رسائی کے لنکس

پاکستان: چار لاکھ غیر قانونی افغان مہاجرین کی رجسٹریشن مکمل


فائل فوٹو

حکام کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے بعد افغان باشندوں کو خصوصی کارڈ جاری کردیے جائیں گے جس کی بنیاد پر انہیں پاکستان میں قانونی طور پر رہائش کی اجازت ہوگی۔

پاکستان میں بغیر دستاویزات کے مقیم لگ بھگ چار لاکھ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

پاکستان حکومت نے رواں سال اگست میں ایسے تمام افغان شہریوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا تھا جو گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں بغیر اندراج کے مقیم ہیں۔

افغان پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جمعے کو وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ کوائف کا اندراج کرنے والے قومی ادارے 'نادرا' نے گزشتہ چار ماہ کے دوران پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم چار لاکھ افغان شہریوں کے کوائف کا اندراج کیا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق ملک میں لگ بھگ 23 لاکھ کے قریب افغان شہری مقیم ہیں جن میں سے تقریباً 10 لاکھ ایسے ہیں جو بغیر کسی قانونی دستایزات کے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔

تاہم عہدیدار نے بتایا کہ ان میں سے بڑی تعداد اپنے وطن واپس چلی گئی ہے جس کی وجہ سے ان کے بقول اب پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی تعداد تقریباً چھ لاکھ کے قریب ہے جن میں سے چار لاکھ کے کوائف جمع کرلیے گئے ہیں اور باقی کی رجسٹریشن کا عمل آئندہ سال 16 جنوری تک جاری رہے گا۔

اب تک رجسٹرڈ کیے جانے والے افغان شہریوں میں سے دو لاکھ 30 ہزار وہ ہیں جو صوبہ خیبر پختونخوا میں مقیم ہیں جبکہ باقی پاکستان کے دیگر علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو تعلیم و روزگار کے سلسلے میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے بعد افغان باشندوں کو خصوصی کارڈ جاری کردیے جائیں گے جس کی بنیاد پر انہیں پاکستان میں قانونی طور پر رہائش کی اجازت ہوگی۔

پناہ گزینوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی تعداد 13 لاکھ ہے اور گزشتہ سال تین لاکھ 70 ہزار افغان مہاجرین واپس افغانستان گئے۔

رواں سال ستمبر کے اواخر تک 50 ہزار افغان مہاجرین پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن و امان کی مخدوش صورتِ حال کی وجہ سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

'یو این ایچ سی آر' کا کہنا ہے کہ امن و امان کی خراب صورتِ حال کی وجہ سے آئندہ سال بھی افغان پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی کا عمل سست روی کا شکار رہنے کا اندیشہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG