رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کی دنیا بھر مذمت


فلسطینی مظاہرین کو روکنے کے لیے اسرائیلی سپاہی پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔ 14 مئی 2018

امریکہ کے بہت سے اتحادیوں اور مخالفین نے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگیوں اور تناؤ میں اضافہ ہو گا۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے سے پہلے ہم امریکہ کی جانب سے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں۔

فرانس کے صدر ایمانوئل مکرون نے غزہ میں پیر کے روز ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے جس میں اسرائیلی سپائیوں کی فائرنگ سے 52 فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے۔

صدر مکرون نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلے کے نتائج کے متعلق کئی بار خبردار کر چکے ہیں۔

صدر مکرون کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر آنے والے دنوں میں علاقے کے تمام کرداروں سے بات کریں گے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ماسکو کا اعتراض ایک بار پھر دوہراتے ہوئے کہا کہ ہمیں پختہ یقین ہے کہ اس طریقے سے یک طرفہ طور پر بین الاقوامی کمیونٹی کے فیصلے کو بدلنا غیر مناسب اقدام ہے۔

عرب دنیا کے بہت سے راہنماؤں نے بھی اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے اسے جارحیت قرار دیا ہے اور ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اسے ایک انتہائی شرمناک دن سے تعبیر کیا ہے۔

سعودی عرب نے غزہ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی فائرنگ کی مذمت کی ہے جس میں درجنوں مظاہرین ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے لیے کویت کے سفیر منصور العتابی نے غزہ میں تشدد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں جو کچھ ہوا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور اس پر ہم اپنا رد عمل دیں گے ا ور ہم دیکھیں گے کہ سلامتی کونسل اس سلسلے میں کیا کرتی ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے، جو لندن کے دورے پر ہیں، کہا ہے کہ سفارت خانے کی منتقلی ایک انتہائی بدقسمت واقعہ ہے اور اس اقدام سے امریکہ مشرق وسطی ٰ کے امن عمل میں ثالث کا کردار ادا کرنے کا اہل نہیں رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG