رسائی کے لنکس

logo-print

الیکشن کمیشن اراکین کی تقرری کا معاملہ: ملک نئے آئینی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے؟


فائل فوٹو

پاکستان میں الیکشن کمیشن کے نئے سربراہ کے انتخاب پر پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق رائے نہیں ہوا جس کے بعد حزبِ اختلاف نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد 'رہبر کمیٹی' کے کنوینر اکرم درانی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ارکان کے ناموں پر اگر اتفاقِ رائے نہ ہو سکے تو اس سے آگے کی صورتِ حال پر آئین کا آرٹیکل 213 خاموش ہے۔

درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ پانچ دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر کی مدت مکمل ہو رہی ہے جس کے بعد ملک میں ممکنہ طور پر آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ اس بحران سے نمٹنے کے لیے مناسب فیصلہ کرے۔

خیال رہے الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک آئینی بحران کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ جس کے باعث الیکشن کمیشن کے غیر فعال ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

اپوزیشن نے الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ (فائل فوٹو)
اپوزیشن نے الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ (فائل فوٹو)

آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کے امور چلانے کے لیے کم از کم تین ممبران کا موجود ہونا لازم ہے۔ اگر ممبران کی تعداد تین سے کم ہو جائے تو یہ ادارہ غیر فعال ہو جائے گا۔

پانچ رکنی الیکشن کمیشن کے دو اراکین کی تقرری لگ بھگ ایک سال سے التوا کا شکار ہے اور اب چیف الیکشن کمشنر سردار رضا محمد خان کی پانچ سالہ آئینی مدت جمعرات 5 دسمبر کو ختم ہونے جا رہی ہے۔

حکومتی رہنماؤں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے اقدام پر اپوزیشن پر تنقید کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے لیے تجویز کردہ تمام نام غیر جانب دار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے کے قریب ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ادارے کو غیر فعال ہونے سے بچانے کے لیے آج ہی چیف الیکشن کمشنر کے نام پر اتفاق رائے کر لینا چاہیے۔

فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ (فائل فوٹو)
فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ (فائل فوٹو)

دوسری جانب پیپلز پارٹی کی سینیٹ میں پارلیمانی سربراہ شیری رحمٰن کہتی ہیں کہ حکومت یکے بعد دیگرے نئے بحران پیدا کر رہی ہے اور آئینی اداروں کو غیر فعال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف نے بارہا اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ کے بعد آئینی ادارہ غیر فعال ہو جائے گا۔

آئینی بحران کیوں پیدا ہوا؟

آئین کی شق 213 (2 اے) کے تحت وزیرِ اعظم کو الیکشن کمشنر یا ممبران کی تعیناتی کے لیے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سے مشاورت کرنا ہوتی ہے۔

وزیرِ اعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں دونوں جانب سے تین ناموں پر مبنی ایک فہرست پارلیمانی کمیٹی کو بجھوائی جاتی ہے جو کہ حکومت اور اپوزیشن کے برابر اراکین پر مشتمل ہوتی ہے۔

پارلیمانی کمیٹی ان تین ناموں میں سے کسی ایک پر اتفاق کرنے کے بعد انہیں منتخب کر سکتی ہے اور صدرِ مملکت چیف الیکشن کمشنر کا نوٹی فکیشن جاری کرتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے حوالے سے اس آئینی بحران کی وجہ بھی یہی طریقہ کار ہے۔ کیوں کہ آئین میں اس بات کا تعین نہیں کیا گیا کہ اگر پارلیمانی کمیٹی کسی نام پر متفق نہ ہو سکے تو اس کے بعد کیا طریقہ کار اپنایا جائے گا؟

وزیرِ اعظم کو الیکشن کمشنر یا ممبران کی تعیناتی کے لیے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سے مشاورت کرنا ہوتی ہے۔ (فائل فوٹو)
وزیرِ اعظم کو الیکشن کمشنر یا ممبران کی تعیناتی کے لیے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سے مشاورت کرنا ہوتی ہے۔ (فائل فوٹو)

حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک کی وجہ

سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی مدت مکمل ہونے کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے درمیان نئے ارکان کی تعیناتی کے لیے خط و کتابت تو کی جاتی رہی، لیکن اس سے متعلق کوئی باضابطہ یا بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی۔

پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کے بعد صدر مملکت نے ماہرِ قانون خالد محمود صدیقی کو سندھ جب کہ محمد منیر کاکڑ کو بلوچستان سے الیکشن کمیشن کا رکن مقرر کیا تھا۔

تاہم چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے ان دونوں ارکان سے حلف لینے سے معذرت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ ان ارکان کی تعیناتی کے لیے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

وفاقی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے حلف نہ لینے کے اقدام پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور حکومتی وزرا نے اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جانے کے بیانات بھی دیے تھے۔

چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے صدر مملکت کے نامزد کردہ ارکان سے حلف لینے سے معذرت کر لی تھی۔ (فائل فوٹو)
چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے صدر مملکت کے نامزد کردہ ارکان سے حلف لینے سے معذرت کر لی تھی۔ (فائل فوٹو)

وزیرِ قانون فروغ نسیم کے مطابق آئین کے مطابق اگر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف میں کسی نام پر اتفاق نہ ہو تو ایسی صورت میں تعیناتی کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اس پر آئین خاموش ہے۔

اُن کے بقول، جہاں آئین خاموش ہو جائے تو صدر مملکت اپنا اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے کی گئی ان نئی تعیناتیوں کو چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد ملک میں ایک ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے جو اب الیکشن کمیشن کو غیر فعال کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ہائی کورٹ کی حکومت کو 10 روز کی مہلت

حکومت کا یہ اقدام اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جہاں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیے تھے کہ ایسے معاملات کو عدالتوں میں کیوں لایا جاتا ہے؟ پارلیمنٹ میں ان کو حل ہونا چاہیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کا معاملہ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو حل کرنے کے لیے کہا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کا معاملہ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو حل کرنے کا کہا تھا۔ (فائل فوٹو)
اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کا معاملہ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو حل کرنے کا کہا تھا۔ (فائل فوٹو)

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمانی کمیٹی کے دو اجلاس شیریں مزاری کی سربراہی میں منعقد ہوئے۔ لیکن ان میں بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

جمعرات کو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ معاملے پر پیش رفت ہو رہی ہے اور حتمی اتفاق رائے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے الیکشن کمیشن اراکین کی تقرری کے معاملے کو حل کرنے کے لیے حکومت کو 10 روز کی مہلت دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG