رسائی کے لنکس

logo-print

بالٹی مور: فریڈی گرے کیس مقدمہ، پولیس اہل کار بَری الذمہ قرار


فریڈی گرے کی موت کے مقدمے میں جمعرات کو عدالت نے پولیس اہل کار کو بری قرار دیا۔ بالٹی مور میں اپریل 2015ء میں فریڈی گرے پولیس گاڑی کی پچھلی نشست پر سوار تھے، جن کی موت پر شہر میں کئی دِنوں تک بدترین احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ گُڈسن پر غیرارادی قتل، حملہ، بددیانتی اور غفلت برتنے کے الزامات شامل تھے

میری لینڈ کے شہر، مالٹی مور میں اپریل 2015ء میں ایک پولیس گاڑی کے پچھلے حصے میں سوار، شہری فریڈی گرے کی موت کے مقدمے میں ملوث پولیس اہل کو بَری کر دیا گیا ہے، جس ہلاکت پر شہر بھر میں کئی دِنوں تک احتجاج اور بلوے ہوتے رہے تھے۔
فریڈی گرے کی موت کے مقدمے میں جمعرات کو عدالت نے پولیس اہل کار کو بری قرار دیا۔ میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں اپریل 2015ء میں فریڈی گرے پولیس گاڑی کی پچھلی نشست پر سوار تھے، جن کی موت پر شہر میں کئی دِنوں تک بدترین احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

گرے کی موت کے معاملے پر چھ پولیس اہل کاروں پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی، لیکن سیزر گُڈسن پر سنگین الزامات تھے، جس میں قتل پر منتج ہونے والی سنگ دلی کا مظاہرہ کرنے کا الزام بھی شامل تھا۔ گُڈسن پر غیرارادی قتل، حملہ، بددیانتی اور غفلت برتنے کے الزامات شامل تھے۔

’نان جیوری‘ مقدمے میں، بالٹی مور کے سرکٹ جج، بیری ولیمز نے پانچ دِن کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ ولیمز نے فیصلہ دیا کہ وکلائے استغاثہ مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ 46 برس کے گُڈسن نے گرے کو غفلت پر مبنی سفر کرایا، ایسے میں جب پولیس گاڑی کی پچھلے سیٹ پر اُنھیں بغیر حفاظتی بیلٹ باندھے بٹھایا گیا۔

تھانے لے جاتے ہوئے، 25 برس کے گرے کے شدید چوٹیں آئیں، جب اہل کاروں نے گاڑی میں اُن کے ہاتھ پاؤں باندھے، جب کہ اُن کے حفاظتی بیلٹ نہیں باندھے گئے تھے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ گرے کو محفوظ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی اور یہ کہ بیلٹ لگنے سے وہ گاڑی کے لوہے کی دیواروں سے ٹکرانے سے بچ جاتے۔

گُڈسن کی بریت سے عدالت میں دائر دیگر مقدمات بے اثر پڑے گا۔ دوسرے پولیس اہل کاروں پر بھی اِسی قسم کے الزامات ہیں۔ تاہم، اُن پر کم سنگین الزامات ہیں۔

XS
SM
MD
LG