رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: مزید پانچ قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد متوقع


فائل فوٹو

امریکہ میں 19 نومبر کو قیدی اورلینڈو ہال کو دی جانے والی سزائے موت وفاقی سطح پر کسی بھی صدر کے آخری چند ہفتوں میں سو برس سے زائد عرصے کے بعد دی جانے والی سزائے موت تھی۔

مگر صدر ٹرمپ کے آخری چند ہفتوں میں یہ آخری سزائے موت نہیں ہو گی۔ کیوں کہ وفاقی جیلوں میں پانچ ایسے مزید قیدی موجود ہیں جن کی سزائے موت اگلے چند ہفتوں میں شیڈول ہے۔

ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق جن پانچ افراد کو آئندہ چند روز میں سزائے موت دی جانا ہے اُن میں سے آخری سزائے موت 15 جنوری کو شیڈول ہے۔

امریکہ میں روایتی طور پر سبکدوش ہونے والے صدر سزائے موت کے فیصلے کو اگلے صدر پر چھوڑ دیتے ہیں۔

اگر مذکورہ پانچوں سزاؤں پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو جولائی 2020 کے بعد زہریلے انجیکشن سے دی جانے والی سزاؤں کی تعداد 13 ہو جائے گی۔

صرف سال 2020 کے دوران دی جانے والی 10 وفاقی سطح پر سزائے موت کی تعداد 20ویں اور 21ویں صدی کے کسی بھی سال سے زیادہ ہے۔

امریکہ میں اس برس زیادہ تر موت کی سزائیں ریاستوں کی سطح پر دی گئیں جن کی تعداد 22 ہے۔ پچھلے 34 برس میں وفاقی سطح پر دی جانے والی موت کی سزائیں صرف تین تھیں۔

جمعے کو امریکی محکمۂ انصاف نے مزید تین موت کی سزاؤں کا اعلان کیا جس کے ساتھ ان قیدیوں کے سنگین جرائم کی تفصیلات بھی دی گئی۔

محکمے کے مطابق الفریڈ بورژوا نامی مجرم کو سزائے موت دی جائے گی جس نے اپنی 21 سالہ بیٹی کو 2002 میں زیادتی اور تشدد کے بعد قتل کر دیا تھا۔

اسی طرح کوری جانسن کا تعلق ریاست ورجینیا کے علاقے رچمنڈ کے ایک گینگ سے تھا، انہوں نے 1992 میں 7 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ ڈسٹن جان ہگز کو 1996 میں تین خواتین کے اغوا اور قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی۔

یہ سزائیں جولائی کے بعد سے شروع ہونی والی اسکیم کا حصہ ہیں جب 17 برس کے تعطل کے بعد محکمۂ انصاف نے سزائے موت کو دوبارہ بحال کیا ہے۔

اگرچہ سزائے موت کے بارے میں عوامی رائے اس وقت کم ترین سطح پر ہے اور امریکہ کی اکثر ریاستوں نے اس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ اور اٹارنی جنرل ولیم بر سزائے موت کے حامی ہیں۔

امریکہ میں سزائے موت بحال، انسانی حقوق کی تنظیموں کا احتجاج
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:57 0:00

سزائے موت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ محکمۂ انصاف جو بائیڈن کے عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے جلد بازی میں ان سزاؤں پر عمل درآمد کر رہا ہے۔

امریکہ واحد مغربی جمہورت ہے جہاں اب بھی موت کی سزا رائج ہے۔ ایک وقت تھا کہ جو بائیڈن بھی موت کی سزا کے حامی تھے۔ مگر 2020 کی صدارتی مہم کے دوران انہوں نے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا اور دوسرے ڈیموکریٹک صدارتی امیدواروں کے ساتھ مل کر موت کی سزا کو ختم کرنے کا عہد کیا۔

ان کی ویب سائٹ کے مطابق وہ حکومت میں آ کر وفاقی سطح پر موت کی سزا پر پابندی کا قانون لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اُن کے مطابق ان افراد کی قید کی سزا کو پیرول کے بغیر بڑھا دینا چاہئے۔

یاد رہے کہ آئندہ برس جنوری میں ریاست جارجیا میں سینیٹ کی آخری دو نشتوں پر ہونے والے انتخابات یہ فیصلہ کریں گے کہ سینیٹ میں کس جماعت کی اکثریت ہو گی۔ ماہرین کے مطابق سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت کی صورت میں بائیڈن کو سزائے موت کے خلاف قانون لانے میں مشکلات پیش آئیں گی۔

لائیرز کمیٹی فار سول رائٹس انڈر لا کے ڈائریکٹر آرتھ اگو کے مطابق ایسی صورت میں بائیڈن وفاقی سطح پر سزائے موت پر پچھلے 20 برس کی طرح کا موریٹیریم یا عارضی پابندی عائد کر دیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG