رسائی کے لنکس

logo-print

لڑائی کی تباہ کاریوں کو نمایاں کرنے والے جاپانی فلم ساز چل بسے


نبوویکو ابایاشی 11 اکتوبر 2019ء کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے (فائل)

جنگوں کی بھیانک منظر کشی کے لیے مشہور جاپانی فلم ساز، نبوویکو ابایاشی 82 برس کی عمر میں جمعے کی رات ٹوکیو میں انتقال کر گئے۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ فلم کی افادیت کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔

ان کی تارہ ترین فلم، 'لبرانتھ آف سنیما' کی ویب سائٹ نے خبر دی ہے کہ ابایاشی 2016ء سے سرطان میں مبتلا تھے جنھیں بتایا گیا تھا کہ وہ چند مہینوں کے مہمان ہیں۔ تاہم، لاغر ہونے اور وہیل چیئر تک محدود ہونے کے باوجود، اباہاشی آخری دم تک اپنے کام میں محو رہے۔

فلم 'لبرانتھ آف سنیما' کی جاپان میں جمعے ہی کے روز سے نمائش متوقع تھی۔ تاہم، فلم کی نمائش مؤخر کر دی گئی ہے، چونکہ کرونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں ملک کے تھیٹر بند ہیں۔

اعلان میں کہا گیا ہے کہ ''ڈائریکٹر ابایاشی آخری روز تک بیماری سے لڑتے رہے۔ جمعے کے دن ان کی فلم کی نمائش متوقع تھی۔ ہم آپ کے لیے دعاگو ہیں۔ آپ فلموں کو اتنا پسند کرتے تھے کہ آپ ان کی تیاری میں مگن رہے''۔

اس فلم کا ایک پیشگی نمونہ گزشتہ سال ٹوکیو کے بین الاقوامی فلمی میلے میں پیش کیا گیا تھا، جس دوران ان کے ناقدین نے ابایاشی کو ''سنیما کے جادوگر'' کا لقب دیا؛ تقریب کے دوران ان کی فلم سازی کے مثالی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا تھا۔

وہ 1938ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن عالمی جنگ دوم کے مشکل دور میں گذرا۔ انہیں جاپان کی جارحیت اور جاپان کی جانب سے ہمسایوں کے خلاف زیادتیاں یاد تھیں۔

ساتھ ہی، یہ وہی دور تھا جب جاپانیوں کو بھوک، جنسی زیادتی اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سامنا رہا۔ وہ امن پسند تھے، جن کے رویے پر ان کے والد کے خیالات کے نقش گہرے تھے۔ ان کے والد فوج میں ڈاکٹر تھے۔ انھوں نے ہی ابایاشی کو آٹھ ملی میٹر کا پہلا کیمرا تحفے میں دیا تھا۔

وہ ایکشن فلموں کے پلاٹ، پراثر انداز اور شفاف پیش کش کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ ان کی فلموں کی منظر کشی اپنی اہمیت منواتی تھی، چونکہ ان میں ایک دائمی کشش ہوا کرتی تھی۔

سال 2019ء میں ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ابایاشی نے کہا تھا کہ فلموں کی اہمیت دائمی ہوتی ہے، فلمیں کمزور نہیں ہوتیں، چونکہ ان کی اساس اظہار رائے ہوتی ہے۔

اپنے پیغام میں انھوں نے کہا تھا کہ ''ہمیں پوری طاقت کے ساتھ آزادی کی قدر کرنی چاہیے۔ ہمیں دروغ گوئی سے باز رہنا چاہیے''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG