رسائی کے لنکس

پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ۔ فائدہ کیا ہوگا؟


اسٹیٹ بینک آف پاکستان

پاکستان کے مرکزی بینک نے بتایا ہے کہ ملک میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 68 فیصد جبکہ دسمبر 2019 میں ہونے والا اضافہ سال 2018 کے اسی ماہ میں ہونے والی سرمایہ کاری سے 52 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس سرمایہ کاری میں زیادہ سرمایہ ٹیلی کام اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر لگایا گیا۔ لیکن، ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بیرونی سرمایہ کاری نئی نہیں بلکہ پرانی سرمایہ کاری ہی کا تسلسل ہے۔

پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران 68 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جو ایک اعشاریہ 34 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر سرمایہ کاری ٹیلی کمیونیکیشن، توانائی اور مشینری کے شعبے میں دیکھی گئی۔ اس میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری چین کی جانب سے 422.5 ملین ڈالر، ناروے کی کمپنیوں کی جانب سے 288.5 ملین ڈالر اور مالٹا نے 111 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی۔

چین کی جانب سے کئی ایسے منصوبے دوبارہ شروع کئے گئے ہیں، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ ہیں جس کے باعث ملک میں سرمایہ کاری میں مثبت اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2019 میں ملک میں 566 ملین روپے کا سرمایہ آیا جبکہ 78.9 ملین ڈالر سرمایہ واپس بھی ہوا۔ اس طرح سال کے آخری مہینے میں کل 487 ملین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کی گئی، جو سال 2018 کے آخری مہینے سے 52 فیصد زیادہ ہے۔

اسی طرح، حکومت پاکستان کے ٹریژری بلز میں پہلی بار ایک سیشن میں بیرونی سرمایہ کاری نے 500 ملین ڈالرز کی سطح کو عبور کیا ہے اور 16 جنوری تک اس مد میں 536 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ اس مد میں برطانیہ سے 457 ملین ڈالرز اور امریکہ سے 80 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری موصول ہوئی۔ اعداد و شمار کے مطابق، حکومتی بانڈز میں چھ ماہ کے دوران 2 ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی۔

رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں جس پر خوشی کا اظہار کیا جائے: معاشی ماہرین

لیکن، معاشی ماہرین بیرونی سرمایہ کاری میں اس اضافے سے زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔ ماہر معاشیات عمر فاروق کا کہنا ہے کہ ملک میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران سرمایہ کاری میں اضافے کی بنیادی وجہ ٹیلی کام سیکٹرز میں لائسنس کی تجدید رہی ہے یا پھر چین کی جانب سے کچھ ایسے منصوبے شروع کئے گئے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری میں پہلے تعطل کا شکار تھے۔ اب ان پر ایک بار پھر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ عمر فاروق کے مطابق، اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ میں ایسا کچھ بھی نہیں جس پر خوشی سے شادیانے بجائے جائیں۔

عمر فاروق کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان دنیا میں کاروبار میں آسانیاں لانے والے ملکوں کی فہرست میں تیزی سے اوپر آیا ہے۔ لیکن، ماہرین کے خیال میں ابھی اس جانب بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

مثال دیتے ہوئے، انھوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش پاکستان کے مقابلے میں کاروبار میں آسانیاں لانے والے ملکوں کی فہرست میں اگرچہ کافی نیچے تو ہے مگر اس کے باوجود بھی وہاں 10 سے 12 ارب ڈالر سے سالانہ بیرونی سرمایہ کاری ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان میں بمشکل یہ ایک ارب ڈالر کےلگ بھگ رہتی ہے۔

اس لئے، کاروبار میں آسانیاں لانے والے انڈیکس میں اوپر آنا مارکیٹنگ کا حربہ تو ہو سکتا ہے، مگر اس سے حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری مختلف شعبوں پر محیط ہو، تبھی اسکے اثرات ملکی معیشت پر بھی رونما ہوتے دکھائی دیں گے۔

ایک اور معاشی ماہر اور عارف حبیب گروپ سے منسلک تجزیہ کار سمیع اللہ طارق کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے لئے چین کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ بڑے ذرائع ہیں، جبکہ کچھ چینی سرمایہ کاری ہانگ کانگ کے راستے سے بھی آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری لانے میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور سیاسی استحکام کے ساتھ حکومت کی پالیسیاں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ہاؤسنگ کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری آئے۔ لیکن، اس بارے میں قانون سازی مکمل نہ ہونے کے باعث وہ سرمایہ کاری فی الحال ملک میں نہ آسکی۔

ماہرین کے خیال میں بیرونی سرمایہ کاری میں حالیہ اضافہ تو خوش آئندہ ہے، لیکن اسے ملک میں مختلف شعبوں پر پھیلانا ہوگا جس کے لئے سرمایہ کاروں کو کاروبار میں آسانیاں پیدا کرکے دینے کے ساتھ انفر اسٹرکچر میں بہتری اور دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG