رسائی کے لنکس

logo-print

فوجی عدالتوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان


فائل فوٹو

پاکستان میں فوجی عدالتوں کو عام شہریوں کے خلاف مقدمات سننے کے اختیار کی مدت 30 مارچ کو ختم ہو رہی ہے جب کہ حکمران جماعت اور حزب اختلاف کی پارٹیاں تاحال آئندہ کے لیے لالحہ عمل طے نہیں کر سکی ہیں۔

حکومتی جماعت تحریک انصاف نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے لیکن پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل نہ کر سکنے کے باعث اس پر کوئی پیش رفت نہیں کر سکی۔

پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد جنوری 2015 میں 21 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں تھیں جن کی مدت جنوری 2017 میں ختم ہو گئی تھی۔ بعد ازاں اسی سال مارچ میں ان کے دورانیئے میں مزید دو سال کی توسیع کی گئی جن کی مدت 30 مارچ 2019 کو ختم ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز داخلی سلامتی سے متعلق کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو فوجی عدالتوں اور نیشنل ایکشن پلان پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔

ایسی صورت حال میں جب سیاسی طور پر حکومت اور حزب مخالف میں سخت اختلافات پائے جاتے ہیں کیا تحریک انصاف، حکومت مخالف پارلیمانی جماعتوں، خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کر سکے گی۔ ہم نے اس سلسلے میں تین بڑی پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی ہے۔

اگرچہ حزب اختلاف کی اہم جماعت پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کر چکی ہیں تاہم حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت مسلم لیگ ن نے اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا ہے۔

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی قیصر احمد شیخ کہتے ہیں کہ ان کی جماعت نے تاحال فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے پر فیصلہ نہیں کیا کیونکہ حکومت نے ان سے ابھی تک باضابطہ بات چیت نہیں کی۔

وائس آف امریکہ سے بات کرت ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ایک پالیسی معاملہ ہے جس پر حکومت کی جانب سے بات چیت کے آغاز کے بعد ہی نئے حالات کے تحت اندازہ لگایا جائے گا۔

پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کی عددی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو حکومتی اتحاد، مسلم لیگ ن کی حمایت سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی آئینی ترمیم منظور کروا سکتا ہے۔ سیاسی ماہرین یہ توقع رکھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف فوجی عدالتوں کی توسیع کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں گی۔

اگرچہ حزب اختلاف کی اہم جماعت پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کر چکی ہیں تاہم حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت مسلم لیگ ن نے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا ہے۔

فوجی عدالتوں کے بارے میں سے حزب اختلاف کے تحفظات دور کرنے کی حکومت کی تازہ کوشش پر پیپلز پارٹی کا رد عمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو کے ترجمان سینٹر مصطفی نواز نے وائس آف امریکہ سے کہا کہ یہ ایک عارضی بندوبست تھا جس میں مزید توسیع پر پیپلز پارٹی تیار نہیں ہو گی۔

حکومتی جماعت تحریک انصاف کے رکن پارلیمنٹ راجہ خرم نواز ملک سمجھتے ہیں کہ ملک امن و امان کے دیر پا قیام کے لئے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر قائم کمیٹی اس سلسلے میں حزب اختلاف کے تحفظات دور کرے گی۔

فوجی عدالتوں کے سن 2015 میں قیام پر انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں، بعض سیاسی رہنماوں اور وکلاء نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اب جبکہ اپنی آئینی مدت اور اس میں دو سال کی مزید توسیع کا عرصہ بھی مکمل ہونے کے بعد ان عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمے چلانے کا اختیار ختم ہو رہا ہے، ملک میں ایک بار پھر فوجی عدالتوں کی افادیت، ان کی آئینی حیثیت اور انسانی حقوق موضوع گفتگو ہیں۔

پشاور کے اے پی ایس واقعے کے بعد غیر معمولی صورت حال سے نمٹنٹے کے لئے بنائی گئی فوجی عدالتوں کے قیام کے وقت طے ہوا تھا کہ دہشت گردی کے مقدمات چلانے کے لیے سویلین عدالتی نظام یا کرمنل جسٹس سسٹم کو مضبوط کیا جائے گا لیکن موجودہ اور گزشتہ سیاسی حکومت اس سمت خاطرخواہ پیش قدمی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG