رسائی کے لنکس

logo-print

سلامتی کے لیے خطرے کے باعث دہشت گردوں کو گوانتانامو قید کیا جاتا رہے گا: امریکہ


فائل

امریکہ میدان جنگ میں پکڑے گئے مشتبہ دہشت گردوں کو کیوبا کے گوانتانامو بے کے قیدخانے کی تنصیب میں قید کرتا رہے گا، ایسے میں جب وہ ملک کے لیے ’’جاری اور اہم خطرے‘‘ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

پینٹاگان کے حکام نے یہ بات بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کو بھیجے گئے نئے ہدایت نامے میں بیان کی ہے، جس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے کی تائید کی گئی ہے، جس میں اس امریکی فوجی قید خانے سے متعلق فیصلے کو الٹنے اور اسے جاری رکھنے کی حمایت کی گئی ہے۔

ایک بیان میں محکمہٴ دفاع کی خاتون ترجمان، کمانڈر سارا ہجنز نے کہا ہے کہ ’’وزیر دفاع نے وائٹ ہاؤس کو نئی پالیسی فراہم کر دی ہے جس میں گوانتانامو بے کے امریکی بحریہ کے مرکز میں قائم حراستی تنصیب کی جانب افراد کو منتقل کرنے کی شرائط بیان کی گئی ہیں‘‘۔

بقول اُن کے، ’’یہ پالیسی ہماری جنگی لڑاکا فورس کو ہدایت فراہم کرتی ہے کہ قیدیوں کو گوانتانامو منتقل کرنے کے لیے کس طرح نامزد کیا جاسکتا ہے، ایسے میں جب کسی شخص کو امریکہ کی سلامتی کے لیے جاری اور اہمیت کا حامل خطرہ گردانا جاتا ہو‘‘۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران اور اس سال جنوری میں ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے، صدر ٹرمپ نے محکمہٴ دفاع کو 90 دِن کی مدت دی تھی کہ وہ میدانِ جنگ میں پکڑے گئے دہشت گردوں سے نمٹنے کے معاملے پر اپنی پالیسی میں جدت لائے۔

اپنی ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب میں ٹرمپ نے اپنے فیصلے کا اعلان کیا تھا، جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ داعش اور القاعدہ کے خلاف لڑائی کے حوالے سے امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ ’’دہشت گردوں کو حراست میں لینے کے لیے تمام طاقت استعمال کرے‘‘۔

ٹرمپ کے پیش رو براک اوباما نے 2009ء میں ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس میں اس حراستی تنصیب کو بند کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے گروپ اس تنصیب کے خلاف تنقید کرتے آئے ہیں اور ٹرمپ کے فیصلے پر بھی نکتہ چینی کرتے رہے ہیں کہ اسے جاری رکھا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG