رسائی کے لنکس

حقانی نیٹ ورک ایک عسکریت پسند گروپ ہے جو أفغانستان میں امریکی اور أفغان فورسز سے مسلسل لڑ رہا ہے۔ أفغان عہدے داروں اور دہشت گردی أمور کے بین الاقوامی ماہرین کے مطابق یہ أفغانستان کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز عسکری گروپ ہے۔

أفغان عہدے داروں نے بدھ کے روز کابل میں ہونے والے ایک بڑے بم دھماکے کا لزام القاعدہ ے منسلک حقانی نیٹ ورک پر لگایا ہے۔ اس خودکش دھماکے میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک اور 400 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

حقان نیٹ ورک کیا ہے۔ اس کے بارے میں کچھ معلومات ذیل میں دی جا رہی ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کیا ہے

حقانی نیٹ ورک ایک عسکریت پسند گروپ ہے جو أفغانستان میں امریکی اور أفغان فورسز سے مسلسل لڑ رہا ہے۔ أفغان عہدے داروں اور دہشت گردی أمور کے بین الاقوامی ماہرین کے مطابق یہ أفغانستان کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز عسکری گروپ ہے۔

أفغانستان میں ہونے والے تشدد کے کئی ایسے واقعات کی ذمہ داری اس پر ڈالی جاتی ہے جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔ مثلاً کابل کے سفارت خانوں پر حملہ، أفغان پارلیمنٹ بلڈنگ پر حملہ اور أفغانستان میں امریکی فوجی مراکز پر حملے ۔

یہ گروپ کب بنا

اس گروپ کی بنیاد سابق سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے ایک أفغان کمانڈر جلال الدین حقانی نے رکھی تھی۔ سن 1995 میں یہ گروپ طالبان کے اتحاد میں شامل ہوگیا جو أفغانستان اور پاکستان کے دینی مدرسوں میں طالب علموں پر مشتمل تھا۔ جس کے بعد یہ نیٹ ورک طالبان کا ایک ا ہم جزو بن گیا اور اس نے سن 1996 میں طالبان کو کابل پر قبضہ کرنے میں مدد دی۔

حقانی طالبان کی حکومت میں قبائلی علاقوں کا وزیر مقرر ہوا اور سن 2001 میں طالبان کا تختہ الٹنے تک یہ وزارت اس کے پاس رہی۔

قیاس کیا جاتا ہے کہ حقانی نے پاکستان کے ایک مدرسے دارالعلوم حقانیہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس مدرسے کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ اس کی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ ہیں۔

جلال الدین حقانی کی دو بیویاں ہیں جن میں سے ایک کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے ۔حقانی کو سنی اکثریت کی خلیجی ریاستوں میں بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کون چلاتا ہے

خراب صحت کی وجہ سے حقانی نے اپنے گروپ کی قیادت اپنے بیٹے سراج الدین کو سونپ دی ہے۔ وہ گروپ کے نائب امیر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ خلیل الرحمن حقانی ، جسے امریکہ نے غیر ملکی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے، گروپ کے لیے فندز جمع کرتا ہے۔ سٹین فورڈ یونیورسٹی کے ایک ریسرچ پیپر کے مطابق وہ اپنے گروپ میں ہتھیاروں کی تربیت اور تقسیم کا کام بھی کرتا ہے۔

انس حقانی، جلال الدین حقانی کی عرب نسل کی بیوی سے ہے اور ان دنوں أفغانستان کی قید ہے ۔ اسے ایک مقامی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ حقانی نیٹ ورک نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر سزا پر عمل درآمد ہوا تو اس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔

حقانی نیٹ ورک کہاں قائم ہے

اطلاعات کے مطابق اس گروپ کا مرکز میران شاہ میں ہے جو پاکستان کے شمالی قبائلی علاقے کا ایک قصبہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ یہاں گروپ کی سرگرمیوں میں ہتھیاروں کا حصول، تربیت، خود کش بمباروں کی تیاری، فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور لاجسٹک سے متعلق أمور طے کیے جاتے ہیں ۔

کابل اور امریکی حکام طویل عرصے سے پاکستان کی انٹیلی جینس سروس آئی ایس آئی پر یہ إلزام لگاتی آر ہے ہیں کہ وہ اس گروپ کو محفوظ ٹھکانے فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان اس إلزام کو مسترد کرتا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کتنا بڑا ہے

مختلف اندازوں کے مطابق اس گروپ کے ارکان کی تعداد 3 ہزار سے 10 ہزار تک ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس گروپ کو کئی ذرائع سے مالی مدد ملتی ہے جن میں خلیجی ریاستوں کے دولت مند افراد بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ گروپ اسمگلنگ سے بھی رقوم اکھٹی کرتا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے کن گروپوں سے رابطے ہیں

حقانی نیٹ ورک کے القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور پاکستان میں قائم لشکر طیبہ سمیت کئی عسکری گروپس کے ساتھ روابط ہیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ کئی غیر ملکی اس گروپ کے قبضے ہیں جن میں پچھلے سال کابل سے اغوا کیے جانے والی ایک امریکی یونیورسٹی کے دو ارکان بھی شامل ہیں۔

کابل بم دھماکوں سے حقانی نیٹ ورک کا ممکنہ تعلق

واشنگٹن میں قائم ایک امریکی تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار مارون وائن بام کا کہنا ہے کہ کئی برسوں کے بعد کابل کے ایک سفارتی علاقے میں اس نوعیت کی موثر کارروائی طالبان کی ہی ہو سکتی ہے ۔ چونکہ حقانی نیٹ ورک طالبان سے منسلک ہے اس حوالے سے أفغانستان کی انگلیاں پاکستان کی جانب اٹھیں گی۔

أفغانستان کے ایک مقامی ٹیلی وژن نے کہا ہے کہ یہ بم دھماکہ حقانی نیٹ ورک کے دو سینیر ارکان نے پاکستان کے ایک سابق جنرل کی مدد سے کیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس إلزام کو بے بنیاد قرار دے کر اسے مسترد کر دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG