رسائی کے لنکس

logo-print

سابق ایرانی صدر رفسنجانی انتقال کر گئے


فائل

رفسنجانی 1989 سے 1997ء تک عہدہ صدارت پر فائز رہے۔ اِن دِنوں وہ ایران کی 'تشخیص مصلحت نظام کونسل' کے سربراہ تھے۔ یہ ادارہ رہبر اعظم، آیت اللہ علی خامنہ اِی کو مشاورت فراہم کرنے کا کام انجام دیتا ہے

ایران کے سابق صدر اور سرکردہ اصلاح پسند رہنما، اکبر ہاشمی رفسنجانی کے انتقال کا اعلان کر گئے ہیں اور ایرانی حکومت نے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

بیاسی برس کے رفسنجانی عارضہ قلب میں مبتلا تھے، جن کا شمالی تہران کے ایک اسپتال میں انتقال ہوا۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے عام پروگرام روک کر اُن کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ''اپنی زندگی میں، اُنھیں اسلام اور انقلاب کی راہ میں کئی مشکلات درپیش آئیں''۔

رفسنجانی 1989ء سے 1997ء تک عہدہ صدارت پر فائز رہے۔ اِس سے قبل، وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے چوٹی کے مشیر رہے، جنھوں نے 1979ء میں اسلامی انقلاب برپہ کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سنہ 1989 میں بانی رہنما کے انتقال کے بعد، اُنھوں نے خمینی کے جانشین کے انتخاب میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

رفسنجانی کی صدارت کے دوران ملک کی معیشت کی تعمیر نو کے کام کی کوشش کی گئی، جسے 1980ء سے 1988ء کے دوران ہمسایہ عراق کی جانب سے تباہی کا سامنا تھا۔ اس دوران ملک میں محتاط قسم کی اصلاحات کا ایک سلسلہ جاری کیا گیا، جس کے باعث وسیع تر آزادی ظہور پذیر ہوئی، خاص طور پر ملک کےسختی برتے جانے والے ابلاغ عامہ کے ادارے کے حوالے سے۔

تاہم، سنہ 2002 میں رفسنجانی کی سیاسی قسمت گردش میں آئی، ایسے میں جب قدامت پسند اقتدار میں آئے اور اُن پر مغرب کے لیے نرم گوشہ رکھنے پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا۔

اس کے بعد، وہ پارلیمان کی نشست نہ جیت سکے، اور سنہ 2005 میں قدامت پسند محمود احمدی نژاد کے ہاتھوں دوسری بار صدارتی نامزدگی ہار گئے۔

چار سال بعد، صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر حکومت کی جانب سے سخت کارروائی کے دوران، اُنھوں نے تقریر کی جس میں زیادہ ذاتی آزادی کے آواز بلند کی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ 2009ء کے اُن کے خطاب نے اُنھیں قدامت پسندوں اور فوجی کمانڈروں سے مزید دور کیا۔

سنہ 2013 میں رفسنجانی کو تیسری بار صدارت کے عہدے کے لیے انتخاب کی کوشش میں ناکامی ہوئی؛ جب ایران کی طاقتور ترین 'شوریِ نگہبان' نے بیلٹ پیپر پر اُن کا نام درج کیے جانے سے روکا، جس نااہلیت کو اُن کی اصلاح پسند کاوشوں کے لیے سرکاری رنجش کا سبب قرار دیا گیا۔

تاہم، اُن کے سیاسی منظورِ نظر، حسن روحانی صدر منتخب ہوئے، اور اُنھیں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی منصوبہ بندی پر نظرداری پر مامور کیا گیا۔

اِن دِنوں وہ ایران کی 'تشخیص مصلحت نظام کونسل' کے سربراہ تھے۔ یہ ادارہ رہبر اعظم، آیت اللہ علی خامنہ اِی کو مشاورت فراہم کرنے کا کام انجام دیتا ہے۔

XS
SM
MD
LG