رسائی کے لنکس

logo-print

کیا درہ آدم خیل کی اسلحہ سازی کی صنعت زندہ رہ پائے گی؟


درہ آدم خیل میں ایک کاریگر بندوق بنانے میں مصروف ہے۔

درے میں اسلحے کے ایک اور تاجر خان آغا کا کہنا ہے کہ تاجر گومگوں کا شکار ہیں۔ انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اسلحہ سازی پر پابندی لگ سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے متصل ایک پٹی کی صورت میں واقع نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں اسلحہ سازی کی صنعت ایک صدی قدیم ہے۔

لیکن سہولتوں کے فقدان، حکومت کی عدم توجہ اور خطے کے معروضی حالات کے پیشِ نظر گزشتہ کئی برسوں سے یہ صنعت زوال پذیر ہے۔

مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ پچھلے چند ماہ بالخصوص جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد سے علاقے میں اسلحہ سازی میں کچھ تیزی آئی ہے۔

سابق قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال، مستقبل کے بارے میں شکوک و شہبات اور اعتراضات، مختلف علاقوں میں اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی اور مناسب سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے اس صنعت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

'حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے'

اسلحہ سازی کی صنعت سے وابستہ ایک تاجر جنت گل کا کہنا ہے کہ رواں صدی کے آغاز تک حالات بہت اچھے تھے۔ مگر بعد میں طالبان کی اس علاقے میں آمد و رفت سے یہ صنعت مکمل طور پر مفلوج ہوگئی۔

ان کے بقول جولائی میں نئی حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد حالات بتدریج بہتر ہونا شروع ہوئے ہیں لیکن قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ایک مرتبہ پھر بے چینی اور غیر یقینی بڑھتی جا رہی ہے۔

درے میں اسلحے کے ایک اور تاجر خان آغا کا کہنا ہے کہ تاجر گومگوں کا شکار ہیں۔ انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اسلحہ سازی پر پابندی لگ سکتی ہے۔

لیکن ان کے بقول پابندی لگتی ہے یا نہیں یہ انضمام کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ حالات کے باعث زیادہ تر کاریگر پشاور اور دیگر علاقوں میں جا بسے ہیں اور درے کے کاروباری حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے درے کے ایک کاریگر محمد شفیق نے اسلحہ سازی کی صنعت کے زوال کی وجہ سہولتیں نہ ہونے کو قرار دیا۔

محمد شفیق کہتے ہیں کہ علاقے میں نہ بجلی ہے نہ گیس اور نہ پانی۔ مزدوری پر کافی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تمام کام ڈیزل کے جنریٹر سے چلتا ہے جس میں خرچہ زیادہ اور آمدنی بہت کم ہے۔

شفیق نے بتایا کہ ہزاروں کی تعداد میں مزدور اور کاریگر درے کی اسلحے سازی کی صنعت سے وابستہ ہیں جس سے ان لوگوں اور ان کے خاندانوں کا رزق منسلک ہے۔

اسلحے کی برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ

درہ آدم خیل کے ایک قبائلی رہنما نثار آفریدی کہتے ہیں کہ افغانستان، پنجاب اور سندھ وغیرہ کو درے کے اسلحے کی برآمد پر پابندی کی وجہ سے بھی حالات خراب ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ رہی سہی کسر قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق تنازعات نے پوری کردی ہے۔

لیکن صوبائی وزیرِ اطلاعات شوکت علی یوسفزئی کہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں کا صوبے میں انضمام درہ آدم خیل کی اسلحہ سازی کی صنعت کے لیے بہتر ہے کیوں کہ اب ان کے بقول اس صنعت کی سرپرستی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے ایک خصوصی زون قائم کرنے کے لیے زمین بھی مختص کی ہے۔

لیکن شوکت یوسفزئی کے بقول درے کے اسلحہ سازوں کو بھی اپنا معیار بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ان کے ہاتھوں کا بنا ہوا اسلحہ بیرونِ ملک بھی برآمد کیا جاسکے۔

درے میں تیار کردہ اسلحہ تیاری کے مرحلے میں
درے میں تیار کردہ اسلحہ تیاری کے مرحلے میں

درے میں اسلحہ سازی کی تاریخ

پشاور سے لگ بھگ 45 کلومیٹر جنوب میں واقع درہ آدم خیل میں اسلحہ سازی کی صنعت کی ابتدا اُنیسوی صدی کے اواخر میں اُس وقت ہوئی تھی جب برطانوی فوج میں شامل میرو نامی ایک سپاہی بغاوت کرکے اس قبائلی پٹی میں رہائش پذیر ہوا تھا۔

مقامی روایات کے مطابق میرو اپنے ساتھ برطانوی ساخت کی بندوق بھی لے کر آیا تھا اور ساتھ ہی اسے کارتوس بنانے کا تجربہ بھی تھا۔

میرو نے مقامی قبائلیوں کے ساتھ مل کر بندوقیں بنانا شروع کیں اور رفتہ رفتہ اس علاقے میں روایتی ہتھیار بشمول بندوقیں اور پستولیں بننا شروع ہوگئیں اور یوں یہاں اسلحہ سازی کی صنعت کا رواج پڑا۔

افغان جنگ اور درہ آدم خیل

پاکستان بننے کے بعد بھی وفاق کے زیرِ انتظام دیگر قبائلی علاقوں کی طرح درہ آدم خیل کی قبائلی حیثیت برقرار رہی اور اسے سرکاری دستاویزات میں فرنٹیر ریجن کوہاٹ کا نام دیا گیا۔

قیامِ پاکستان سے 1979ء تک ملک کے مختلف علاقوں میں درہ آدم خیل میں ہاتھ اور چھوٹی موٹی مشینوں سے بنیں بندوقیں، رائفلیں، پستول اور ریوالور کا استعمال عام تھا۔ یہ تمام اسلحہ سرکاری لائسنس پر رکھا جاتا تھا۔

1979ء میں جب افغانستان پر سابق سوویت یونین نے چڑھائی کی تو وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے اس جنگ میں فرنٹ لائن کی حیثیت اختیار کر گئے۔

افغانستان پر تسلط جمانے کے لیے ایک طرف سابق سوویت یونین کی افواج جدید اسلحے کے ساتھ متحرک رہیں تو دوسری جانب سوویت یونین کو افغانستان سے نکالنے کے لیے امریکہ اور اتحادیوں نے بھی جدید اور نئے ہتھیار افغان جنگجوؤں کو فراہم کیے۔

یوں دو بڑی طاقتوں کے درمیان محاذ آرائی میں متعارف ہونے والے جدید اسلحے کی تجارت کا مرکز بھی درہ آدم خیل ہی رہا۔ درے کے اسلحہ سازوں نے بھی اس موقع سے بھر پور فائدہ اُٹھایا اور نہ صرف روسی اور چینی کلاشنکوفوں کی نقل بنانا شروع کردی بلکہ اس دوران امریکہ، فرانس، جرمنی، اسپین، بیلجیم اور دیگر ممالک کی طرف سے افغان جنگجوؤں کو ملنے والی کلاشنکوفوں، خود کار پستولوں اور دیگر جدید اسلحے کی نقلیں بھی یہاں تیار ہونا شروع ہوئیں۔

نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کی سرگرمیوں سے درہ آدم خیل کی اسلحہ سازی کی صنعت پر بھی نہایت منفی اثرات پڑے۔

طالبان کے حملوں اور کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف کاروبار متاثر ہوا بلکہ بہت سے مقامی افراد اور کاریگروں کو محفوظ مقامات پر نقل مکانی بھی کرنا پڑی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG