رسائی کے لنکس

کابل سے انخلا پائلٹوں کے لیے ایک منفرد تجربہ ہے


کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ایک مسافر بردار طیارہ ٹیک آف کر رہا ہے۔ 4 جولائی 2021

طالبان کے زیر قبضہ کابل سے غیر ملکی شہریوں اور افغان باشندوں کو نکالنے والے طیاروں کے پائلٹوں کے لیے وہاں اترنے اور اڑان بھرنے والی پروازیں ایک مختلف تجربہ ہیں۔

کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈا ایک بہت پیچیدہ مقام پر واقع ہے جس کے گرد اونچے اونچے پہاڑ ہیں۔ ایئرٹریفک کے موجودہ دباؤ میں، جب غیرملکیوں اور افغان شہریوں کے انخلا کے لیے شروع کی جانے والی فوجی اور کمرشل فلائٹس بڑی تعداد میں آ جا رہی ہیں، پائلٹوں کو کسی ناگہانی صورت حال سے بچنے کے لیے ٹریفک کنٹرول کے نظام پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

کئی پائلٹوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ کابل کے اپنے حالیہ تجربات شیئر کیے ہیں، جہاں افراتفری اور بے ہنگم ہجوموں کے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔

فرانس کے ملٹری ٹرانسپورٹ طیارے اے 400 ایم کے کیپٹن کمانڈر سٹیفن کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ امریکی افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے اور وہاں ان کے 5،800 اہلکار تعینات ہیں۔ وہ تمام فضائی ٹریفک، زمین کی صورت حال، کنٹرول ٹاور اور دیگر امور کے کلی طور پر نگران ہیں۔​

کابل ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے والے لوگ ایک طیارے میں سوار ہو رہے ہیں۔ 23 اگست 2021
کابل ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے والے لوگ ایک طیارے میں سوار ہو رہے ہیں۔ 23 اگست 2021

انہوں نے کہا کہ یہ نظام ہماری بہت مدد کرتا ہے، خاص طور پر کابل کی صورت حال میں جہاں یہ خطرہ بھی لاحق رہتا ہے کہ طیارے کو میزائل سے ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے پاس اس کا بھی انتظام ہے۔ اور ہم دشمن کے میزائل کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔

اسٹیفن نے بتایا کہ موجودہ صورت حال میں پائلٹوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس وقت کی پابندی کریں جو انہیں لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے دیا جاتا ہے۔ یہ تقریباً آدھ گھنٹہ ہوتا ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہاں گراؤنڈ میں بہت زیادہ طیارے موجود ہوتے ہیں۔

افغانستان چھوڑنے کے خواہش مند افراد کو طیارے میں سوار کرایا جا رہا ہے۔ 22 اگست 2021
افغانستان چھوڑنے کے خواہش مند افراد کو طیارے میں سوار کرایا جا رہا ہے۔ 22 اگست 2021

'ہم پرواز کرنے والے ہیں'

15 اگست کو طالبان کے ہاتھوں تیزی سے کابل کے سقوط نے، جس کی بین الاقوامی برادری کو توقع نہیں تھی، ہزاروں افراد کو شہر کے ہوائی اڈے کی طرف جانے پر ابھارا، جو ملک سے باہر جانے کا واحد راستہ ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے پائلٹ مقصود برجنی نے کہا کہ جب اس نے صبح مسافر بردار طیارہ کابل کے ایئرپورٹ پر اتارا تو اس وقت سب کچھ نارمل لگ رہا تھا۔

واپسی کی پرواز شروع کرنے کے لیے ٹرمینل پر انتظار کرتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ باہر خوف کی صورت حال تھی، اور حالات معمول پر نہیں تھے۔ مزید لوگ ایئرپورٹ کے اندر آنے کی کوشش کر رہے تھے اور گولیوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

جب انہوں نے ٹیک آف کے لیے جہاز کو حرکت دینا شروع کی تو انہیں کنٹرول سے بتایا گیا کہ مسافر پروازیں معطل کر دی گئی ہیں اور اب انہیں ٹیک آف کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اس کے بعد انہوں نے اپنے فلائنگ کیریئر کا سب سے بڑا فیصلہ کیا۔

"میں نے اپنے سیکنڈ افسر کے ساتھ بات کی کہ چاہے اگر وہ ہمیں اجازت نہیں بھی دیتے تو بھی ہم پرواز کریں گے۔ یہ کوئی عام صورت حال نہیں تھی۔"

"ایک گھنٹے تک صورت حال کا مشاہدہ کرنے کے بعد، میں نے بالآخر ٹیک آف کیا۔ حد نگاہ بہتر تھی اور منظر صاف نظر آ رہا تھا، جس کی وجہ سے میں فوجی ٹریفک سے بچ سکا۔ فضا میں کچھ چنوک، گن شپ ہیلی کاپٹر اور کچھ دیگر کارگو جہاز موجود تھے۔"

"اگر ہم مزید چند منٹ تاخیر کرتے تو ہم پرواز نہ کر پاتے۔ یہ اس دن کی آخری کمرشل پرواز تھی۔"

ان کے پی آئی اے کے ایک اور ساتھی عزیر خان نے اسی دن کچھ دیر پہلے کابل ایئر پورٹ سے ٹیک آف کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں جہاز میں سوار مسافر خوف و ہراس کا شکار تھے۔ اس صورت حال میں مجھے پرسکون رہ کر جہاز چلانا تھا۔

"انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر مسافر یا تو صدر (اشرف) غنی کی کابینہ میں تھے یا کسی نہ کسی طرح حکومت کا حصہ تھے۔ وہ اپنے خاندانوں کے ساتھ ملک چھوڑ کر فرار ہو رہے تھے اور ہم پر زور دے رہے تھے کہ جتنی جلدی ہو ٹیک آف کریں۔"

"باہر ہمارا کوئی رابطہ نہیں تھا اور جب ٹیکنیکل کلیئرنس کی بات آئی تو یہ فیصلہ مجھے خود ہی کرنا تھا۔ مجھے کہا گیا تھا کہ میں خود صورت حال سے نمٹوں۔"

انہوں نے کہا کہ مسافر "کسی بھی قیمت پر اڑنے اور افغانستان سے نکلنے کے لیے تیار تھے" اور جب طیارہ بالآخر اسلام آباد پہنچا تو ہم نے سکون کا سانس لیا۔

کابل ایئر پورٹ پر وی او اے کی نامہ نگار نے کیا دیکھا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:07:21 0:00

آنے والے دنوں میں افراتفری بہت بڑھ گئی۔ رائل ایئر فورس کی جانب سے جاری کی گئی برطانوی سی-17 کی ایک تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ سات یا آٹھ کی قطار میں فرش پر بیٹھے ہیں۔

بیس 104 کے کمانڈر فرانسیسی کرنل یانک ڈیس بوئس نے بتایا کہ، "آپ کو ہوائی جہاز کی کارکردگی کا تجزیہ کرنا ہوگا اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو قبول کرنا ہو گا۔"

ایک فرانسیسی جہاز اے 400 ایم​ میں عام طور پر 110 نشستیں ہوتی ہیں، "لیکن یہاں ہم نے235 تک افراد سوار کرائے گئے۔ طیارے میں لوگ فرش پر بیٹھے ہیں۔ لیکن ان کے تحفظ کا انتظام کیا گیا تھا۔"

اسی طرح امریکی C-17s طیارے 400 مسافروں کو لے جانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ لیکن ان میں سے ایک وقت میں 829 لوگوں کو بھی بٹھایا گیا۔

ڈیس بوئس نے بتایا کہ جہاز کی اڑان میں سب سے زیادہ اہمیت وزن کی ہوتی ہے۔ لیکن جب مسافر زیادہ ہوں تو وزن اس لیے کنٹرول میں رہتا ہے کہ ان میں بہت سے بچے بھی ہوتے ہیں۔

کمانڈر اسٹیفن نے بتایا کہ جہاز کے ٹیک آف کرنے کے بعد ہمارا کام آسان ہو جاتا ہے، کیونکہ لوگ تھکے ہوئے ہوتے ہیں اور ذہن پر دباؤ کم ہوتے ہی وہ سو جاتے ہیں اور ہم سکون سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG