رسائی کے لنکس

قومی شناختی کارڈ میں مذہب کی تبدیلی عدالتی اجازت سے مشروط


نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا)نے شناختی دستاویزات میں عدالت کی اجازت کے بغیر مذہب تبدیل کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوموار کو ختم نبوت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جس میں ڈائریکٹر جنرل نادرا عثمان مبین نے عدالت کے سامنے احمدی مذہب اختیار کرنے والوں کی تفصیلات پیش کیں۔ رپورٹ میں یہ بھی شامل ہے کہ کس شخص نے کس عمر میں احمدی مذہب اپنایا۔

ڈی جی نادرا نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے شناختی دستاویزات میں عدالتی اجازت کے بغیر مذہب تبدیل کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

نادرا رپورٹ کے مطابق کل 10 ہزار 205 افراد نے اپنا مذہب تبدیل کر کے احمدی مذہب اختیار کیا ہے، جن میں سے چھ ہزار ایک افراد نے شناختی کارڈ میں مذہب کی تبدیلی کے بعد پاسپورٹ بھی حاصل کئے، جب کہ1300 سے زائد افراد نے 60 برس کی عمر کے بعد شناختی کارڈ تبدیل کروا یا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ کیا 18 سے 30 سال کی عمر والے افراد کینیڈا جاتے ہیں؟ جس پر ڈی جی نادرا نے کہا کہ یہ معلومات ایف آئی اے فراہم کر سکتی ہے جس کے بعد عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر مذہب تبدیل کرنے والے افراد کی سفری تفصیلات پیش کی جائیں۔

پاکستانی ریاست کے قوانین کے مطابق احمدیوں کو غیر مسلم تسلیم کیا جاتا ہے۔

ایک مذہبی اسکالر ڈاکٹر ساجد الرحمان بھی اس کاروائی میں پیش ہوئے، انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کی شناخت ظاہر ہونا انتہائی ضروری ہے، جس کو ریاست نے کافر قرار دیا وہ مسلمان کا نام استعمال نہیں کر سکتا، اقلیتوں کو شناخت ظاہر کرنی چاہیئے۔ ان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ (ترکِ اسلام) کرنے والوں کے لئے ملک میں قانون سازی کی ضرورت ہے، کیا 30 سال سول سروس کرنے کے بعد شناختی کارڈ میں تبدیلی کرنے والے کے لئے سزا ہونی چاہیئے؟ ساجد الرحمان نے جواب دیا کہ ریاست کو سخت سے سخت سزا تفويض کرنی چاہیئے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ اس ساری کارروائی کا مقصد مقننه کو قانون سازی کی جانب توجہ دلانا ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔ بدھ کو مذہبی اسکالر محسن نقوی پیش ہو کر دلائل دیں گے۔

پاکستان میں توہین مذہب اور اسلام کے حوالے سے سخت جذبات رکھے جاتے ہیں اور احمدیوں کے بارے میں سخت رویہ اپنایا جاتا ہے، اس سلسلے میں احمدیوں کی کسی بھی قسم کی حمایت کرنے والے کو بھی سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG