رسائی کے لنکس

logo-print

'گوانتانامو میں قید پاکستانی شہری کی حراست غیر قانونی ہے'


گوانتانامو میں ایک قیدی اپنے کمرے میں بند ہے (فائل فوٹو)

رپورٹ میں ماہرین نے امریکی حکام کے ناروا رویے کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمار کے ساتھ یہ سلوک اس کے مذہب اور غیر ملکی شہری ہونے کی بنیاد پر روا رکھا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے خلیجِ گوانتانامو میں قائم امریکی حراستی مرکز میں 2006ء سے قید ایک پاکستانی شہری کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے فوری رہا کیا جانا چاہیے۔

عالمی ادارے کے ورکنگ گروپ برائے آربیٹریری ڈیٹینشن نے اپنی رپورٹ میں عمار البلوچی نامی پاکستانی شہری کی حراست کو غیر قانونی اور انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ البلوچی کو اپنی غیر قانونی حراست کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق بھی ملنا چاہیے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق مذکورہ ورکنگ گروپ پانچ آزاد ماہرین پر مشتمل ہے جو اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو رپورٹ کرتا ہے۔

امریکی حکام عمار البوچی کی حراست کو قانونی قرار دیتے آئے ہیں۔ عمار کویتی نژاد پاکستانی شہری ہے اور عبدالعزیز علی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

وہ 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کا بھتیجا ہے اور امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ بھی ان حملوں کی منصوبہ بندی میں شریک تھا۔

اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عمار متعصبانہ بنیادوں پر طویل عرصے سے حراست میں ہے اور اسے اپنے خلاف عائد الزامات کے جواب میں اپنا موقف تیار کرنے کے لیے وہ سہولتیں دستیاب نہیں جو استغاثہ کو حاصل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے قانونی نظام میں عموماً قیدیوں کو شفاف اور ضابطے کی قانونی کارروائی کا حق دیا جاتا ہے لیکن عمار البلوچی کو حاصل یہ حق سلب کرلیا گیا ہے۔

رپورٹ میں ماہرین نے امریکی حکام کے اس عمل کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمار کے ساتھ یہ سلوک اس کے مذہب اور غیر ملکی شہری ہونے کی بنیاد پر روا رکھا گیا ہے۔

ماہرین کے ورکنگ گروپ نے اپنی رپورٹ میں عمار البلوچی کی حراست کو انسانی حقوق کے آفاقی اعلامیے اور شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی ضابطے کی 13 شقوں کے خلاف قرار دیا ہے۔

رپورٹ مرتب کرنے والا گروپ میکسیکو، لیٹویا، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور بنین کے غیر وابستہ ماہرین پر مشتمل ہے جس نے اپنی رپورٹ عالمی ادارے کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کردی ہے۔

امریکی فوج کی ایک ترجمان نے عالمی ماہرین کی مذکورہ رپورٹ پر اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ عمار البلوچی کو زیرِ حراست رکھنا امریکہ کا حق ہے۔

ترجمان سارہ ہگنز نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکی فوج اس معاملے میں اپنا تفصیلی موقف ماہرین کی رپورٹ کے تجزیے کے بعد دے گی۔

اس سے قبل گزشتہ سال دسمبر میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایک اور ماہر اور تشدد سے متعلق عالمی ادارے کے مبصر نِلس میلزر نے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے دورانِ تفتیش طاقت کے بے جا استعمال پر پابندی عائد کیے جانے کے باوجود انہیں دستیاب معلومات کے مطابق عمار البلوچی پر گوانتا نامو میں بدستور تشدد کیا جارہا ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع نے عالمی مبصر کے اس دعوے کو اسی وقت مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی میں بھی عائد کیے جانے والے ایسے کئی الزامات تحقیقات کے دوران درست ثابت نہیں ہوئے تھے۔

کیوبا کے نزدیک خلیجِ گوانتانامو میں واقع امریکی فوج کا قید خانہ 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد دنیا بھر سے گرفتار کیے جانے والے غیر ملکی مبینہ دہشت گردوں کو رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

تاہم گوانتانامو میں موجود قیدیوں کے ساتھ نامناسب سلوک اور دورانِ تفتیش طاقت کے بے محابا استعمال کی شکایات پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور دیگر ادارے امریکی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔

صدر براک اوباما نے اپنے دورِ اقتدار میں آنے کے بعد گوانتانامو کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن کانگریس کی سخت مخالفت کے باعث وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تھے۔

تاہم اوباما مختلف اقدامات کے ذریعے گوانتانامو میں قید 242 قیدیوں کی تعداد کم کرکے 41 تک لانے میں کامیاب رہے تھے۔ یہ 41 قیدی بدستور گوانتانامو میں موجود ہیں۔

موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ گوانتانامو کو کھلے رکھنے کے حامی ہیں اور انہوں نے گزشتہ سال کانگریس سے جیل کو مزید بہتر بنانے کے لیے مزید فنڈز دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG