رسائی کے لنکس

logo-print

فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری


فردوس عاشق اعوان۔ (فائل فوٹو)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ںواز شریف کی ضمانت کے بعد مبینہ طور پر عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے پر وزیر اعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے انہیں یکم نومبر صبح نو بجے ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس میں عدلیہ کو بدنام کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو ریلیف دینے کے لیے شام کو خصوصی طور پر عدالت میں سماعت ہوئی۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نواز شریف کی ضمانت کے بعد بیمار قیدیوں کی جانب سے ایسی درخواستوں کا 'فلڈ گیٹ' کھل جائے گا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے وفاقی حکومت کی ترجمان کے طور پر اپنے اس بیان سے عوام کی نظر میں عدلیہ کو متنازع اور اس کا وقار نیچا کرنے کی کوشش کی۔ وفاقی حکومت کی ترجمان اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر عدلیہ سے متعلق یہ بیان غیر ضروری ہے۔

اسلام ہائی کورٹ نے منگل کو طبی بنیادوں پر نواز شریف کو آٹھ ہفتوں کے لیے ضمانت پر رہا کیا تھا۔
اسلام ہائی کورٹ نے منگل کو طبی بنیادوں پر نواز شریف کو آٹھ ہفتوں کے لیے ضمانت پر رہا کیا تھا۔

'ٹی وی چینلز پر عدالت سے متعلق تبصروں سے گریز کیا جائے'

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پر زور دیا ہے کہ عدالتی کارروائی سے متعلق غیر مصدقہ تبصروں سے گریز کریں۔

اسلام آباد میں پیمرا کے 30 اکتوبر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت کی جانب سے 25 اکتوبر کو جاری کردہ ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ سیاستدان اور میڈیا کے اہلکار ٹیلی ویژن پر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے عدالتوں کو بدنام کرنے میں ملوث ہیں.

پیمرا کے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پیمرا کو عدالت کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے ٹاک شوز کو کنٹرول کریں۔

پیمرا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس کے سیکشن 16-B کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پیمرا نے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتی کارروائی پر غیر ضروری تبصروں سے گریز کریں۔
پیمرا نے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتی کارروائی پر غیر ضروری تبصروں سے گریز کریں۔

پیمرا کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت نے چودھری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کی سماعت کے بعد یہ تحریری حکم جاری کیا تھا۔

سینئر تجزیہ کار افتخار احمد کہتے ہیں کہ پیمرا عدالتی احکامات کی آڑ میں میڈیا پر قدغنیں لگا رہا ہے۔ افتحار احمد کے بقول اگر پیمرا سمجھتا ہے کہ ٹی وی چینلز میں کچھ غلط ہو رہا ہے تو عدالتوں کے نوٹس سے پہلے خود کارروائی کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG