رسائی کے لنکس

محکمۂ پولیس میں خواتین پولیس افسروں کی شمولیت سے کیا فرق پڑ سکتا ہے؟


فائل فوٹو

امریکہ میں جہاں اس سال مئی میں ایک سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ پولیس کی حراست میں ہلاک ہو گیا تھا، طاقت کے بے جا استعمال کو روکنے کے لئے پولیس اصلاحات کے مطالبے کئے جا رہے ہیں، وہاں یہ نکتہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ خواتین کو پولیس کے شعبے کی طرف لانا محکمۂ پولیس کی کارکردگی کے لئے کتنا مثبت ثابت ہوگا۔

حال ہی میں تیار کی گئی ایک ڈاکیو مینٹری میں منی ایپلس شہر کے محکمہ پولیس میں شامل خواتین آفیسرز کی ان صلاحیتوں کو دکھایا گیا ہے، جو وہ کسی مشکل صورتحال کو سلجھانے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ یہ ڈاکیومنٹری محکمہ پولیس میں شامل خواتین کے چیلنجز کو بھی سامنے لاتی ہے، جو تعداد میں کم ہیں۔

ڈاکیومنٹری تیار کرنے والی ڈیڈرے فشل نے دکھایا ہے کہ منی ایپلس کے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں جہاں خواتین کی تعداد مردوں سے کم ہے، خواتین پولیس افسروں کو کس مشکل کا سامنا ہوتا ہے، جب وہ اپنے ساتھی آفیسرز کو حد سے زیادہ طاقت استعمال کرنے سے روکنے کی تربیت دیتی ہیں۔

تربیت دینے والی ایک خاتون افسر ایلس وائٹ کہتی ہیں کہ بحیثیت پولیس آفیسر ہمارا سابقہ ایسے افراد سے بھی پڑتا ہے جو قاتل ہیں یا عورتوں کا ریپ کرنے والے ہیں، ایسے کسی شخص سے عزت سے پیش آنا مشکل ہوتا ہے۔ وائٹ کہتی ہیں کہ ایسے میں پیشہ وارانہ رویہ اپنانا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ جب تک آپ پیشہ وارانہ رویہ رکھیں گے تب تک آپ با اخلاق نظر آئیں گے۔

فلم میں نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کی جانب سے سن 1970 میں کی گئی تحقیق کو شامل کیا گیا ہے، جس کے مطابق، خواتین پولیس افسر، کم جارحانہ رویہ رکھتی ہیں اور اپنے مرد ساتھیوں کی نسبت کم جارحانہ انداز اختیار کرنا پسند کرتی ہیں۔

ڈاکومنٹری تیار کرنے والی ڈیڈرے فشل کہتی ہیں کہ وہ کوئی ایسی فلم بنانا چاہتی تھیں جس میں یہ دکھایا جائے کہ ایک ایسے وقت میں، جب پولیس تشدد کے حوالے سے خبریں سامنے آرہی ہیں، خواتین آفیسرز اپنے محکمے میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ڈاکیو منٹری کے ایک منظر میں خاتون پولیس آفیسر کسی ٹریفک سٹاپ پر روکی جانے والی گاڑی کے ڈرائیور کو تسلی دیتی ہے، جو نروس نظر آرہا ہے۔

فشل کہتی ہیں کہ اگر یہ خاتون پولیس آفیسر نہ ہوتی، تو ڈرائیور ایسی صورتحال میں مزید پریشان ہو جاتا۔

فلم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ منی ایپلس پولیس ڈیپارٹمنٹ کے عملے میں صرف 16 فیصد خواتین ہیں۔

پولیس افسر کیتھرین جانسن کہتی ہیں کہ پولیس کے سربراہ نے اپنی ایگزیکٹو ٹیم میں ایک بھی خاتون کو شامل نہیں کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ پولیس چیف کیلئے ان کے دل میں بہت عزت ہے، لیکن جو چیز انہیں پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسے شعبے میں جہاں مردوں کی آواز کا غلبہ ہے، وہاں خواتین کے نکتہ نظر سے مسئلے کو سمجھنے کی بات پیچھے چلی جاتی۔

ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل کے محکمہ پولیس کی سربراہ کارمن بیسٹ کہتی ہیں کہ ان کے محکمہ کی جانب سے نئی ملازمتوں کیلئے دیے گئے اشتہارات کو اس انداز میں تیار کیا جاتا ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ خواتین متوجہ ہوں۔

کارمن بیسٹ کا کہنا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ خواتین کو دکھانا چاہتے ہیں کہ پولیس کے محکمے میں صرف کاروں کے پیچھے بھاگنا یا گولیاں چلانا اور تشدد کرنا ہی نہیں ہے۔ ہم بہت کچھ ایسا کرتے ہیں جس کا طاقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، بلکہ اس کا زیادہ تعلق آپ کی مہارت، سمجھ بوجھ اور لوگوں کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت سے ہے۔

ڈاکیو منٹری تیار کرنے والی ڈیڈرے فشل کہتی ہیں کہ بات صرف خواتین کی شمولیت کی نہیں ہے، بلکہ پولیس کے محکمے میں زیادہ سے زیادہ متنوع پس منظر کے حامل افراد کو شامل کرنے ضرورت ہے، تاکہ پولیس کے محکمہ میں ممکنہ اصلاحات نتیجہ خیز بھی ثابت ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG