رسائی کے لنکس

فلوریڈا کے بحری اڈے پرفائرنگ سے چار افراد ہلاک


فلوریڈا میں امریکی بحری اڈے پر جمعے کے روز فائرنگ کے ایک واقعے میں چار افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔

ریاست فلوریڈا کے گورنر اور دیگر اہلکاروں نے بتایا ہے کہ مشتبہ حملہ آور سعودی فضائیہ کا اہلکار تھا، جو فوجی تربیت کے حصول کے لیے امریکہ میں تھا۔

بحریہ اور مقامی پولیس ذرائع کے مطابق، حملے کا یہ واقعہ پینساکولا کے بحری اڈے پر پیش آیا جس میں حملہ آور سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔

اس ہفتے امریکی فوجی تنصیب پر گولیاں چلنے کا یہ دوسرا مہلک واقعہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان نے ان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس دوران انھوں نے ہلاک ہونے والوں کے لیے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدری کا اظہار کیا۔

ٹرمپ نے ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ ’’بادشاہ نے کہا کہ حملہ آور کی اس وحشیانہ حرکت نے سعودی عوام کو شدید برہم کیا ہے؛ اور ایسا عمل کرنے والا شخص کسی طور پر بھی سعودی عوام کے جذبات کی نمائندگی نہیں کرتا، جو امریکی عوام کو چاہتے ہیں‘‘۔

فلوریڈا کے گورنر، رون دے سانتس نے بتایا ہے کہ مشتبہ شخص سعودی شہری تھا جو بحری اڈے پر تربیت حاصل کر رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ بحری تربیت کے اس پروگرام میں ایک طویل عرصے سے امریکی اتحادی شریک ہوتے رہے ہیں؛ اور یہ کہ اس پُرتشدد واقعے کے محرک کے بارے میں ابھی تفتیش جاری ہے۔

دے سانتس نے جمعے کے دن ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ظاہر ہے اس معاملے پر کئی قسم کے سوال ذہن میں آتے ہیں کہ یہ غیر ملکی شخص، جو سعودی عرب کی فضائیہ کا حصہ تھا، ہماری سرزمین پر تربیت حاصل کر رہا تھا۔‘‘

مشتبہ شخص نے حملے کے دوران ہینڈگن سے فائر کیا، جب بحریہ کے اڈے کی عمارت کے دو منزلہ کلاس رومز میں تربیتی نشست جاری تھی۔

پولیس کے سربراہ، ڈیوڈ مورگن نے کہا ہے کہ ’’جائے واردات دیکھنے کے بعد یوں لگا جیسے کسی فلم کے سیٹ کا منظر ہو‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG