رسائی کے لنکس

logo-print

گومل یونیورسٹی جنسی ہراسانی اسکینڈل، معاملہ ہے کیا؟


(فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع گومل یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کے الزامات پر اہم عہدے داروں کو ملازمتوں سے برطرف کرنے کا معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کی ہدایت پر یونیورسٹی کے چار اعلٰی عہدے داروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل گومل یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹیڈیز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین کو ایک نجی ٹی وی کے اسٹنگ آپریشن کے بعد برطرف کیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل کی گومل یونیورسٹی میں عرصہ دراز سے اساتذہ اور دیگر عہدیداروں کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی بھی جاری تھی۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی میں خواتین اساتذہ اور طلبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات بھی عام تھیں۔

فروری کے آخر میں نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں اسٹنگ آپریشن کیا گیا تھا۔ جس میں پروفسیر صلاح الدین کی خواتین کے ساتھ نامناسب حرکات کی خفیہ ویڈیوز عکس بند کر لی گئی تھیں۔ جس کے بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے مذکورہ پروفیسر سے فوری استعفی لے لیا تھا۔

اس دوران یونیورسٹی میں بعض اساتذہ کے خلاف بھی جنسی ہراسانی کی شکایات کے تحت تحقیقات جاری تھیں۔ جن کی سفارشات کے بعد گورنر خیبر پختونخوا نے اُنہیں عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

گورنر کے حکم پر ملازمت سے برطرف ہونے والے سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بحتیار خٹک نے بتایا کہ اُنہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ڈاکٹر بختیار خٹک نے بتایا کہ اُنہیں موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد سرور کی مبینہ کرپشن منظر عام پر لانے کی سزا دی گئی۔ ڈاکٹر خٹک نے بتایا کہ اُنہوں نے گورنر، وزیر اعلٰی، وزرا اور حکمراں جماعت کے بعض رہنماؤں کو بھی اس بابت آگاہ کیا تھا۔

ڈاکٹر بختیار خٹک نے بتایا کہ 2018 میں یونیورسٹی کے دو اعلٰی عہدے داروں کی جانب سے اُن کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے گئے۔ ان الزامات کی تحقیقات شعبہ کیمسٹری کے سربراہ ڈاکٹر محمد سعید کے سپرد کی گئیں۔ تحقیقات میں ثابت ہوا کہ یہ الزامات غلط تھے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے مذکورہ عہدے داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی۔

لیکن کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کرانے کی بجائے موجودہ وائس چانسلر نے شعبہ اسلامی علوم اور انگریزی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی قائم کر دی۔

ڈاکٹر بختیار نے بتایا کہ ڈاکٹر صلاح الدین کی کمیٹی کے خلاف اُنہوں نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور عدالت نے کمیٹی کو کسی قسم کی رپورٹ یا سفارشات دینے سے منع کیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ اور ملازمین میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور ادارے کی گرتی ہوئی ساکھ کے باعث یونیورسٹی کے ایک وفد نے جنوری میں گورنر سے ملاقات بھی کی تھی۔ جس کے بعد پروفیسر صلاح الدین کی تحقیقاتی رپورٹ کے تحت مجھ سمیت چار اہم یونیورسٹی عہدے داروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ لہذٰا وہ اور دیگر متاثرہ عہدے دار پشاور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر رہے ہیں۔

گومل یونیورسٹی کے رجسٹرار طارق محمود نے مذکورہ چار یونیورسٹی عہدے داروں کی برطرفی کا دفاع کیا ہے۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں اُنہوں نے بتایا کہ مذکورہ اساتذہ کے خلاف عائد الزامات ثابت ہو چکے تھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رُکن صوبائی اسمبلی احمد خان نے گومل یونیورسٹی کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے گومل یونیورسٹی میں انتظامی معاملات میں خرابی اور جنسی ہراسانی کی شکایات آ رہی تھیں۔ لیکن حکومت کارروائی سے گریز کرتی رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے معاملات بہتر بنانے کے لیے وزیر اعلٰی کی ہدایات کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا بہت جلد یونیورسٹی کے حوالے سے بڑا فیصلہ لیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG