی کے دیگر شعبوں استعمال کریں تو دل اور ضمير کے اطمینان کے ساتھ کہیں زیادہ کما سکتے ہیں ۔بچپن میں کسی بزرگ سے سنا تھا کہ ہر شخص کے مقدر میں جتنا کچھ ہے وہ اس کی لوح حیات پر لکھا ہوتا ہے۔ اب یہ خود اس پر منحصر ہے کہ وہ اسے جائز طریقے سے حاصل کرتا ہے یا ناجائز راستے راستہ اختیار کرتا ہے۔

بزرگوں کی بات اگر کلونوں کی سمجھ آ جائے تو کیا وہ انسان نہ بن جائیں

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG