رسائی کے لنکس

logo-print

حماس نے فائر بندی قبول کر لی، اسرائیل کی خاموشی


ایک فلسطینی بچی اسرائیلی طیاروں کی بمباری میں تباہ ہونے والے حماس کے الاقصیٰ ٹیلی وژن اسٹیشن کے قریب کھڑی ہے۔ 13 نومبر 2018

غزہ میں فلسطینیوں کے گروپس نے سیزفائر قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ دنوں غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر جاری جھڑپوں کے دوران حماس نے جنوبی اسرائیل پر سینکڑوں راکٹ فائر کیے تھے جس سے ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر درجنوں فضائی حملے کیے، فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں کم ازکم 7 افراد ہلاک ہوئے۔

فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر حالیہ جھڑپوں اور تشدد کو کئی برسوں کے بعد کا بدترین تشدد کہا جا رہا ہے۔ بدھ کے روز مصر کے عہدے دار ثالث کی حیثیت سے وہاں پہنچ رہے ہیں۔

ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے تمام گروپس نے اس سیزفائر کو قبول کر لیا ہے جس میں مصر نے ثالث کا کردار ادا کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر کی کوششوں کے نتیجے میں ’مزاحمت کاروں اور صیہونی دشمن‘ کے درمیان فائر بندی ہو گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مزاحمت کار اس وقت تک فائر بندی کے اعلامیے کا احترام کریں گے جب تک صیہونی دشمن اس کا احترام کرے گا‘۔

اسرائیلی عہدے داروں نے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن وزیر اعظم بنجمن نتین یاہو کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل غزہ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔

سیزفائر پر رضامندی کی خبریں، حماس کی جانب سے اسرائیل کے جنوبی حصے پر مسلسل راکٹ برسانے کے بعد آئی ہیں، جن سے بچنے کے لیے ہزاروں لوگوں کو پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس نے جنوبی اسرائیل پر 400 سے زیادہ راکٹ برسائے۔ ان کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر 100 سے زیادہ فضائی حملے کیے۔ جن میں حماس کے لیے کام کرنے والے الاقصیٰ ٹیلی وژن کے اسٹوڈیوز بھی شامل ہیں۔

تازہ ترین جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب اسرائیل نے ایک آپریشن کے دوران شہری لباس میں فوجی دستے غزہ کی پٹی میں بھیجے۔ جھڑپوں کے نتیجے میں اسرائیل کا ایک سینیر عہدے دار ہلاک ہوا جب کہ حماس کے 7 عسکریت پسند بھی مارے گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG