رسائی کے لنکس

جنوبی وزیرستان میں ’طالبانائزیشن‘ پر انسانی حقوق کمیشن کی تشویش


بیان میں کہا گیا کہ ایچ آر سی پی جنوبی وزیرستان میں ’’طالبانائزیشن‘‘ کی ممکنہ بحالی کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر فکر مند ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق ’ایچ آر سی پی‘ نے افغان سرحد سے ملحق جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں حال ہی میں ایک امن کمیٹی کی طرف سے علاقے میں بہت سی سماجی، ثقافتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

’ایچ آر سی پی‘ کی طرف سے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ایک پمفلٹ کے ذریعے وانا میں اپنے خاندان کے کسی مرد کے بغیر خواتین کے گھر سے باہر نکلنے اور مقامی لوگوں کو رات دس بجے کے بعد عوامی مقامات پر جانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

حقوق انسانی کمیشن کی طرف سے کہا گیا کہ اس قسم کی اطلاعات کا ایک ایسے وقت منظر عام پر آنا اس لیے بھی زیادہ باعث تشویش ہے کیوں کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا کے دیہاتوں شکتوئی، سمال اور بوبارھ میں ایک غیر اعلانیہ فوجی آپریشن کی خبریں بھی گردش کر رہی تھیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایچ آر سی پی جنوبی وزیرستان میں ’’طالبانائزیشن‘‘ کی ممکنہ بحالی کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر فکر مند ہے۔

واضح رہے کہ وانا میں امن کمیٹی کی طرف سے پمفلٹس یہ بھی دھکمی دی گئی کہ تجویز کردہ ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگرچہ جنوبی وزیرستان کی سول انتظامیہ کی طرف پمفلٹ کی تقسیم کی تو تصدیق کی گئی لیکن اس بات کی تردید کی گئی کہ اس میں امن کمیٹی ملوث ہے۔

ہومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے بیان می دعویٰ کیا گیا کہ باوثوق مقامی ذرائع کے مطابق، چند ہفتے قبل، وانا میں ایک نام نہاد دامن کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں مقامی ملک اور عمائدین سمیت کمیٹی کے اراکین نے پابندیوں پر مشتمل ہدایات جاری کیں۔

جب کہ فیصلہ کے چند دن بعد پمفلٹ تقسیم کیے گئے اور اس کے بعد آنے والے جمعے کو وانا مرکزی جامع مسجد کے پیش امام مولانا تاج محمد نے ان ہدایات کو کسی بھی قیمت پر نافذ کرنے پر زور دیا۔

وانا میں تقسیم کیے گئے پمفلٹ کا عکس
وانا میں تقسیم کیے گئے پمفلٹ کا عکس

متنازع پمفلٹ کے مطابق، موسیقی، اتھن، (شادی کے موقع پر پیش کیا جانے والا روایتی رقص) اور منشیات کے استعمال کو ممنوعقرار دینے کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ خواتین کو اپنے خاندان کے کسی مرد کے بغیر بازاروں اور صحت کے مراکز پر جانے کی اجازت نہیں۔

ایچ آر سی پی کے چیئرمین مہدی حسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انتہا پسندی کے باعث پاکستان کو بہت نقصان پڑا ہے۔

’’طالبائزیشن کا رجحان ختم نا ہوا تو پاکستان کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے ہمیں تشویش ہے اور ہم خواہش رکھتے ہیں کہ مذہبی انتہا پسندی کو ختم کر دیا جائے اور روا داری کو فروغ ملے پاکستان کے معاشرے میں۔‘‘

ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ شدت پسندانہ رویوں کے سبب عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایچ آر سی پی کو یہ جان دکھ ہوا کہ جنوبی وزیرستان کے حکام نے اس قسم کا واقعہ رونما ہونے کی تردید کی ہے۔

ایچ آر سی پی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس طرح کے اقدامات پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی کرے ’’بصورت دیگر خطرہ ہے کہ پورا ملک طالبانائزیشن کی لپیٹ میں آجائے گا جس کے نشانے پر اس وقت فاٹا ہے۔‘‘

جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد حکام یہ کہتے رہے کہ اب اس علاقے میں معمولات زندگی معمول پر آ چکے ہیں تاہم اس تازہ واقعے بعد انتہا پسندی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG