رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ کی کراچی میں تجاوزات کے خلاف مہم جاری رکھنے کی ہدایت


سپریم کورٹ کی ایک آبزرویشن میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں بڑی تعداد میں کثٰیر منزلہ رہائشی عمارتیں غیرقانونی طور پر سرکاری زمینوں پر بنائی گئی ہیں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ کراچی میں تجاوزات کے خاتمے کے لئے بھرپور کارروائی جاری رکھی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں غیر قانونی عمارتوں کی بھرمار ہو چکی ہے لیکن حکومتی اداروں کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شہر میں تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات اور قبضوں سے متعلق متفرق درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے مائی کولاچی روڈ پر 'کے پی ٹی' کی زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی کے لئے دی گئی 130 ایکڑ اراضی پر منگرووز کے درخت لگانے کا حکم دیتے ہوئے چیئرمین پورٹ قاسم سے دو ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔

عدالت نے حکم دیا کہ اراضی سے ریت نکال کر اس کا لیول سطح سمندر کے برابر کیا جائے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 'کے پی ٹی ہاوسنگ اسکیم' کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی تھی اور اسے دوبارہ پورٹ ٹرسٹ کے استعمال میں دیے جانے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ جن الاٹیز کے واجبات ہیں، وہ سوسائٹی سے رقم واپس لینے کے لئے سول کورٹ سے رجوع کریں۔

کمشنر کراچی نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ شاہراہ قائدین سے تمام تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں۔ اور غیر قانونی دکانیں بھی گرا دی گئی ہیں، جب کہ ایک عمارت نالے پر قائم ہے۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ سب ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ ایسا ہی حال شہید ملت روڈ کا بھی بنا دیا گیا ہے۔ عدالت نے شاہراہ قائدین اور مزار قائد کے گرد کثیر تعداد میں پودے لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ میں عمل درآمد رپورٹ عدالت میں پیش جائے۔

کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری کی عمارت
کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری کی عمارت

تین رکنی بینچ کڈنی ہل ہارک سے متعلق کارروائی جاری رکھنے کا حکم بھی دیا۔

کنٹونمنٹ بورڈ قانوں کے دائرے میں کام کرے

سپریم کورٹ نے 'پی اینڈ ٹی کالونی' میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق سماعت میں کہا کہ یہ حکومت کی زمین ہے۔ اس پر غیر قانونی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کنٹونمنٹ بورڈ کسی کو زمین نہیں بیچ سکتا۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کارساز کے مقام پر بھی ایسا ہی کیا گیا ہے۔ دہلی کالونی، پنجاب کالونی، پی اینڈ ٹی کالونی شہر کے بدترین علاقے بنا دیے گئے ہیں۔ پی این ٹی کالونی میں 250 سے زائد کثیر منزلہ عمارتیں بنادی گئی ہیں

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں نیول سوسائٹی بنانے کی اجازت کس حثیت میں دی گئی۔ عدالت نے پی این ٹی کالونی میں تمام غیر قانونی تعمیرات گرانے حکم دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو بھی اس کالونی میں غیر قانونی تعمیرات پر نوٹس جاری کر دیے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ الہ دین پارک سے متصل غیر قانونی رائل پارک ریزیڈنسی کے تین ٹاور گرا دیے گئے ہیں۔ جب کہ مزید دو ٹاور گرانا باقی ہیں۔

متاثرین کے وکیل نے بتایا کہ الاٹیز کو 141 کروڑ روپے کی واپسی کرنا ہے۔ جو ابھی تک نہیں ہوا۔ ایک بلڈر لندن اور دوسرا دبئی میں مقیم ہے الاٹیز کس سے پیسے لیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد، فائل فوٹو
چیف جسٹس گلزار احمد، فائل فوٹو

بلڈر کا دوسرا منصوبہ ڈی ایچ اے میں کریک سائٹ کے نام سے جاری ہے، عدالت نے کمشنر کراچی کو بلڈرز کا زیر تعمیر شاپنگ مال تحویل میں لینے کا حکم دیا۔ عدالت نے الاٹیز کو رقم واپسی تک بلڈرز کے کسی اور پراجیکٹ پر کام کرنے سے روک دیا۔ اور رائل پارک کے دونوں ٹاور گرانے، ایک ماہ میں ملبہ اٹھانے اور اس کی جگہ پارک تعمیر کرنے کا حکم دیا۔

کمپیوٹرائزیشن کے عمل میں 2 لاکھ 45 ہزار ایکڑ زمین ریکارڈ جعلی نکلا

زمینوں کے ریکارڈ میں جعل سازی اور سرکاری زمینوں پر قبضے کے خلاف سماعت کے دوران عدالت نےحکام سے استفسار کیا کہ اب تک کتنے سرکاری زمین واگزار کرائی گئی ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویزنے عدالت کو بتایا سات کروڑ فائلوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر چکے ہیں۔ کمپیوٹرائزیشن کے دوران 2 لاکھ 45 ہزار ایکڑ زمین کا ریکارڈ جعلی نکلا ہے۔ جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس میں مختلف علاقوں میں سرکاری زمینوں پر غیر قانونی تعمیرات کا حوالہ دیتے ہوئے تمام سرکاری اراضی پر قبضوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سرکاری زمینوں پر قبضہ ختم کرانے کے لئے فوری کارروائی کرنے کا حکم دیا ۔عدالت نے محکمہ آب پاشی ،جنگلات اور دیگر محکموں کی زمینیں بھی واگزار کرانے اور ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

ڈیفنس اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقوں میں پانی کی کمی پر رپورٹ طلب

سپریم کورٹ نے دوران سماعت ڈی ایچ اے کلفٹن کے رہائشیوں کو صاف پانی کی عدم فراہمی سے متعلق درخواست کی بھی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈیفنس والے پانی کے لئے کراچی واٹر بورڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ ڈ ی ایچ اے میں دو قسم کی لائنیں بچھائی گئی ہیں۔ ان سے میں ایک مخصوص لائن میں پانی آتا ہے اور دوسری لائن میں پانی نہیں آتا۔ جو عام لوگوں کیلئے ہے اور وہ ٹینکر سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

عدالت نے ڈی ایچ اے اور کلفٹن میں پانی کی فراہمی سے متعلق واٹر بورڈ سے دو ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کر لی اور کنٹونمنٹ بورڈ کو بھی حکم دیا ہے کہ بتایا جائے کہ ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کو کتنا پانی درکار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG