رسائی کے لنکس

بھارت: متنازع زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں ایک اور کسان کی خود کشی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت کی حکومت کی جانب سے منظور کیے جانے والے متنازع زرعی قوانین کے خلاف جاری احتجاج کے دوران ایک 75 سالہ سکھ کسان نے دارالحکومت نئی دہلی اور ریاست اتر پردیش (یو پی) کے درمیان غازی پور سرحد پر خود کشی کر لی۔

باپو کے نام سے مشہور خود کشی کرنے والے کسان کا نام کشمیر سنگھ تھا اور وہ اتر پردیش کے ضلع رام پور کا رہائشی تھا۔

رپورٹس کے مطابق ہفتے کی صبح اس کی لاش ایک ٹوائلٹ میں رسی سے لٹکی ہوئی ملی۔ جس کے قریب سے ایک نوٹ بھی ملا۔ جس میں اس نے مذکورہ زرعی قوانین کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے لکھا ہے کہ وہ حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی ناکامی سے بہت مایوس ہے۔

اس نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ متنازع قوانین واپس لے۔

کسانوں کی اتر پردیش کی ایک تنظیم ‘بھارتیہ کسان یونین’ کے مطابق کشمیر سنگھ نے اپنے نوٹ میں موت کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھیرایا ہے اور کہا ہے کہ اس کے اوپر اس کے اہل خانہ کا یا کسی کا دباؤ نہیں تھا۔

اس نوٹ میں مبینہ طور پر یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ وہ کب تک اس سردی میں یہاں بیٹھے رہیں گے۔ یہ حکومت ان کی بات نہیں سن رہی۔ لہٰذا وہ اپنی جان دے رہے ہیں۔ تاکہ مسئلے کا کوئی حل نکلے۔

بھارت: زرعی بلوں کی منظوری کے خلاف ملک گیر احتجاج

<span dir="RTL">بھارت میں تقریباً 55 برس پرانے &#39;ایگریکلچر پروڈیوز مارکیٹنگ کمیٹی قانون&#39; کی رو سے کسان اپنی پیداوار کو ملک کی سرکاری منڈیوں میں کمیشن ایجنٹوں کے ذریعے فروخت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں بڑے ادارہ جاتی خریداروں کے استحصال سے بچانا ہے۔</span><br />
&nbsp;
1/10 بھارت میں تقریباً 55 برس پرانے 'ایگریکلچر پروڈیوز مارکیٹنگ کمیٹی قانون' کی رو سے کسان اپنی پیداوار کو ملک کی سرکاری منڈیوں میں کمیشن ایجنٹوں کے ذریعے فروخت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں بڑے ادارہ جاتی خریداروں کے استحصال سے بچانا ہے۔
 
<p>حکومت کا کہنا ہے کہ ان بلوں کی منظوری کے بعد کسانوں کو مزید مواقع حاصل ہوں گے۔ کاشت کاروں کو منڈیوں کے ایجنٹوں سے نجات مل جائے گی۔&nbsp;کمیشن ایجنٹوں کے کردار کا خاتمہ ہو جانے سے کسانوں اور صارفین دونوں کا فائدہ ہو گا۔</p>
2/10

حکومت کا کہنا ہے کہ ان بلوں کی منظوری کے بعد کسانوں کو مزید مواقع حاصل ہوں گے۔ کاشت کاروں کو منڈیوں کے ایجنٹوں سے نجات مل جائے گی۔ کمیشن ایجنٹوں کے کردار کا خاتمہ ہو جانے سے کسانوں اور صارفین دونوں کا فائدہ ہو گا۔

<span dir="RTL">حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ زرعی بلوں سے کسانوں کے مفادات متاثر ہوں گے۔ </span>حکومت جس طرح بہت سے سرکاری شعبے نجی کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت کر رہی ہے، اسی طرح وہ اب زرعی شعبے کو بھی کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں بیچنا چاہتی ہے۔​
3/10 حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ زرعی بلوں سے کسانوں کے مفادات متاثر ہوں گے۔ حکومت جس طرح بہت سے سرکاری شعبے نجی کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت کر رہی ہے، اسی طرح وہ اب زرعی شعبے کو بھی کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں بیچنا چاہتی ہے۔​
<span dir="RTL">نئے قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ وہ یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ رفتہ رفتہ حکومت کی مقرر کردہ کم از کم قیمت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور زرعی شعبہ نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔</span>
4/10 نئے قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ وہ یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ رفتہ رفتہ حکومت کی مقرر کردہ کم از کم قیمت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور زرعی شعبہ نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔
<span dir="RTL">زرعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بلوں کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں، کیوں کہ جہاں بھی اس طرح کا تجربہ کیا گیا ہے، وہاں کسانوں کا ہی نقصان ہوا ہے۔</span><br />
&nbsp;
5/10 زرعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بلوں کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں، کیوں کہ جہاں بھی اس طرح کا تجربہ کیا گیا ہے، وہاں کسانوں کا ہی نقصان ہوا ہے۔
 
متنازع بلوں کے خلاف جمعے کو تقریباً 300 کاشت کار تنظیموں اور 20 سے زائد اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر احتجاج کیا اور ریلیاں نکالیں جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں ریل اور سڑک کے ذریعے رابطے متاثر ہوئے۔<br />
<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
6/10 متنازع بلوں کے خلاف جمعے کو تقریباً 300 کاشت کار تنظیموں اور 20 سے زائد اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر احتجاج کیا اور ریلیاں نکالیں جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں ریل اور سڑک کے ذریعے رابطے متاثر ہوئے۔

 
 
کسانوں نے ٹریکٹرز اور واٹر ٹینکرز کی مدد سے مرکزی شاہراہیں اور ہائی ویز بند کیں جس سے ٹریفک کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا۔
7/10 کسانوں نے ٹریکٹرز اور واٹر ٹینکرز کی مدد سے مرکزی شاہراہیں اور ہائی ویز بند کیں جس سے ٹریفک کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا۔
بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں بعض کسان احتجاجی طور پر ریلوے ٹریک پر لیٹ گئے جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت رک گئی۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
8/10 بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں بعض کسان احتجاجی طور پر ریلوے ٹریک پر لیٹ گئے جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت رک گئی۔
 
 
کاشت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک حکومت ان بلوں کو واپس نہیں لے گی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
9/10 کاشت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک حکومت ان بلوں کو واپس نہیں لے گی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
احتجاج کے دوران کسی بھی ناخوش گوار صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔
10/10 احتجاج کے دوران کسی بھی ناخوش گوار صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔
Previous slide
Next slide

خود کشی کے اس نوٹ کو، جو کہ گورمکھی زبان میں لکھا ہوا ہے، پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے اور کسان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی ہے۔

احتجاج میں شریک افراد نے بتایا کہ اسٹیج سے کشمیر سنگھ کی خود کشی کا اعلان کیا گیا تھا۔

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان دھرمیندر ملک نے بتایا کہ کشمیر سنگھ، اس کا بیٹا اور پوتا بھی کئی دن سے احتجاج میں شریک تھے۔

دھرمیندر کے بقول وہ لوگ احتجاج کرنے والے کسانوں کے لیے لنگر کے انتظام میں لگے ہوئے تھے۔

کسانوں کے احتجاج کے دوران خود کشی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

اس سے قبل 16 دسمبر کو ریاست ہریانہ کے کرنال علاقے کے رہائشی 65 سالہ مذہبی رہنما بابا رام سنگھ نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی تھی۔

'یہ چولہا جلتا رہے گا'، دہلی میں کسانوں کا دھرنا جاری
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:42 0:00

بابا رام سنگھ نے بھی نوٹ چھوڑا تھا۔ جس میں انہوں نے متنازع زرعی قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت اور کسانوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی ناکامی سے مایوس ہو کر اپنی جان دے رہے ہیں۔

اب تک سنگھو اور غازی پور سرحد پر احتجاج کے دوران 46 کسانوں کی موت ہو چکی ہے۔ جن میں سے دو نے خودکشی کی اور باقی کسان مختلف وجوہات سے ہلاک ہوئے۔ احتجاج میں شریک کسی کسان کی سردی لگنے سے موت ہوئی تو کسی کی کسی عارضے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے۔

بھارتیہ کسان یونین کے اعلان کے مطابق احتجاج کے دوران فوت ہونے یا خودکشی کرنے والے کسانوں کو شہید کا درجہ دیا جائے گا۔

متنازع زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج 38 روز سے جاری ہے۔ حکومت اور کسانوں کے درمیان بات چیت کے سات ادوار ہو چکے ہیں۔

دونوں فریقین کے درمیان آخری بات چیت 30 دسمبر کو ہوئی تھی۔ جس میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم قوانین واپس لینے کے مطالبے پر تعطل برقرار ہے۔

اگلے دور کی بات چیت چار جنوری کو ہوگی۔

بھارت: زرعی بلوں کے خلاف اپوزیشن اور کسان سڑکوں پر
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:25 0:00

کسانوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس بات چیت کا بھی کوئی نیتجہ نہیں نکلا تو وہ رواں ماہ 6 جنوری کو ہریانہ کے ‘کے ایم پی ایکسپریس’ پر ٹریکٹر مارچ کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں وہ 26 جنوری کو یعنی بھارت کے ‘یومِ جمہوریہ’ پر دارالحکومت نئی دہلی میں ٹرالی ریلی نکالیں گے۔

یاد رہے کہ اس روز مسلح افواج انڈیا گیٹ سے لال قلعے تک عسکری طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے اور مختلف ریاستوں کی جانب سے ترقیاتی سرگرمیوں کی تمثیلی ریلی نکالی جاتی ہے۔

کسانوں کے ایک رہنما درشن پال نے اعلان کیا ہے کہ اس ریلی کے علاوہ 23 جنوری کو گورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پانچ جنوری کو سپریم کورٹ میں زرعی قوانین کے معاملے پر سماعت بھی ہونے والی ہے۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

This item is part of
XS
SM
MD
LG