رسائی کے لنکس

logo-print

اصلاحات بل ایجنڈے سے نکالنے پر فاٹا اراکین اور اپوزیشن جماعتوں کا شدید احتجاج


خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’’فاٹا کو اس ملک کا آئینی حصہ بننا چاہیئے۔ 1946 میں فاٹا کے عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ بدقسمتی سے حکومت سنجیدہ معاملات کو پارلیمنٹ میں زیربحث نہیں لا رہی‘‘

پاکستان میں قومی اسمبلی میں ’ایف سی آر‘ کے خاتمے اور فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام سے متعلق فاٹا اصلاحات بل ایجنڈے سے نکالنے پر فاٹا اراکین اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

وقفہٴ سوالات کے بعد، ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے اجلاس کی صدارت سنبھالی اور کارروائی آگے بڑھانا چاہی تو فاٹا سے حکومتی رکن شاہ جی گل آفریدی سمیت فاٹا اراکین اپنی نشستوں پر اٹھ کھڑے ہوئے اور ایجنڈے سے فاٹا اصلاحات بل کو نکالنے پر استفسار کیا۔

’ایف سی آر‘ کے خاتمے اور فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام سے متعلق فاٹا اصلاحات بل ایجنڈے سے نکالنے پر فاٹا اراکین کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے، ایوان سے واک آؤٹ کیا، جب کہ اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ ’’یہ قدرتی جذبات ہیں۔ موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آتے ہی فاٹا کا معاملہ اٹھا ہے، حکومت نے ہمیشہ کہا کہ فاٹا بل ایوان میں آئے گا جب کہ پیپلز پارٹی نے حکومت کو مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلایا۔ لیکن، سمجھ نہیں آ رہا کہ اچانک ایجنڈے سے فاٹا بل کو کیوں نکالا گیا، یہ پارلیمنٹ کے ساتھ مذاق ہے‘‘۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’’فاٹا کو اس ملک کا آئینی حصہ بننا چاہیئے۔ 1946 میں فاٹا کے عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ بدقسمتی سے حکومت سنجیدہ معاملات کو پارلیمنٹ میں زیربحث نہیں لا رہی۔‘‘

وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے ایوان کو بتایا کہ بعض تکنیکی وجوہات کے باعث یہ بل ایجنڈے سے نکالا گیا ہے، جو آئندہ دو سے چار دنوں میں دوبارہ ایجنڈے میں شامل کرکے ایوان میں پیش کر دیا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’’ایسی کیا وجہ کہ ایک رات تک یہ بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں 16ویں نمبر پر شامل تھا۔ لیکن، آج اسے ایجنڈے سے نکال دیا گیا جب کہ ایف سی آر قانون کے خلاف فاٹا کے عوام نے احتجاج کیا، آپ لوگوں کو کہتے ہیں کہ سڑکوں پر نہیں، بلکہ ایوان میں آ کر بات کریں۔ اب ایوان میں آپ نے یہ مذاق بنا رکھا ہے‘‘۔

اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کردی گئی۔ بعدازاں، ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے گنتی کروائی تو کورم پورا نہ نکلا جس پر انہوں نے اجلاس منگل کی صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کر دیا۔

پاکستان میں 70 سال گزرنے کے بعد بھی قبائلی علاقوں کے رائج قانون ایف سی آر اب تک موجود ہے، جس کی وجہ سے فاٹا کے عوام کو پاکستان کے عام شہریوں کی طرح آزاد عدالتوں تک رسائی نہیں اور پرانے قانون کے مطابق صرف پولیٹکل ایجنٹس کی عدالتیں موجود ہیں، جہاں ان کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں، فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کے حوالے سے بھی قانون سازی کی جا رہی ہے؛ جس پر بعض حکومت کی اتحادی جماعتوں کو تحفظات ہیں۔ لیکن، حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ کچھ روز میں یہ بل لازماً اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG