رسائی کے لنکس

وفاقی تحقیقاتی ادارے کا لاہور میں مسلم لیگ کے مرکزی دفتر پر چھاپہ


مسلم لیگ کے مطابق مریم نواز کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ قبضے میں لینے کے لیے کارروائی کی گئی ہے — فائل فوٹو

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مار کر ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مطابق مریم نواز کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ قبضے میں لینے کے لیے کارروائی کی گئی ہے۔

ایف آئی اے نے لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مار کر ریکارڈ قبضے میں لیا ہے۔ ایف آئے اے کے اہلکار سادہ کپڑوں میں ماڈل ٹاؤن لاہور کے پلاٹ نمبر ایچ-180 پہنچے اور کارروائی شروع کر دی۔ ایف آئی اے کے ہمراہ پولیس کی نفری بھی موجود تھی۔

ایف آئی اے کی ٹیم نے مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کو کارروائی سے متعلق آگاہ کیا۔

ایف آئی اے کی کارروائی کے بعد عطا اللہ تارڑ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں مریم نواز کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ قبضے میں لینے کے لیے کارروائی کی اور ایک کمپیوٹر ہارڈ ڈسک قبضے میں لی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کا مسلم لیگ (ن) کے دفتر پر چھاپہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:17 0:00

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ انتقامی کارروائی کی بدترین مثال ہے۔

ان کے بقول وہ اور اُن کی جماعت عمران خان نیازی کی فسطائیت اور انتقامی سوچ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ ناصر بٹ سے اس متعلق کتنی پوچھ گچھ ہوئی ہے۔ وہ کتنی دفعہ لندن ہائی کمیشن گئے لیکن ان سے ویڈیو نہیں لی گئی نہ فرانزک ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک کو وفاقی حکومت نے ہٹایا۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ عمران نیازی ملک میں انتشار اور انتقامی کارروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ لیگی رہنماوں کو طلبی کے نوٹس موصول ہو چکے تھے۔ یہ عمران نیازی کا اوچھا ہتھکنڈا اور فسائیط کی مثال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واجد ضیاء کو ایف آئی اے کو سربراہ لگایا گیا۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے خلاف کارروائی میں سر گرم عمل ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں پرویز رشید، عطا اللہ تارڑ اور عظمیٰ بخاری کو 30 دسمبر کو طلب کر رکھا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کا مسلم لیگ (ن) کے دفتر پر چھاپہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:18 0:00

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شعیب صدیقی سمجھتے ہیں کہ اُن کی حکومت کسی کے بھی خلاف انتقامی کارروائیوں اور انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔

شعیب صدیقی کے بقول ایف آئی اے کا ماڈل ٹاؤن سیکریٹریٹ جانا معمول کی کارروائی ہے کیوں کہ ایف آئی اے نے اُنہیں طلب کیا ہوا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب صدیقی نے کہا کہ دوران کارروائی کسی بھی شخص کو حراست میں نہیں لیا گیا صرف ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے اِن کے سمن جاری کیے ہوئے ہیں۔ اِنہیں تو خود چاہیے کہ اپنا ریکارڈ لے کر ایف آئی اے کے دفتر جائیں۔ اگر مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کا دامن صاف ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست

اِس سے قبل مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور پاسپورٹ کی واپسی کے لیے درخواستوں پر سماعت کے معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار شمیم احمد نے موسم سرما کی تعطیلات کے دوران بینچ تشکیل دینے سے انکار کر دیا ہے۔

جس کے باعث کیس کی سماعت آئندہ سال جنوری 2020 میں ہو گی۔ مریم نواز اپنے والد کی تیمارداری کے لیے ملک سے باہر جانا چاہتی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں قائم بینچ موسم سرما کی عدالتی تعطیلات کے باعث تحلیل ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG