رسائی کے لنکس

logo-print

اپنے کرداروں کے ذریعے بولنے والے فاروق قیصر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے


فاروق قیصر کی وجہ شہرت اسکرپٹ رائٹنگ اور اداکاری کے ساتھ ساتھ ان کی صوتی فنکاری تھی۔ (فائل فوٹو)

نامور مزاح نگار، اداکار، کارٹونسٹ اور شاعر فاروق قیصر کے انتقال نے جہاں ان کے لاکھوں مداحوں کو سوگ میں مبتلا کر دیا وہیں پاکستان میں پتلی تماشہ کا ایک باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

پچھتر سالہ فاروق قیصر کا رواں ہفتے جمعے کی شب اسلام آباد میں حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال ہوا۔

فاروق قیصر کی وجہٴ شہرت اسکرپٹ رائٹنگ اور اداکاری کے ساتھ ساتھ ان کی صوتی فنکاری تھی جس میں وہ پسِ پردہ رہ کر اپنے کرداروں سے وہ کچھ کہلواتے تھے جو خود نہیں کہہ سکتے تھے۔

ٹیکسٹائل ڈیزائننگ میں ڈسٹنکشن حاصل کرنے والے اس فنکار کو کیا معلوم تھا کہ پاکستان کی فضائیہ میں سلیکشن نہ ہونے پر انہیں قسمت نیشنل کالج آف آرٹس لے جائے گی جہاں سے وہ فن کی ان بلندیوں کو چھونے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کا انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔

فاروق قیصر نے 1971 سے 2021 تک 50 سال کے دوران جہاں دو سے تین نسلوں کو اپنے فن سے محظوظ کیا وہیں آخری وقت تک انہوں نے مسکراہٹ بکھیرنے کے سلسلےکو ختم نہیں ہونے دیا۔

اپنے آخری دنوں تک ان کے بنائے گئے کارٹون اخبارات کی زینت بنتے رہے اور وہ حالات حاضرہ پر تبصرے کے لیے اپنے ہی تخلیق کیے ہوئے کرداروں کا سہارہ لیتے رہے۔

اکتیس اکتوبر 1945 کو پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے فاروق قیصر نے جامعہ پنجاب سے 1971 میں گریجویشن کی اور پھر 1972 میں نیشنل کالج آف آرٹس سے ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کی ڈگری لی۔

اسی دوران فاروق قیصر نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے لاہور سینٹر سے 'اکڑ بکڑ' کے ذریعے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا۔

چار دہائیوں کے دوران فاروق قیصر نے ڈیڑھ سو سے زائد پتلی کردار تخلیق کیے۔ جس میں سے انکل سرگم، ماصی مصیبتے، ہیگا، رولا، شرمیلی، نونی پو، فارغ البال اور بونگا لوگوں کو آج بھی یاد ہیں۔ (فائل فوٹو)
چار دہائیوں کے دوران فاروق قیصر نے ڈیڑھ سو سے زائد پتلی کردار تخلیق کیے۔ جس میں سے انکل سرگم، ماصی مصیبتے، ہیگا، رولا، شرمیلی، نونی پو، فارغ البال اور بونگا لوگوں کو آج بھی یاد ہیں۔ (فائل فوٹو)

سن 1975 میں رومانیہ کی بخارسٹ یونی ورسٹی سے گرافک آرٹس میں ماسٹرز کرنے کے بعد جب فاروق قیصر وطن واپس آئے تو انہوں نے 'کلیاں' کا باقاعدہ آغاز کیا جس میں نہ صرف وہ اداکاری کرتے تھے بلکہ اسکرپٹ بھی خود ہی تحریر کرتے تھے۔

کلیاں ویسے تو صرف چار سال جاری رہا تاہم بعد میں مختلف ناموں سے فاروق قیصر اس کو پیش کرتے رہے جس میں 'پتلی تماشہ'، 'سرگم ٹائم'، 'سرگم سرگم'، ڈاک ٹائم'، 'کلیاں پلس'، 'خواب ستارے'، 'سیاسی کلیاں' اور 'سرگم بیک ہوم' شامل تھے۔

شرمیلی کا کردار اور بشریٰ انصاری

چار دہائیوں کے دوران فاروق قیصر نے 150 سے زائد پتلی کردار تخلیق کیے جس میں سے انکل سرگم، ماسی مصیبتے، ہیگا، رولا، شرمیلی، نونی پو، فارغ البال اور بونگا لوگوں کو آج بھی یاد ہیں۔

ستر کی دہائی میں 'شرمیلی' کے پیچھے وائس اوور کرنے والی بشریٰ انصاری، فاروق قیصر ہی کی دریافت تھیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ فاروق قیصر نہ صرف ایک اچھے انسان تھے بلکہ اپنی نوعیت کے پاکستان میں واحد آرٹسٹ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ فاروق قیصر کا جانا ایک ہی ہفتے میں میرے لیے دوسرا دھچکہ ہے۔ ان کے بقول ان کی بہن سنبل کے انتقال پر فاروق قیصر نے انہیں پرسا دیا، میسج کیا اور اب ایک دم سے وہ بھی چلے گئے، ایک دھکا لگا اور دل کو۔

بشریٰ انصاری کے بقول فاروق قیصر کے ساتھ ان کی بہت سی اچھی یادیں ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فاروق قیصر جو کام رومانیہ سے سیکھ کر آئے تھے اس سے انہوں نے بہت فائدہ اٹھایا، ساتھ ہی ساتھ ہم سب کو بہت کچھ سکھایا۔ پتلیوں سے کیسے کام لیا جاتا ہے؟ ان کو کیسے آواز دیتے ہیں اور بعد میں اس آواز میں گانا کیسے گاتے ہیں؟ یہ سب کلیاں کے دوران انہوں نے سکھایا۔

بقول بشریٰ انصاری انہی پتلیوں کے ذریعے فاروق قیصر نے کافی ایشوز کو چھیڑا اور عوام کو آگاہی دی۔ وہ ایک اچھے رائٹر کے ساتھ ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے جن کے اندر مزاح بھی تھا اور طنز بھی تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ جب انہوں نے کام کیا تو وہ بالکل نئی نئی فیلڈ میں آئیں تھی۔ ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ ہر چیز کرنے کا شوق بھی تھا۔ ان کی پتلی کا نام شرمیلی تھا جس میں پرفارمنس سے انہوں نے جان ڈالی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات کی سب سے زیادہ خوشی ہے کہ فاروق قیصر کو ان پر فخر تھا۔ جب بھی ملتے تھے اپنی بیگم سے یہی کہتے تھے کہ 'بشری کی کیا بات ہے'۔

بشریٰ انصاری کے مطابق ابھی 23 مارچ کو ان کے ساتھ ہی ان کو ستارہٴ امتیاز ملا اور وہ ساتھ ہی بیٹھے تھے برابر میں۔ جب بھی ملے شفقت سے ملے اور زیادہ ملنے کو کہتے تھے۔

اس کردار کے ذریعے نہ صرف انہوں نے بچوں بلکہ بڑوں کی بھی اصلاح کی اور نسل در نسل معیار بھی برقرار رکھا۔

پاکستان کے جم ہینسن

فاروق قیصر کو پاکستان کے جم ہینسن کا خطاب بھی دیا گیا۔

یہ خطاب کسی اور نے نہیں بلکہ 'سیسمی اسٹریٹ ' اور 'دی مپٹس' کے خالق جم ہینسن نے خود دیا تھا۔

'فن کی دنیا کا ایک ستارہ ڈوب کیا'

فاروق قیصر نے کئی ایسے لازوال کردار بھی تخلیق کیے جنہیں لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں جیسے اداکار ہاشم بٹ کا 'گورا صاحب' کا کردار جسے اس کا گائیڈ ناصر اقبال ہر مرتبہ نئے طریقے سے بے وقوف بنا کر ڈالر لیتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ہاشم بٹ کا کہنا تھا کہ فاروق قیصر جیسا فنکار اب دوبارہ ہمیں نہیں مل سکتا۔

ان کے بقول انہوں نے جو بھی کردار تخلیق کیے، وہ امر ہوگئے۔

فاروق قیصر کو پاکستان کے جم ہینسن کا خطاب بھی دیا گیا۔ یہ خطاب کسی اور نے نہیں بلکہ 'سیسمی اسٹریٹ ' اور 'دی مپٹس' کے خالق جم ہینسن نے خود دیا۔ (فائل فوٹو)
فاروق قیصر کو پاکستان کے جم ہینسن کا خطاب بھی دیا گیا۔ یہ خطاب کسی اور نے نہیں بلکہ 'سیسمی اسٹریٹ ' اور 'دی مپٹس' کے خالق جم ہینسن نے خود دیا۔ (فائل فوٹو)

ہاشم بٹ کا کہنا تھا کہ ان کا اور فاروق قیصر کا ساتھ تین دہائیوں پرانا تھا اور کلیاں میں ان کا گورا صاحب والا کردار مقبول بنانے کے پیچھے انہی کا ہاتھ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک ساتھ کلیاں سمیت بہت کام کیا اور انہیں فخر ہے کہ ان کے ان سے قریبی تعلقات تھے اور آج ان کے انتقال سے پاکستان کی شوبز انڈسٹری ایک شفیق انسان، بہترین استاد اور بہترین فنکار سے محروم ہوگئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فاروق قیصر کا نعم البدل اب ہمیں مل نہیں سکتا۔

'کلیاں بمقابلہ ففٹی ففٹی میں فتح ہمیشہ ناظرین کی ہوتی تھی'

سن 1980 میں جب پاکستان ٹیلی ویژن سخت سینسرشپ سے گزر رہا تھا تو کراچی سے انور مقصود اور اسلام آباد سے فاروق قیصر اپنے اپنے پروگرام 'ففٹی ففٹی' اور 'کلیاں' کے ذریعے ناظرین کو طنز و مزاح سے بہت کچھ سکھانے اور بتانے کی کوشش کرتے تھے۔

تاہم ان دونوں پروگراموں کی آپس میں مقابلے بازی بھی شائقین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتی تھی۔

فاروق قیصر کے پرانے دوستوں میں سے ایک ٹی وی پروڈیوسر ایوب خاور کا کہنا تھا کہ دونوں مشہور پروگراموں کی مقابلے بازی میں جیت ہمیشہ ناظرین کی ہوتی تھی۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ اگر کلیاں میں دکھایا جاتا تھا کہ ایک ففٹی ففٹی نامی مریض اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور اسے جو ڈرپ لگی ہوئی ہے، اس پر کلیاں لکھا ہے تو اس کا بھرپور جواب ففٹی ففٹی میں کسی دھماکے دار خاکے سے دیا جاتا تھا جس سے دیکھنے والے لطف اندوز ہوتے تھے۔

ایوب خاور کا مزید کہنا تھا کہ فاروق قیصر ان نایاب لوگوں میں سے تھے جو اچھے اداکار اور لکھاری ہونے کے باوجود بھی سنجیدہ اداکاری اور لکھائی سے دور رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فاروق قیصر نے ہمیشہ کامیڈی کے ذریعے ہی معاشرتی مسائل کی نشاندہی کی اور اس کا حل پیش کرنے کے کوشش کی جس کی وجہ سے آج بھی لوگ ان کے کام کو یاد رکھے ہوئے ہیں۔

'دکھ کی ویکسین قہقہہ ہے'

ایک ٹی وی انٹرویو میں فاروق قیصر کا کہنا تھا کہ دکھ کی ویکسین قہقہہ ہے اور وہ اسی وجہ سے کامیڈی سے جڑے رہے۔

جب پاکستان میں پرائیوٹ ٹی وی چینل این ٹی ایم (نیٹ ورک ٹیلی ویژن مارکیٹنگ) آیا تو انہوں نے 'نائس ٹو میٹ یو' جیسے لانگ پلے لکھے اور 'ڈاک ٹائم' جیسے شو کی میزبانی بھی کی جس میں اداکارہ و میزبان نادیہ خان کو پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا۔

اپنے آخری دنوں تک ان کے بنائے گئے کارٹون اخبارات کی زینت بنتے رہے اور وہ حالات حاضرہ پر تبصرے کے لیے اپنے ہی تخلیق کیے ہوئے کرداروں کا سہارہ لیتے رہے۔ (فائل فوٹو)
اپنے آخری دنوں تک ان کے بنائے گئے کارٹون اخبارات کی زینت بنتے رہے اور وہ حالات حاضرہ پر تبصرے کے لیے اپنے ہی تخلیق کیے ہوئے کرداروں کا سہارہ لیتے رہے۔ (فائل فوٹو)

فاروق قیصر صرف طنز و مزاح سے ہی منسلک نہیں تھے بلکہ انہیں درس و تدریس سے بھی لگاؤ تھا۔

انہوں نے 54 سال کی عمر میں یونی ورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا امریکہ سے ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرز کیا اور بعد میں اسلام آباد میں فاطمہ جناح ویمن یونی ورسٹی اور نیشنل کالج آف آرٹس کے تھیٹر پروگرام سے بھی وابستہ رہے۔

وہ ایک پتلی باز اور اسکرپٹ رائٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صحافی، ہدایت کار، صوتی فنکار اور شاعر بھی تھے۔

نازیہ حسن کا مقبول گیت 'کومل کومل' انہوں نے ہی لکھا تھا جو اسی کی دہائی میں بے حد مقبول ہوا تھا۔

انہوں نے متعدد کتابیں بھی تحریر کیں جن میں ہور پوچھو، کالم گلوچ، میٹھے کریلے، میرے پیارے اللہ میاں اور کٹھ پتلی شامل ہیں۔

انہوں نے ملک اور بیرونِ ملک ہر جگہ اپنے کرداروں کے ساتھ پرفارم کیا اور ملک کا نام روشن کیا۔

پی ٹی وی کی جانب سے 2010 میں دیا گیا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ہو یا پی این سی اے ایوارڈ، 1997 میں یونیسف کی جانب سے ملنے والا 'ماسٹر پپیٹیئر‘ کا خطاب ہو یا پھر حکومتِ پاکستان کی جانب سے دیے گئے سرکاری ایوارڈز، انہیں ان کی محنت کے عوض خوب عزت اور شہرت ملی۔

حکومت پاکستان نے 1993 میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور 2021 میں ستارہٴ امتیاز سے بھی نوازا۔ دو ماہ قبل ایوانِ صدر میں ہونے والی تقریب میں جب وہ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے پاس آئے تو ویل چیئر پر بیٹھے تھے لیکن ایوارڈ لینے کے لیے جب وہ کھڑے ہوئے تو پورا ہال ان کے ساتھ ساتھ کھڑا ہوگیا۔

فاروق قیصر کے انتقال پر صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پتلی بازی کا ایک باب بند ہو گیا۔

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے بھی فاروق قیصر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ نہ صرف وہ ایک اچھے فنکار تھے بلکہ سوشل معاملات پر آواز بھی اٹھاتے رہتے تھے۔

اسلام آباد سے ہی تعلق رکھنے والے اداکار و لکھاری عثمان خالد بٹ نے بھی فاروق قیصر کے انتقال پر افسوس کرتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ٹی وی میزبان، اداکار و گلوکار فخر عالم نے بھی فاروق قیصر کی وفات پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ انکل سرگم ان کے بچپن کا اہم حصہ تھا۔

اداکار و گلوکار علی ظفر، جنہیں رواں سال 23 مارچ کو فاروق قیصر کے ساتھ ہی ایوان صدر میں ایوارڈ دیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ تقریب میں ویل چیئر پر بیٹھے فاروق قیصر کا قد اس وقت بھی سب سے اونچا تھا۔

سرحد پار سے بھی موسیقار عدنان سمیع خان نے فاروق قیصر کی وفات کو ایک سانحہ قرار دیا۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ فاروق قیصر کو وہ 40 سال سے جانتے تھے اور ان کے ساتھ کام کرنا ان کی خوش قسمتی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG