رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ: انسدادِ پولیو ٹیم اور پولیس اہلکاروں پر حملے، چار ہلاک


کوئٹہ میں انسدادِ پولیس ٹیم پر حملے کے بعد جائے واردات پر سکیورٹی اہلکار موجود ہیں

جمعرات کی صبح کوئٹہ کے مرکزی علاقے ڈبل روڈ پر ایک پُل پر لگائے گئے ناکے پر تعینات پولیس اہلکاروں پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کردی تھی جس سے تین اہلکار شدید زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں انسدادِ پولیو کی ایک ٹیم اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس نصیب اللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز رضاکاروں کی ایک ٹیم کوئٹہ کے نواحی علاقے شالکوٹ میں بچوں کو انسدادِ پولیس کے قطرے پلانے میں مصروف تھی جب اس پر موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔

فائرنگ سے ٹیم میں شامل دو خواتین شدید زخمی ہوگئیں جن میں سے ایک نے موقع پر ہی دم توڑدیا۔

پولیس کے مطابق دوسری زخمی خاتون کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا جارہا تھا لیکن خون زیادہ بہہ جانے کہ وجہ سے وہ بھی جانبر نہ ہوسکیں۔

مسلح افراد واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

ایس ایس پی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا ہے کہ رضاکاروں کے ساتھ پولیس کے جوان تعینات تھے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فائرنگ کے وقت پولیس کے جوان کہاں تھے۔

اس سے قبل جمعرات کی صبح کوئٹہ کے مرکزی علاقے ڈبل روڈ پر ایک پُل پر لگائے گئے ناکے پر تعینات پولیس اہلکاروں پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کردی تھی جس سے تین اہلکار شدید زخمی ہوئے تھے۔

زخمی اہلکاروں میں سے ایک نے موقع پر ہی دم توڑ دیا تھا جب کہ دوسرا اسپتال میں طبی امداد ملنے کے دوران چل بسا۔ ڈاکٹروں کے مطابق تیسرے زخمی کی حالت بھی نازک ہے۔

ایس ایس پی نصیب اللہ کے بقول تینوں اہلکاروں کا تعلق ریپڈ رسپانس گروپ (آر ایس جی) سے تھا جنہیں کوئٹہ شہر کو سریاب کے علاقے سے ملانے والے پُل کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے اور فائرنگ کرنے والے افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔

دو روز قبل بھی اس علاقے کے قریب رئیسانی روڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے ایک ٹریفک پولیس اہلکار کو قتل کردیا تھا۔

جمعرات کو پیش آنے والے دونوں واقعات کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے سوشل میڈیا پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں قبول کرلی ہے۔

بدھ کو بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں فرنٹیر کور کی گاڑیوں پر بم حملہ کیا گیا تھا جس سے ایف سی کی گاڑیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ البتہ دھماکے سے پولیس کے دو اہلکاروں سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس سے قبل رواں ماہ کے دوسرے ہفتے میں بلوچستان اسمبلی کے قریب پولیس کے ایک ٹرک پر خودکش حملے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بلوچستان میں حالیہ چند ماہ کے دوران پولیس پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ سال صوبے میں پولیس کے اعلیٰ افسران پر دو خودکش حملوں میں دو ڈی آئی جیز سمیت پانچ اہلکار ہلاک ہوئے تھے جب کہ پولیس کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے ایک درجن سے زائد واقعات میں تین اعلیٰ افسروں سمیت 49 اہلکار جان کی بازی ہار گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG