رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں یومِ آزادی کی تقریبات کے بعد کرونا کا پھیلاؤ بڑھنے کا خدشہ


Coronavirus in US

امریکہ نے ایسے میں چار جولائی کو اپنا یوم آزادی منایا، جب کرونا وائرس کی تباہ کاریاں اپنے طور پر جاری رہیں۔ اطلاعات کے مطابق کئی ریاستوں میں کوویڈ نائنٹین کے کیسز میں جو ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا، ان میں فلوریڈا شامل ہے جہاں صرف چار جولائی کو تقریباً ساڑھے گیار ہزار نئے کیسز دیکھنے میں آئے جو اب تک کا ایک دن کا بڑا ریکارڈ ہے۔

تجزیہ کاروں نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ متعدد شہروں میں میئر حضرات جنھیں اسپتالوں میں بہت زیادہ مریضوں اور انفیکشن کی بے تحاشہ شرح کا سامنا ہے، اس بات پر پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لوگوں میں زیادہ احساس نہیں پایا جاتا۔

دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ مہینوں کے لاک ڈاون کے بعد برطانیہ میں جب کہ شراب خانوں میں گاہکوں کو خوش آمدید کہا جا رہا تھا، یہاں امریکہ کی ریاست ایریزونا میں فینکس کی میئر یہ بیان دے رہی تھیں کہ ان کے شہر میں کاروبار قبل از وقت کھل گئے ہیں۔ یہ تضاد بالکل واضح تھا۔

ادھر میامی کے میئر فیرانسس سواریز کو بھی اپنے شہر میں کوویڈ نانٹین کے نئے کیسز میں اضافے سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔ انھوں نے شکوہ کیا کہ جب بندش کو نرم کیا گیا تو لوگوں نے اپنے سماجی رابطے اس طرح شروع کر دیے جیسے کرونا وائرس کا وجود ہی نہیں تھا۔

ماہرین نے توجہ دلائی ہے کہ یہ صورت حال ایک ایسے وقت دیکھنے میں آئی جب امریکہ بھر میں لوگ چار جولائی کی خوشیاں منانے میں مصروف تھے۔ اس دوران گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں جن میں وہ لوگ سوار تھے جو سمندروں کے ساحلوں کی جانب رواں دواں تھے۔ دوسری جانب بڑی تعداد میں لوگ آتش بازی کا نظارہ کرنے کے لئے بھی مختلف مقامات پر جمع ہوئے۔

ان میں واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل مال کا وسیع و عریض سبزہ زار بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لان میں ایک مجمع سے بھی خطاب کیا جس میں انھوں نے بظاہر کرونا وائرس کے خطرات کو کم کر کے پیش کیا جس میں اب تک تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار امریکیوں کی جانیں جا چکی ہیں۔

صدر ٹرمپ کے کہنے کے مطابق چار کروڑ لوگوں کا اب تک ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ان میں سے 99 فیصد لوگ بالکل بے ضرر ہیں۔ صدر کا کہنا ہے کہ ہم ملک میں اپنی سائنسی لیاقت کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لا رہے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ اس سال کے ختم ہونے سے بہت پہلے ہی ہم اس کا علاج اور ویکسین تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

تاہم فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے منتظم اسٹیفن ہان اس کے بارے میں شک و شبہ رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ویکسین کی دستیابی کے بارے میں ابھی کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ اس پر غیر معمولی رفتار سے کام ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ میں اب تک کوویڈ نانٹین کے تقریبا 28 لاکھ کیسز ریکارڈ کئے جا چکے ہیں جو اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ اسی طرح اس وائرس سے امریکہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ میں یوم آزادی کی تقریبات کے دوران اکثر مقامات پر ضروری احتیاطی تدابیر سے گریز کرتے ہوئے لوگوں کا اجتماع بہرحال تشوش کا باعث ہے۔ اور اس سے وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات جنم لیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG