رسائی کے لنکس

logo-print

سوشل میڈیا پر کراچی میں خانہ جنگی کی جھوٹی خبروں کی مہم کیوں روکی نہیں جا سکی؟


کراچی میں خانہ جنگی سے متعلق فیک نیوز پی ڈی ایم کے جلسے اور مسلم لیگی رہنما کیپٹن صفدر کی مبینہ گرفتاری کے بعد پھیلنی شروع ہوئیں۔

19 اکتوبر کو کراچی میں پولیس کے ہاتھوں کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور اس کے پیچھے ملک کی طاقتور فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے مبینہ دباؤ کی خبریں سامنے آنے کے بعد بھارتی میڈیا ہاؤسز اور ان کے سوشل میڈیا پیجز پر ایسی کئی خبریں شائع ہوئیں جن میں ان واقعات کو بنیاد بنا کر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خانہ جنگی کی من گھڑت خبریں شائع کی گئیں۔

کئی خبروں میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں صوبائی حکومت کو برطرف کر کے فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو فوج نے حراست میں لے لیا ہے۔ خبروں کے مطابق اس معاملے پر پولیس اور عام شہریوں کی جانب سے مزاحمت بھی کی گئی جس کے نتیجے میں ان رپورٹس کے مطابق بعض ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

ایسی خبریں بھارت کے کئی سر فہرست میڈیا آؤٹ لیٹس کے علاوہ ٹوئٹر کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس سے بھی شئیر کی گئی ہیں، جن میں زی نیوز، سی این این، آئی بی این، انڈیا نریٹو اور ٹائمز ناؤ جیسے بڑے میڈیا آوٹ لیٹس بھی شامل ہیں۔

ایسے میں پاکستانی صارفین کے اکاؤنٹس سے اس طرح کی بے بنیاد خبروں پر طنز و مزاح سے کام لیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ردعمل میں پوسٹس شیئر کی گئیں اور ان پر خوب مذاق بھی اڑایا گیا۔

اسی طرح بعض بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹس کی خبروں کے مطابق پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے ایک بار پھر گرے لسٹ ہی میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ خبروں کے مطابق اس عمل میں پاکستان کے قریبی حلیف ملک سمجھنے جانے والے سعودی عرب نے بھی پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں پلینری کمیٹی کا فیصلہ جمعے تک متوقع ہے۔

"بے بنیاد معلومات فراہم کرنے والے اکاونٹس کو بند کیا جائے": پی ٹی اے کا ٹوئٹر انتظامیہ سے مطالبہ

دوسری جانب پاکستان میں انٹرنیٹ کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے حکام کے اعلامیے کے مطابق پی ٹی اے نے ٹوئٹر انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ مواد کو اعتدال پر رکھنے والی اپنی ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کرے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پلیٹ فارم غلط ملعلومات کے پھیلاؤ کے لئے پراپگینڈہ ہتھیار کے طور پر استعمال نہ ہو۔

پی ٹی اے کا بیان
پی ٹی اے کا بیان

پریس ریلیز کے مطابق پی ٹی اے نے کہا ہے کہ پاکستان، اس کے شہروں اور اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے غلط اور بے بنیاد معلومات پھیلانے کی موجودہ مہم کے تناظر میں ٹوئٹر اس مہم میں شامل ہینڈلز کو موثر طریقے سے بلاک کرے۔

پی ٹی اے نے اس بات پر مایوسی کا اظہارکیا کہ بے بنیاد معلومات کے پھیلاؤ میں ٹوئٹر کے بعض تصدیق شدہ اکاؤنٹس بھی شامل ہیں جو اب بھی استثنیٰ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ پی ٹی اے نے ٹوئٹر انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ اپنے اصولوں اور پالیسیوں کے مطابق ایسے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کرے۔

دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایسی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ سعودی عرب نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ ترجمان نے ایسی خبروں کو جھوٹا پراپگینڈہ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ اور دیرینہ تعلقات ہیں، جنہوں نے ہمیشہ باہمی، علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ تعاون کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق ایف اے ٹی ایف پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر فیصلہ پلینری کمیٹی کے اجلاس کے اختتام کے بعد سنائے گی۔

"سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کو رپورٹ کرنے کا طریقہ کار موجود ہے"

پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والے کئی ماہرین کے مطابق بھارت اور پاکستان کے ایک دوسرے کے خلاف پراپیگینڈے پر مبنی جھوٹی خبروں کی اشاعت کے پیچھے موجود ان دونوں ممالک کی پیچیدہ اور خراب تعلقات کے پس منظر کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لئے سرگرم عمل غیر سرکاری ادارے 'بائٹس فار آل' کے کنٹری ڈائریکٹر شہزاد احمد کے مطابق اگرچہ سوشل میڈیا پر غلط خبروں کے خلاف رپورٹ کرنے کا طریقہ کار موجود ہے، لیکن عام آدمی کی معلومات محدود ہونے کی بنا پر سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں تیزی پھیل جاتی ہیں اور سچ سامنے آنے تک یہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہوتی ہے اور اس کا نقصان بھی ہو چکا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ان جھوٹی خبروں کی اشاعت پر اب تک کارروائی کیوں نہیں کی؟

اس سوال پر کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ایسی شکایات حکومت پاکستان رپورٹ کرتی ہے یا نہیں اور اگر کرتی ہے تو اس پر ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔ شہزاد احمد کا کہنا تھا کہ یہاں معاملہ ترجیح کا آتا ہے۔ ان کے خیال میں حکومت کی ترجیح ان سوشل میڈیا اکاوئنٹس کا سدباب کرنا ہے جو ملک کے اندر سے آپریٹ کیے جاتے ہوں اور وہ حکومت یا ریاستی اداروں کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوں۔ تاہم وہ اکاؤنٹس جو بیرون ملک سے آپریٹ ہوتے ہیں، ان کے خلاف ایکشن لینا شاید حکومت کی ترجیح نہیں۔

شہزاد احمد کے بقول اگرچہ فیس بُک اور ٹوئٹر سمیت کئی میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ حکومت پاکستان کی ورکنگ ریلیشن شپ یا تعاون کی کوئی نہ کوئی شکل موجود ہے لیکن اسے آج تک پبلک نہیں کیا گیا۔ اسی تعاون کی بنیاد پر اگر کوئی مواد ہٹانا ہو یا کوئی اکاؤنٹ بند کرنا ہو تو فوری کارروائی ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر اس مواد کو ہٹانا حکومتی ترجیح میں شامل نہیں تو پھر یہی کچھ ہو گا جو ہم گزشتہ دو روز سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔

ڈیجیٹل رائٹس کے لئے کام کرنے والے ہارون بلوچ کا کہنا ہے کہ قانون انہی کی مدد کو آتا ہے جو خود چوکنا ہوں۔ انہوں نے بھی سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کسی شخص کے اکاؤنٹ کو بند کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو شکایت کر سکتی ہے تو ملک کے خلاف ہونے والے اس بھرپور پراپیگنڈے اور مس انفارمیشن پر ان اداروں سے کیوں رابطے نہیں کرتی؟

ہارون بلوچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کی روک تھام کے لیے ہر ملک میں ان پلیٹ فارمز کے کچھ با اعتبار ساتھی ادارے بھی موجود ہوتے ہیں جن کے ذریعے بھی ایسی خبروں کی تصدیق یعنی فیکٹ چیکنگ کی جاتی ہے۔ ایسے اداروں میں بسا اوقات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے والے غیر سرکاری ادارے، نیوز ایجنسیز یا اس قسم کے دوسرے انسانی حقوق کے ادارے ہوتے ہیں اور اگر وہ ادارے ایسی جعلی خبروں کی شکایات کریں تو ان کا ازالہ بھی تیزی سے کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں غیر سرکاری سطح پر کام کرنے والے کئی ایسے اداروں نے یہ چیزیں رپورٹ بھی کی ہیں۔ لیکن اگر سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کو ہٹانے کے لئے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو یقیناً اس کی وجہ ریاستی سطح پر کوششوں کی کمی ہے اور یہ پلیٹ فارمز اس وقت تک ایکشن نہیں لیتے جب تک باقاعدہ طور پر اس کی شکایت درج نہیں کی جاتی۔

کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان کے بارے میں متعصبانہ سوچ رکھتے ہیں؟

اب جب کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ایسی من گھڑت خبروں کی اشاعت اور انہیں پھیلانے کے ذمہ دار اکاؤنٹس کے خلاف شکایت درج کرائی جا چکی ہے تو اس پر کارروائی نہ ہونے سے مزید کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے کئی صارفین اور عام شہری بھی یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ آخر اس قدر جھوٹی اور بے بنیاد خبریں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو، وہ کیسے سوشل میڈیا پر گردش کرتی نظر آتی ہیں؟ کیا اس بارے میں فیس بُک، ٹوئٹر انتظامیہ کی ازخود کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟ اور اگر یہی صورت حال رہی تو سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر کوئی کیسے اعتماد اور اعتبار کرے گا؟

اس بارے میں ماہرین کی رائے منقسم نظر آتی ہے۔ بعض کے خیال میں یہ تاثر کسی حد تک درست ہے جس کی وجہ بھارت میں فیس بک اور ٹوئٹر کو ملنے والی بڑی مارکیٹ اور بھاری آمدنی ہے۔ جب کہ بعض ماہرین کے بقول ہو سکتا ہے کہ اس بارے میں کسی ایک واقعے میں صورت حال کو ٹھیک طور پر جانچا نہ گیا ہو۔

پاکستانی حکومت کے کئی عہدے دار اور بعض وزراء بھی ماضی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے پاکستان کے بارے میں جانبدارانہ رویے کی شکایت کر چکے ہیں۔

شہزاد احمد کہتے ہیں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو انٹرنیٹ کے بہتر اور کارآمد استعمال کا عادی بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر ملک میں قانون کی حکمرانی کو ممکن بنایا جائے تاکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی یورپی ممالک کی طرح یہاں پر بھی کسی غلط خبر پر بھاری جرمانے یا پھر معطلی سمیت دیگر قانونی پیچیدگیوں اور بندشوں کا خوف ہو اور وہ اپنے پلیٹ فارمز کو جھوٹی خبروں کے مرکز کے طور پر استعمال نہ ہونے دیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG