رسائی کے لنکس

logo-print

فوجی افسروں کے نام سے جعلی فون کالز، سیکڑوں افراد لٹ گئے


ایک شخص اپنی شناخت چھپا کر فون کال کر رہا ہے۔ فائل فوٹو

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ جعلی فوجی افسر بن کر کالز کرنے والے فراڈیے معمر افراد کے نام پر چوری کی گئی معلومات کے ذریعے حاصل سموں سے فراڈ کررہے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ مسلح افواج کے نام سے جعلی فون کالز کرنے والے افراد سے محتاط رہیں اور کسی بھی شخص سے اپنی ذاتی معلومات شیئر کریں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے عوام کے لئے آگاہی پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں عوام کو خبردار کیا ہے کہ بعض افراد مسلح افواج کے اہل کار بن کر لوگوں کو ٹیلی فون کررہے ہیں جس میں عوام سے مردم شماری کی تصدیق کے نام پر تفصیلات میں شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے پوچھا جا رہا ہے۔ بعد ازاں اس حاصل شدہ معلومات کے ذریعے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے بھاری رقوم اندرون وبیرون ملک اکاؤنٹس میں منتقل کرکے لاکھوں روپے لوٹے جارہے ہیں۔

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جعلی فون کالز مسلح افواج کے افسران کے نام سے کی جارہی ہیں لیکن حقیقت میں پاک فوج کی جانب سے ایسی کوئی کالز نہیں کی جارہی ہیں۔ لہٰذا ذاتی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کی جائیں اور اس حوالے سے یو اے این ٹیلی فون نمبر 1135 اور 1125 پر کال کرکے اپنی شکایات درج کروائیں۔

دوسری جانب ایف آئی اے ذرائع کے مطابق جعلی فوجی افسران سے لٹنے والے شہریوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور گذشتہ چھ ماہ میں صرف پنجاب میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد کی ذاتی بینک معلومات حاصل کرنے کے بعد لوٹ لیا گیا ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائمز سیل نے شہریوں کی درخواستوں پر اسپیشل سیل قائم کردیا ہے جہاں ان شکایات پر کارروائی کی جارہی ہے لیکن اب تک کوئی قابل ذکر گرفتاری نہیں ہو سکی۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ جعلی فوجی افسر بن کر کالز کرنے والے فراڈیے معمر افراد کے نام پر چوری کی گئی معلومات کے ذریعے حاصل سموں سے فراڈ کررہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر گروہ سرگودھا، جھنگ، منڈی بهاءالدين، گجرات اور گوجرانوالہ ڈویژن سے کام کررہے ہیں۔

پنجاب کے مختلف شہروں کے سینکڑوں افراد فون کالز پر بینک اکاؤنٹس کا ڈٰیٹا دے کر کروڑوں روپے گنوا چکے ہیں۔

پاک فوج کا ترجمان ادارہ اس سے قبل بھی ایک بار انتباہ جاری کر چکا ہے لیکن اس کے باوجود اب تک شہری لٹ رہے ہیں اور ایف آئی اے سائبر کرائمز سیل اس میں ملوث گروہوں کے خلاف قابل ذکر کارروائی نہیں کر سکا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG