رسائی کے لنکس

logo-print

گھر لوٹنے والا غیر کیسے ہوا: میران حسین


میران حسین

شروع شروع میں لوگ دیکھ کر کہتے تھے کہ جرمن ہے، غیر ملکی ہے۔ تو سن کر دل دُکھتا تھا، کیوں کہ میں انہیں کیسے سمجھاتا کہ میں تو ایک گھر سے دوسرے گھر آیا ہوں اور جو اپنے گھر آتا ہے وہ غیر کیسے ہوا؟ یہ کہنا تھا 21 سالہ میران حسین کا جنہوں نے جرمنی سے پاکستان تک کا طویل سفر پیدل کیا ہے۔

میران کے والد کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے جب کہ ان کی والدہ جرمن ہیں۔ میران نے پہلی بار پاکستان کا سفر دو برس کی عمر میں کیا تھا۔ اس وقت انہوں نے یہ بالکل نہیں سوچا تھا کہ اگلی بار جب وہ پاکستان آئیں گے تو ان کا سفر اتنا دلچسپ، پر خطر اور ایڈونچر سے بھرپور ہوگا۔

میران ہمیں کراچی کے گنجان آباد علاقے صدر میں ملے تھے۔ وہ یہاں اپنے ایک دوست کے گھر پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے میران نے بتایا کہ انہوں نے جرمنی سے لگ بھگ ساڑھے سات ہزار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل چل کر طے کیا اور پھر پاکستان پہنچے ہیں۔

میران مخلتف ممالک گھومتے ہوئے پاکستان پہنچے جن میں جرمنی، آسٹریا، اٹلی، سلووینیا، کروشیا، سربیا، بلغاریہ، یونان، ترکی، جارجیا، آرمینیا اور ایران شامل ہیں۔ یوں، جرمنی سے پاکستان پیدل پہنچنے میں انہیں 14 مہیںے لگ گئے۔

میران نے جس وقت اپنا سفر شروع کیا تھا وہ 19 برس کے تھے۔ پاکستان میں انہوں نے چھ ماہ قیام کیا جس میں ان کا بیشتر وقت پنجاب کے شہر لاہور میں گزرا۔ لیکن اس دوران وہ شمالی علاقہ جات سمیت، گلگت بلتستان اور پاکستان اور چین کی سرحد خنجراب بائی پاس بھی گئے اور پہاڑی علاقوں کا یہ دشوار سفر انہوں نے سائیکل پر طے کیا۔

پاکستان سے محبت اور یہاں کی ثقافت سے لگاؤ میران کو اپنے گھر سے ہی ملا تھا۔ لیکن، ان کی خواہش تھی کہ وہ اس ملک کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ اسی سوچ نے انہیں یہ سفر کرنے پر مجبور کیا۔ اس سے قبل وہ اپنے ملک جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کا سفر کر چکے تھے۔ لیکن، ہزاروں میل دور پیدل سفر کر کے پاکستان آنا ان کے خاندان کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔

میران نے ہمیں بتایا کہ "میں نے سفر سے پہلے کوئی پلاننگ نہیں کی تھی۔ یہی سوچا کہ اگر پیسے، پڑھائی، کیریئر کی فکر میں لگا رہا تو وقت گزرتا چلا جائے گا۔ میرے ذہن میں صرف یہی تھا کہ ابھی میں کم عمر ہوں، مجھ میں توانائی ہے اور میں یہ کر سکتا ہوں۔ تو میں نے اس مہم جوئی کا ارادہ کر لیا۔"

اپنے سفر کے دوران میران نے مختلف ملکوں کے سخت موسم بھی دیکھے اور کئی تکالیف جھیلیں۔ میران کے بقول، "لیکن، جب میں پاکستان میں داخل ہوا تو محسوس ہوا کہ میری ساری تھکاوٹ ختم ہوگئی ہے۔ بلاشبہ یہ سفر پر خطر بھی تھا اور میری صحت بھی اس سے متاثر ہوئی، کیوں کہ روز 50 کلو میٹر پیدل چلنا آسان نہیں۔"

میران روز صبح نو بجے سے رات نو بجے تک اپنا سفر جاری رکھتے تھے جس میں وہ کھانے پینے یا آرام کی غرض سے مختصر وقت کے لیے رکتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ "رات تک میری ٹانگیں دکھنے لگتی تھیں اور پھر میں مختلف ورزشوں کا سہارا لے کر درد کم کرنے کی کوشش کرتا تھا۔"

میران کے مطابق، انہیں پاکستان کا سفر شروع کرنے سے قبل کئی لوگوں نے بار بار کہا تھا کہ یہ ملک محفوظ نہیں ہے۔ لیکن، یہاں پہنچ کر قیام کے دوران انہیں ایسا محسوس نہیں ہوا۔

میران نے بتایا کہ "زیادہ تر تو پاکستانی ہی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان محفوظ ملک نہیں۔ لیکن، میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ ملک نہ صرف محفوظ ہے، بلکہ یہاں کے لوگ سب سے اچھے ہیں۔ میں خود کو خوش قسمت بھی سمجھتا ہوں کہ میرے ساتھ اس ملک میں اب تک کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ میں نے بلوچستان اور سندھ بھی دیکھا اور میرا یہ تجربہ اچھا رہا۔"

میران کے بقول، "کسی بھی ملک کے مناظر دلفریب ہوں، پہاڑ اچھے ہوں۔ لیکن، اگر لوگ اچھے نہ ہوں تو کچھ اچھا نہیں ہوتا۔ یہاں کے لوگوں نے میری بہت آؤ بھگت کی۔ یہاں کے لوگ بہت زندہ دل اور مہمان نواز ہیں۔"

میران نے ہنستے ہوئے بتایا کہ جب وہ ایران سے آ رہے تھے تو وہاں انہیں سب ایک ہی جیسے دکھائی دے رہے تھے۔ لیکن، جیسے ہی وہ پاکستان میں داخل ہوئے تو ہر جانب مختلف رنگ، شور شرابے سے بھرپور زندگی اور زندہ دلی دیکھ کر وہ خوش ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کی نسبت یہاں زیادہ آزادی ہے۔

میران نے پاکستان میں اپنے قیام کے دوران اردو زبان بھی سیکھی ہے۔ اب وہ نہ صرف اچھی اردو بول لیتے ہیں بلکہ پڑھ بھی لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں قیام کے دوران ان کے عزیز و اقارب نے انہیں اردو سکھائی۔

میران کہتے ہیں کہ اردو سیکھنے کی اہم وجہ اس تاثر کو دور کرنا تھا کہ وہ جرمن ہیں اور غیر ملکی سیاح ہیں۔ میران کے مطابق، انہیں ابتدائی ڈیڑھ دو ماہ تک ایسے رویّے کا سامنا رہا کہ لوگ ان سے بہت اچھے سے ملتے تھے۔ لیکن، گھل مل نہیں پاتے تھے، چونکہ زبان ایک اہم رکاوٹ تھی۔ میران نے اس تعلق کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اردو زبان سیکھی، تاکہ مقامی لوگوں سے گفتگو آسان ہو سکے۔

پاکستان کی شہریت لینے کی کوئی خاص وجہ تھی؟ اس سوال کے جواب میں میران کہنے لگے کہ یہ ملک ان کا دوسرا گھر ہے۔ وہ یہاں خود کو سیاح نہیں سمجھتے اور نہ ہی مہمان۔ یہاں کی ثقافت، کھانے، لوگوں اور تہذیب نے انہیں بے حد متاثر کیا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے یہاں کی شہریت حاصل کی کہ مستقبل میں کبھی بھی وہ یہاں آئیں تو لوگ انہیں جرمن نہیں بلکہ اسی ملک کا باشندہ سمجھیں۔

میران کے بقول، سفر کے دوران بعض علاقوں میں ان کی نقل و حمل کو غیر ملکی ہونے کے سبب روکا گیا اور سیکیورٹی بھی فراہم کی گئی کیوں کہ اس وقت ان کے پاس ویزا تھا۔ لیکن، شہریت لینے کے بعد انہیں کہا گیا کہ اب یہ ملک آپ کا ہے، آپ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔

میران نے کراچی سے جرمنی واپسی کے سفر کے لیے سائیکل کا انتخاب کیا ہے۔ وہ سائیکل کی خریداری کی غرض سے مختلف بازار بھی گھومتے رہے۔ اس دوران انہوں نے عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر بھی حاضری دی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ اور پنجاب کے سفر کے دوران بھی انہوں نے مختلف مزاروں پر حاضری دی۔ میران موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور پاکستانی موسیقی بہت شوق سے سنتے ہیں۔ انہیں نصرت فتح علی خان بہت پسند ہیں۔

سفر کے دوران انہیں جہاں نت نئے تجربات کا سامنا رہا وہیں انہوں نے اس یادگار سفر کی کئی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائیں۔ میران کے بقول، انہیں پاکستان کے پہاڑوں سے محبت ہوگئی اور یہاں کے بیابان نے بھی ان کے دل میں جگہ بنالی۔ میران کے مطابق، انہوں نے لاہور کے چھولے بھی کھائے اور کراچی کی بریانی بھی اور یہاں کے کھانے انہیں کافی پسند آئے۔

میران نے ہم سے باتوں کے دوران ہی اپنے دوست کے گھر سے اپنا سامان سمیٹا، جس میں مختلف اقسام کے چھوٹے بڑے بیگ شامل تھے۔ اس سامان کا وزن لگ بھگ 30 کلو سے زائد تھا۔ یہ تمام سامان سائیکل پر رکھنے کے بعد انہوں نے ہیلمٹ اور دستانے پہن کر ہمیں الوداع کہا اور کراچی سے جرمنی واپسی کا سفر شروع کر دیا۔

میران کو توقع تھی کہ وہ واپسی کا سفر سات سے آٹھ ماہ میں مکمل کر لیں گے۔ "مجھے اس سفر میں تکلیف بھی ہوئی، درد بھی رہا۔ لیکن میں نے اپنے شوق کی تکمیل کے لیے اسے سہا کہ میں ایک بار پاکستان اپنے گھر پہنچ جاؤں۔ کیوں کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور میں نے اس سفر میں جو کچھ دیکھا اور جو محسوس کیا، وہ اتنا یادگار ہے کہ اس کے سامنے یہ قیمت کچھ معنی نہیں رکھتی۔ میں مستقبل میں پھر سے یہاں آنا پسند کروں گا۔ اب گھر والے اداس ہیں تو ان سے بھی ملنا ہے اس لیے واپسی کا سفر شروع کر رہا ہوں۔"

سفر پر روانگی سے قبل، میران نے یہ باتیں کیں اور پھر صدر کی بل کھاتی گلیوں سے وہ کسی مرکزی شاہراہ کی جانب نکل پڑے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG