رسائی کے لنکس

ٹرمپ انتظامیہ نے کم سے کم تنخواہ کے تقاضے کو دوگنا کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ اس سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو ملازمت سے نکالا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ایکزیکٹیو آرڈر پر دستخط کئے ہیں جس کا مقصد کمپنیوں کےلئے ایچ ون ۔ بی ویزا پروگرام کے تحت غیر ملکی ماہر کارکنوں کو ملازمت دینے کے عمل کو مزید مشکل بنانا ہے ۔ ایچ ون ۔ بی ویزے زیادہ تر بھارتی شہریوں کے پاس ہیں اور اس حکم نامے نے ملک بھر کی بھارتی کمیونٹیز کو پریشان کر دیا ہے

ملک کے لگ بھگ وسط میں واقع کنساس وہ شہر ہے جہاں صرف بھار ت سےتعلق رکھنے والے ہی نہیں تارکین وطن کی کچھ دوسری کمیونٹیز بھی بظاہر رہنے کو ترجیح نہیں دیتیں لیکن وہ جو وہاں رہتے ہیں اورجو اعلی مہارت سے متعلق ایچ ون ۔ بی ویزے پر انحصار کرتے ہیں اس ایکزیکٹیو آرڈر کی وجہ سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کم سے کم تنخواہ کے تقاضے کو دوگنا کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ اس سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو ملازمت سے نکالا جائے گا۔

اخیل کوداروکہتے ہیں کہ اگر میں ایچ ون ویزے کے حکمنامے کے تحت آگیا تو وہ اچانک کہیں گے کہ میری تنخواہ ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر سالانہ ہو گی، تو میری کمپنی ممکن ہے مجھے سپانسر نہ کرے اور میں اپنےمواقع کھو سکتا ہوں اور میرا کیرئیر ختم ہو سکتا ہے۔

اسپرنٹ، جس کا ہیڈ کوارٹرز کنساس شہر میں ہے ٹکنالوجی کی وہ کمپنی ہے، جس میں ایچ ون ۔ بی کے ویزوں کے حامل ملازم موجود ہیں خاص طور پرا س علاقے میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین ، ان میں سے ایک کالیموتھو وجے کمارہیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ڈگریاں لینے کے لیے ، ماسٹرز کی ڈگریاں لینے کے لئےیہاں کی ان یونیورسٹیوں میں بہت زیادہ فیس ادا کی اور پھر یہ کہ ہم یہاں کی کمپنی کے لیے کام کر رہے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود ان کی ملازمت کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ تاہم بھارتی امریکی شہری اس شہر میں رہنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں جسے وہ اپنا گھر کہتے ہیں۔

مناسونی ویسانگی کا کہنا ہے کہ یہ پرسکون شہر ہے میں صرف اور صرف یہاں رہنا چاہتا ہوں۔

کنساس میں جہاں بھارتی تارکین وطن کی ایک قدرے بڑی تعداد آباد ہے ،مندر، بھارتی گراسری اسٹورز اور ریسٹورنٹس ، خاص طور پر مضافاتی علاقوں میں، عشروں سے بھارتی کمیونٹی کی خدمت کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG