رسائی کے لنکس

logo-print

بدعنوانی کے الزامات کھیل کے لیے ’شرمندگی‘ کا باعث ہیں: بلاٹر


اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے 79 سالہ بلاٹر نے کہا کہ " ہم کسی کو بھی فٹبال اور فیفا کی ساکھ کو مزید کیچڑ میں گھسیٹنے کی اجازت نہیں دے سکتے، یہ سب کچھ اب ختم ہونا چاہیے۔"

فٹبال کی عالمی تنظیم "فیفا" کے صدر سیپ بلاٹر نے کہا ہے کہ بدعنوانی کے سامنے آنے والے اسکینڈلز کھیل کے لیے "شرمندگی اور ہتک" کا باعث بنے ہیں۔

امریکہ اور سوئس حکام کی طرف سے اس تنظیم کے سات موجودہ اور سابقہ اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات میں گرفتاری کے بعد پہلی مرتبہ اپنے خطاب میں بلاٹر نے کہا کہ آنے والے مہینے فیفا کے لیے آسان نہیں ہوں گے۔

"مجھے یقین ہے کہ مزید بری خبریں آئیں گی لیکن یہ ضروری ہے اعتماد بحال کرنے کے لیے کام کیا جائے۔"

بدھ کو زیورخ میں جاری فیفا کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے 79 سالہ بلاٹر نے کہا کہ " ہم کسی کو بھی فٹبال اور فیفا کی ساکھ کو مزید کیچڑ میں گھسیٹنے کی اجازت نہیں دے سکتے، یہ سب کچھ اب ختم ہونا چاہیے۔"

"میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ مجھے دنیا کی فٹبال برادری کے اقدامات اور ساکھ کے لیے ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ میں ہر وقت کسی قسم کی نگرانی نہیں کر سکتا۔ اگر لوگ غلط کرنا چاہتے ہیں تو وہ اسے چھپانے کی بھی کوشش کریں گے۔"

ان کا کہنا تھا کہ یہ بہرحال ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ تنظیم کی بھلائی اور "چیزوں کو بہتر کرنے" کے لیے راہ تلاش کریں۔

اسی دوران فٹبال کی دو بڑی یورپیئن ایسوسی ایشنز نے بلاٹر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے کہ لیکن بلاٹر نے اسے مسترد کرتے ہوئے جمعہ کو ہونے والے تنظیم کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

حکام کی طرف سے فیفا کے عہدیداروں کو غیر قانونی طور پر رقوم کی منتقلی، دھوکہ دہی اور کمیشن لینے کے الزمات کے تحت گرفتار کیا تھا اور اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد سے فیفا کے تنظیمی امور پر کئی سوالیہ نشان بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG