رسائی کے لنکس

logo-print

مبینہ کرپشن کیس میں مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال گرفتار


احسن اقبال سابق حکومت میں وفاقی وزیر تھے — فائل فوٹو

قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کو نارووال کے اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔

نیب کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ احسن اقبال کو تحقیقات میں عدم تعاون اور سوالات کے تسلی بخش جواب نہ دینے کے باعث گرفتار کیا گیا ہے۔

نیب کے مطابق سابق وفاقی وزیر کا طبی معائنہ کرایا جائے گا اور منگل کو انہیں احتساب عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کو نیب راولپنڈی کے دفتر میں طلب کرنے پر پیش ہوئے۔ جہاں پیشی کے موقع پر انہیں گرفتار کیا گیا۔ نیب نے نارووال اسپورٹس کمپلیکس کرپشن کیس میں انہیں طلب کیا تھا۔

خیال رہے کہ سابق وفاقی وزیر احسن اقبال پر الزام ہے کہ انہوں نے اسپورٹس سٹی کی تعمیر میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جبکہ خلاف قانون تین ارب روپے کا منصوبہ نارووال میں شروع کیا۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے علی فرقان کے مطابق نیب کا مؤقف ہے کہ اسپورٹس سٹی کی تعمیر میں پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اختیارات سے تجاوز کیا۔

اطلاعات کے مطابق نیب کی ٹیم نے گذشتہ ہفتے اسپورٹس سٹی نارووال کا دورہ بھی کیا تھا اور گواہان کے بیان ریکارڈ کیے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق احسن اقبال کو نیب نے پیر کو راولپنڈی دفتر میں پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ انہیں صبح بلایا گیا تھا تاہم وہ کافی تاخیر سے وہاں پہنچے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) 2013 سے 2018 تک وفاق میں برسراقتدار رہی۔ تاہم 2018 میں انتخابات میں پاکستان میں وفاق میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت قائم ہوئی۔

گزشتہ ڈیڑھ سال میں مسلم لیگ کے کئی اہم رہنماؤں کو مختلف کیسز میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مسلم لیگ کے جیل میں موجود رہنماؤں میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز سمیت کئی دیگر شامل ہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم بھی طویل عرصے جیل میں رہے تاہم ان کو ضمانت پر رہائی مل چکی ہے اور سابق وزیر اعظم اس وقت علاج کے لیے برطانیہ میں موجود ہیں۔

مسلم لیگ کی جانب سے احسن اقبال کی گرفتاری کی مذمت کی گئی ہے۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے پارٹی کے سیکریٹری جنرل کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت رہنماؤں کی گرفتاریوں کے باعث اپنی حکمت عملی تبدیل نہیں کرے گی۔ موجودہ حکومت کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جاتا رہے گا۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگ زیب نے کہا کہ نیب حکومتی دباؤ پر حزب اختلاف کے رہنماؤں کو گرفتار کر رہا ہے لیکن ان کے پاس عدالت میں پیش کرنے کے لیے ثبوت نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا نیب کو پشاور میٹرو جیسے منصوبے میں کرپشن کیوں نظر نہیں آ رہی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ احسن اقبال کا تین روز قبل آپریشن ہوا تھا تاہم ان کو پھر بھی گرفتار کر لیا گیا۔

مریم اورنگزیب نے تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان پر شدید تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) گرفتاریوں کے باوجود کسی خوف کا شکار نہیں ہوگی۔ ملک کی خدمت کرنے والوں کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی گرفتاری پر وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر بدعنوانی کے حوالے سے سوالات اٹھائے تھے لیکن ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں جواب نہیں ملے۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ احسن اقبال تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے تھے جبکہ حکومت احتساب کے عمل میں کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گی۔

مریم نواز کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست

دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا نام سفری پابندی کی فہرست یعنی ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر عدالت نے سماعت 26 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے کابینہ کی جائزہ کمیٹی منگل کو اپنے اجلاس میں فیصلہ کرے گی۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے عدالت سے چھ ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی استدعا کرتے ہوئے درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ انہیں بغیر مطلع کیے نام سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا جو کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

مریم نواز کی اس درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو سات دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی حکم پر وزیر قانون فروغ نسیم کی صدارت میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا تاہم مریم نواز کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے یا برقرار رکھنے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا تھا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی بابر اعوان نے پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت مریم نواز کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نہیں نکالے گی۔

ان کے بقول اگر عدالت کی جانب سے ایسا فیصلہ آیا تو حکومت اسے چیلنج کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف نے کہا کہ وہ بیمار ہیں تو تحریک انصاف نے ان کے بیرون ملک جانے پر سیاست نہیں کی تاہم مریم نواز کو باہر جانے کی اجازات نہ دینا خالصتاً قانون کی بالا دستی ہے۔

ہفتے کو ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔

مفتاح اسمٰعیل کو مائع قدرتی گیس کے منصوبے میں بدعنوانی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG