رسائی کے لنکس

حکومت فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے: سرتاج عزیز


عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں رائج فرنٹیئر کرائم ریگولیشن یعنی ایف سی آر کے قانون کو بہت جلد ختم کر کے اس کی جگہ متبادل قانون کو رائج کر دیا جائے گا۔

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کو تیز کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرے کار کو قبائلی علاقوں تک توسیع دینے کے لیے قانون سازی کا عمل آئندہ ہفتے شروع کر دیا جائے گا۔

یہ بات فاٹا اصلاحات کمیٹی کی سربراہ سرتاج عزیز نے وفاقی وزیر برائے سرحدی اُمور لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقادر بلوچ کے ہمراہ جمعے کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہی۔

اس موقع پر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں رائج فرنٹیئر کرائم ریگولیشن یعنی ایف سی آر کے قانون کو بہت جلد ختم کر کے اس کی جگہ متبادل قانون کو رائج کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایف سی آر ایک 'کالا قانون ہے' اور اس کو ختم کرنا نہایت ضروری ہے اور ایک ہفتے کے اندر اس قانون کو ختم کرنے کی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایف سی آر کے ختم کرنے کے لیے صوبہ خیبر پختوانخواہ کے گورنر ایک سمری صدر پاکستان کو بھیجیں گے جس میں نوآبادی دور سے رائج ایف سی آر قانون کو ختم کرنے کی تجویز دیں گے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے تیزی سے کام جاری ہے انہوں نے کہ آئندہ 10 سالوں کے لیے فاٹا کی تعمیر و ترقی اور دیگر منصوبوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا فنڈ مختص کیا جائے گا۔

فاٹا سے تعلق رکھنے والے مکینوں کی اکثریت کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کی عمل کو تیز کیا جائے تاکہ اس پسماندہ علاقے کو قومی دھارے میں شامل کر کے اس کی تعمیر و ترقی کے عمل کو یقنی بنایا جا سکے۔

قبائلی علاقوں میں اصلاحات سے متعلق وفاقی حکومت کی قائم کردہ کمیٹی آئندہ پانچ سالوں میں فاٹا کو شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے یہ کام مرحلہ وار مکمل کرنے کا کہہ چکی ہے اور سرتاج عزیز نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ یہی تجویز قابل عمل اور فاٹا کے لیے بہتر ہے۔

ملک کی سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے اس اقدام کو سراہا ہے تاہم قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بعض حلقے اور ملک کی بعض سیاسی جماعتیں ان علاقوں پر مشتمل ایک الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG