رسائی کے لنکس

logo-print

اسماعیل حانیہ حماس کے نئے سربراہ منتخب ہوگئے


حماس کے لیڈر اسماعیل حانیہ، فائل فوٹو

غزہ میں پیدا ہونے والے حانیہ ، جن کی عمر 54 برس ہے، سن 2006 کے انتخابات میں گروپ کی فتح کے بعد فلسطین کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔

فلسطینیوں کی تحریک حماس نے ہفتے کے روز اسماعیل حانیہ کو اپنا نیا سیاسی لیڈر منتخب کرلیاہے۔

گروپ کے ترجمان فوزی برہوم نے غزہ میں خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ تحریک کے سابق ڈپٹی چیف قطر میں مقیم لیڈر خالد مشال کی جگہ لیں گے جواپنے عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد سبکدوش ہورہے ہیں۔

حماس نے پچھلے ہفتے اپنی پالیسی سے متعلق ایک نئی دستاویز جاری کی ہے جس میں اسرائیل پر ان کے موقف میں نرمی دیکھی جا رہی ہے۔

سن 2007 میں اپنے حریف گروپ فتح پارٹی سے الگ ہونے کے بعد حماس نے غزہ کی ساحلی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا اوراپنا ایک مسلح ونگ قائم کر لیا تھا اور وہ اب تک اسرائیل سے تین جنگیں لڑ چکا ہے۔

فلسطین کا مغربی کنارا فتح پارٹی کے کنٹرول میں ہے۔

اسرائیل نے فوری طور پر حماس کے زیر انتظام انتخابات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

غزہ میں پیدا ہونے والے حانیہ ، جن کی عمر 54 برس ہے، سن 2006 کے انتخابات میں گروپ کی فتح کے بعد فلسطین کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور وہ اس کے باوجود ابھی تک وزیر اعظم ہونے کے دعویدار ہیں کہ فلسطین کے صدر اور فتح پارٹی کے سربراہ محمود عباس نے انہیں اپنے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

حماس اپنی پالیسی سے متعلق نئی دستاویز میں اسرائیل کو تباہ کرنے کے اپنے پرانے موقف سے پیچھے ہٹ گیا ہے ، جس کا اعلان پچھلے ہفتے قطر کے صدر مقام دوحہ میں تحرک کے مرکزی دفتر میں کیا گیا تھا۔

اس پیش رفت کا مقصد بظاہر خلیجی ریاستوں اور مصر کے ساتھ اپنے رابطے بہتر بنانا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب محمود عباس نے واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں ٹرمپ نے فلسطین اور اسرائیل امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

حماس کی نئی پالیسی دستاویز میں سن 1967 کی جنگ سے قبل کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست کا قیام پر اتفاق ، لیکن اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔جب کہ محمود عباس اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرتے ہیں اور ان خطوط پر ایک حتمی امن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG