رسائی کے لنکس

logo-print

'مصباح لیپ ٹاپ چھوڑ کر عملی کرکٹ سے کھلاڑیوں کی اصلاح کریں'


سابق پاکستانی کپتان مصباح الحق (فائل فوٹو)

پاکستان کرکٹ ٹیم کے نومنتخب ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق کو عہدہ سنبھالنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے دورہ پاکستان کی صورت میں پہلے امتحان کا سامنا ہے۔ اور انہیں جہاں سابق کرکٹرز مبارکبادیں دے رہے ہیں وہیں مشوروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

مصباح الحق نے حال ہی میں کرکٹ کو خیرباد کہا ہے اور انہیں کرکٹ بورڈ میں کسی بڑے عہدے پر کام کرنے کا تجربہ نہیں۔ البتہ بطور پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اُن کی کامیابی کا تناسب پاکستان کے دیگر کپتانوں کے مقابلے زیادہ رہا ہے۔

مصباح الحق کی کپتانی میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے 56 ٹیسٹ میچز کھیلے۔ جن میں سے 26 میں پاکستان کو کامیابی اور 19 میچز میں ناکامی کا سامنا رہا۔ جبکہ گیارہ میچز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔

بطور ہیڈ کوچ اور چیف سیلیکٹر تعیناتی کے بعد مصباح الحق نے کہا کہ پاکستانی ٹیم میں ناقص فیلڈنگ اور کھیل میں مستقل مزاجی کا نہ ہونا، پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سب سے بڑے مسائل ہیں۔

پی سی بی نے مصباح الحق کو ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔
پی سی بی نے مصباح الحق کو ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

مصباح الحق کی بحیثیٹ ہیڈ کوچ تقرری پر پاکستان ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز جاوید میاں داد کہتے ہیں کہ کوچنگ اتنی آسان نہیں کہ کوئی بھی کوچ بن جائے۔ کھیلنا کھلاڑیوں نے ہوتا ہے لیکن اُنہیں ایک اچھے گائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے جاوید میاں داد کا کہنا تھا کہ دنیا میں کرکٹ کوچنگ پاکستان کی کرکٹ کوچنگ سے قدرے مختلف ہے۔ وہاں اسکولوں میں ہی مشینوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں اسکول کی سطح سے ہی کرکٹ کھیل کر سکھائی جاتی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میاں داد اور شاہد آفریدی (فائل فوٹو)
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میاں داد اور شاہد آفریدی (فائل فوٹو)

انہوں نے مصباح الحق کو مشورہ دیا کہ اُنہیں 'گورے' کی تیکنیک چھوڑ کر اپنی تیکنیک کھلاڑیوں کو بتانی چاہیے۔ بلے بازوں کو بتایا جائے کہ کون سی گیند کھیلتے وقت پاؤں کیسے آنا چاہیے۔ اچھے کوچ کے ساتھ کرکٹ ہمیشہ جُڑی رہتی ہے۔ مصباح لیپ ٹاپ کو چھوڑ کر عملی کرکٹ سے کھلاڑیوں کی اصلاح کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ کمپیوٹر کا کھیل نہیں ہے۔ کرکٹ کے بارے میں تو کمپیوٹر بھی سو بٹا سو بتاتا ہے۔ اچھا کوچ مشینوں کا سہارا لینے کی بجائے کھلاڑیوں کو اپنے تجربے کی بنیاد پر کھیل کر بتاتا ہے اور اُنہیں سکھاتا ہے۔

عالمی شہرت یافتہ پاکستان ٹیم کے سابق لیگ اسپنر اور سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر کہتے ہیں کہ کبھی بھی کھلاڑی پر تنقید نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیشہ صاحبِ اختیار لوگوں پر تنقید کرنی چاہیے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے عبدالقادر کا کہنا تھا کہ مصباح الحق ایک بھلے آدمی ہیں اور بطور کوچ اُن کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔

عبدالقادر نے کہا کہ مصباح الحق کا بطور ہیڈ کوچ تقرر تو سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن چیف سلیکٹر ہر وقت ٹیم کے ہمراہ ہوتا ہے اور چیف سلیکٹر کرکٹ ٹیم کا چیف جسٹس ہوتا ہے۔ جسٹس صاحبان جن لوگوں کے فیصلے کرتے ہیں۔ اُن کے ساتھ وہ ملاقاتیں نہیں کرتے۔ اُن سے ملتے نہیں۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ مصباح الحق جب بطور سلیکشن کمیٹی کے سربراہ ٹیم کے ساتھ رہیں گے تو پسند نہ پسند اُن کے آڑے آئے گی۔

سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کو کھیل کے تمام شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ (فائل فوٹو)
سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کو کھیل کے تمام شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ (فائل فوٹو)

عبدالقادر کا مزید کہنا ہے کہ مصباح الحق کو کھیل کے تمام شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کسی ایک شعبے پر توجہ مرکوز کر کے میچ نہیں جیتے جا سکتے۔

ان کے بقول کرکٹ میں سارے شعبے اہم ہیں اور محنت سے پہلے اچھے کوچ میں دانشوری ہونی چاہیے تاکہ ایسے کھلاڑیوں کو منتخب کرے جو عمر میں کم ہوں اور پاکستان کے لیے زیادہ عرصے تک کھیل سکتے ہوں۔

عبدالقادر کا مزید کہنا ہے کہ مصباح کو ایسے کھلاڑیوں کو تیار کرنا ہو گا جو دن رات محنت کر کے خود اچھے کھلاڑی بننا چاہتے ہوں۔

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے مصباح الحق کی تعیناتی پر کہا ہے کہ کسی بھی کھیل میں نتائج اہمیت رکھتے ہیں اور مصباح الحق کے بارے میں بھی نتائج ہی فیصلہ کریں گے کہ اُن کا مستقبل کیسا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سلمان بٹ نے کہا کہ قومی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کھیلنا ہے جس میں مصباح کی کارکردگی کا پتہ چل جائے گا۔

سلمان بٹ کے بقول مصباح الحق کے بارے میں نتائج ہی فیصلہ کریں گے کہ اُن کا مستقبل کیسا ہے۔ (فائل فوٹو)
سلمان بٹ کے بقول مصباح الحق کے بارے میں نتائج ہی فیصلہ کریں گے کہ اُن کا مستقبل کیسا ہے۔ (فائل فوٹو)

سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کو گزشتہ کچھ عرصے میں ناکامیوں کا سامنا رہا ہے اور ان ناکامیوں کی بنیادی وجہ مہارت کی کمی ہے۔ کھلاڑیوں کی توجہ کا مرکز فٹنس اور فیلڈنگ رہی ہے جس کی وجہ سے مہارت میں ہم تھوڑا پیچھے رہے ہیں۔

اُن کے بقول اگر کرکٹ میں ہماری مہارت بہتر ہو گی تو نتائج بھی اچھے آئیں گے اور اِس پر مصباح کو بھی توجہ دینا پڑے گی۔

مصباح الحق کی بحیثیت ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر تعیناتی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے بتایا کہ مصباح الحق کو سابق غیر ملکی کوچ مکی آرتھر کے برابر ماہانہ مشاہرا دیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق مکی آرتھر کو ماہانہ اٹھائیس لاکھ روپے جبکہ چیف سلیکٹر انضام الحق کو ماہانہ سولہ لاکھ روپے دیے جاتے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG