رسائی کے لنکس

سال 2019 میں طیارہ حادثات میں 50 فی صد کم اموات ہوئیں: رپورٹ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ہوا بازی سے متعلق تحقیق کرنے والے ایک ادارے نے کہا ہے کہ 2019 میں فضائی حادثات میں ہونے والی اموات میں واضح حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ سال 2018 کے مقابلے میں 2019 میں ہونے والی ہلاکتیں نصف سے بھی کم رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق کمرشل مسافر طیاروں کے حادثات اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں کے یہ اعداد و شمار 'دی ٹو70' نامی ایک ادارے نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں جاری کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2019 میں مسافر طیاروں کے حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں تقریباً 50 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ سال آٹھ مسافر طیاروں کے حادثات ہوئے جن میں 257 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب 2018 میں مسافر طیاروں کے 13 حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 534 رہی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں ہلاکتوں کی تعداد مزید کم ہو سکتی تھی اگر دسمبر کے اواخر میں قازقستان میں طیارہ حادثہ نہ ہوا ہوتا۔

یاد رہے کہ گزشتہ جمعے کو قازقستان میں ایک مسافر طیارہ پرواز کے کچھ سیکنڈز بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ میں سال 2019 کا سب سے افسوس ناک حادثہ ایتھوپین ایئرلائن کے بوئنگ 737 میکس طیارہ حادثے کو قرار دیا گیا ہے۔ یہ مسافر طیارہ 10 مارچ کو تباہ ہوا تھا جس میں 157 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

قازقستان میں مسافر طیارہ اڑان کے فوری بعد گر کر تباہ

وسطی ایشیائی ملک کے شہر الماتی کے قریب مسافر طیارہ اڑان کے کچھ دیر بعد گر کر تباہ ہوا۔
1/11 وسطی ایشیائی ملک کے شہر الماتی کے قریب مسافر طیارہ اڑان کے کچھ دیر بعد گر کر تباہ ہوا۔
مزید Show less
حادثے کے شکار ہونے والے طیارے میں 98 افراد سوار تھے۔
2/11 حادثے کے شکار ہونے والے طیارے میں 98 افراد سوار تھے۔
مزید Show less
طیارے کا انتظام سنبھالنے کے لیے عملے کے پانچ افراد فرائض انجام دے رہے تھے۔
3/11 طیارے کا انتظام سنبھالنے کے لیے عملے کے پانچ افراد فرائض انجام دے رہے تھے۔
مزید Show less
قازق سول ایوی ایشن کے مطابق بیک ایئر کا مسافر طیارہ جمعے کی صبح دارالحکومت نور سلطان جا رہا تھا جب حادثے کا شکار ہوا۔
4/11 قازق سول ایوی ایشن کے مطابق بیک ایئر کا مسافر طیارہ جمعے کی صبح دارالحکومت نور سلطان جا رہا تھا جب حادثے کا شکار ہوا۔
مزید Show less
حکام نے حادثے کے بعد فوری طور پر 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
5/11 حکام نے حادثے کے بعد فوری طور پر 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
مزید Show less
حکام کے مطابق طیارہ اڑان بھرتے ہی توازن برقرار نہ رکھ سکا اور قریب واقع عمارت سے ٹکرا گیا۔
6/11 حکام کے مطابق طیارہ اڑان بھرتے ہی توازن برقرار نہ رکھ سکا اور قریب واقع عمارت سے ٹکرا گیا۔
مزید Show less
حادثے میں زخمی ہونے والے 63 مسافروں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
7/11 حادثے میں زخمی ہونے والے 63 مسافروں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
مزید Show less
حادثے کے مقام پر امدادی رضا کاروں سمیت متعدد اداروں کے اہلکار پہنچے اور امدادی کاموں کا آغاز کیا۔
8/11 حادثے کے مقام پر امدادی رضا کاروں سمیت متعدد اداروں کے اہلکار پہنچے اور امدادی کاموں کا آغاز کیا۔
مزید Show less
رپورٹس کے مطابق شدید سردی کی وجہ سے طیارہ آتش زدگی سے محفوظ رہا۔
9/11 رپورٹس کے مطابق شدید سردی کی وجہ سے طیارہ آتش زدگی سے محفوظ رہا۔
مزید Show less
طیارہ حادثے میں ایک خستہ عمارت سے ٹکرایا جس سے بلڈنگ بھی تباہ ہو گئی۔
10/11 طیارہ حادثے میں ایک خستہ عمارت سے ٹکرایا جس سے بلڈنگ بھی تباہ ہو گئی۔
مزید Show less
سرد موسم اور برف کے باعث امدادی کاموں میں رضاکاروں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
11/11 سرد موسم اور برف کے باعث امدادی کاموں میں رضاکاروں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید Show less
Previous slide
Next slide

رپورٹ کے مطابق 2018 اور 2019 میں ہونے والے حادثات کی وجہ سے جہاں ایک طرف بوئنگ 737 میکس طیاروں کو گراؤنڈ کرنا پڑا۔ وہیں ان حادثان نے ہوا بازی سے متعلق انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے کمرشل جہازوں میں جان لیوا حادثات کی شرح 2019 میں کم ہو کر 0.18 حادثات فی دس لاکھ پروازوں پر آ گئی ہے۔ سال 2018 میں دس لاکھ پروازوں میں سے 0.30 کی شرح سے حادثات ہوئے تھے۔ یعنی رواں سال ہر پانچ لاکھ 50 ہزار پروازوں کے بعد ایک پرواز حادثے کا شکار ہوئی۔

اعداد و شمار پر مبنی اس رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ عالمی ہہوا بازی کی صنعت کو اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ صرف بہترین ڈیزائن اور بناوٹ کے جہازوں کو ہی فضائی سفر کی اجازت دے جنہیں انتہائی تربیت یافتہ عملہ آپریٹ کرے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ گزشتہ برس فضائی حادثوں میں کم افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ تعداد 2017 کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ سال 2017 میں مسافر طیاروں کے صرف دو حادثات ہوئے تھے جن میں 13 اموات ہوئی تھیں۔

خیال رہے کہ مذکورہ رپورٹ صرف بڑے کمرشل مسافر طیاروں کے حادثات سے متعلق ہے۔ اس میں چھوٹے جہاز، فوجی یا جنگی طیاروں، کارگو فلائٹس اور ہیلی کاپٹروں کے حادثات شامل نہیں کیے گئے ہیں۔

This item is part of
​
XS
SM
MD
LG