رسائی کے لنکس

'جو ادارے مضبوط ہیں، ضمانت انہی کی چاہیے'


ایک ہزارہ شخص روتے ہوئے بچے کو سہلاتے ہوئے۔ منی بس میں سوار بچے کے خاندان کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ (2014)
ایک ہزارہ شخص روتے ہوئے بچے کو سہلاتے ہوئے۔ منی بس میں سوار بچے کے خاندان کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ (2014)

ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی، شیعہ کانفرنس بلوچستان اور ہزارہ برادری کی دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ کو ئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے باعث برادری کے ہزاروں لوگ ملک کے نسبتاً محفوظ شہروں میں یا بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔

سکیورٹی اداروں کے سربراہان کی یقین دہانی پر ہزارہ برادری کی طرف سے احتجاج ختم کرنے پر بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حلقے سوالات اٹھا رہے ہیں۔

ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کرنے والی انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی جس کے بعد شہر کے دیگر علاقوں میں دھرنے دینے والوں نے بھی احتجاج ختم کر دیا ہے۔ لیکن بعض لوگ اس اقدام پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں ہزارہ برادری کی نمائندگی کر نے والے صوبائی وزیر قانون سید رضا نے کہا ہے کہ ہمارے لوگوں کو کبھی ایران کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے کبھی افغانستان کے ساتھ کبھی شام کا ملبہ ہمارے لوگوں پر گرایا جاتا ہے۔ ہمیں یہ قبول نہیں ہے ہم پاکستان کے اندر رہتے ہوئے پاکستانی سیکورٹی اداروں سے اپنے جینے کا حق مانگتے ہیں۔

انسانی حقوق کے قومی ادارے کی جانب سے گزشتہ مہینے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانچ سال کے عرصے میں کوئٹہ میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ہزارہ کمیونٹی کے 509 افراد ہلاک اور 627 زخمی ہوئے۔​

سیاسی تجزیہ کار امان اللہ شادیزئی کا شہر کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کی طرف سے ہزارہ برادری کے لوگوں کو نشانہ بنانے اور اس عمل کے خلاف ہزارہ برادری کی طرف سے احتجاج صرف سیکورٹی اداروں کے سربراہان کی یقین دھانیوں پر ختم کرنے کے حوالے سے کہنا ہے کہ "پنجاب اور لاہور میں شعیہ مسلک کے لوگوں کی شناخت مشکل ہے۔ یہاں (کوئٹہ) اس لئے آسان ہے کہ اُن کی شکل ایک ہزار افراد میں بھی شناخت ہو سکتی ہے تو اُن کو مارنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ ایک آسان ہدف ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی طور پر طے شدہ بات ہے کہ وہ فوج کو ایک طاقتور ادارہ سمجھتے ہیں۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہی لوگ ان کی برادری کی حفاظت کر سکتے ہیں اس لئے وہ فوج سے ضمانت مانگتے ہیں۔ اگر ہمارے ملک میں جمہوریت مضبوط ہوتی تو یہ صورتحال نہ پیدا ہوتی۔

ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی، شیعہ کانفرنس بلوچستان اور ہزارہ برادری کی دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ کو ئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے باعث برادری کے ہزاروں لوگ ملک کے نسبتاً محفوظ شہروں میں یا بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں کیونکہ اس شہر میں برادری کے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اُن کی دکانیں، کاروبار اور آمدن کے ذرائع تقریباً بند ہو چکے ہیں جس کے باعث برادری کے غریب خاندان نان شبینہ کے محتاج ہو گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG