رسائی کے لنکس

کراچی میں تجاوزات عمل درآمد کیس میں سپریم کورٹ کا وزیر اعلیٰ سندھ پر عدم اطمینان


کراچی میں تجاوزات کے خلاف مہم کے دوران دکانیں مسمار کی جا رہی ہیں۔ 5 ستمبر 2019

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مئی 2019 میں صوبائی دارلحکومت کراچی میں تجاوزات کے خاتمے، شہر میں کام کرنے والے والی لینڈ مینجمنٹ ایجنیسز کے درمیان روابط اور مقامی حکومتوں کے نظام سے متعلق حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے وزیر اعلیٰ سندھ کو حکم پر عمل درآمد کے بعد تحریری جواب جمع کرانے کے لئے ایک ماہ کی مہلت دے دی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے کراچی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت کی تو عدالت نے اپنے احکامات کے باوجود کڈنی ہلز پارک پر سات ایکڑ زمین پر تجاوزات نہ ہٹانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو حکم دیا کہ اگر قبضہ ختم نہ کرایا گیا تو توہین عدالت کے مقدمے میں انہیں جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سب کو معلوم ہے کہ کراچی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ گلیوں میں اونچی عمارتیں بنا کر شہر کو تباہ کر دیا گیا ہے حکومت کی منظوری سے اور لوگوں سے پیسے لے کر شہرمیں غیرقانونی تعمیرات کرائی گئیں۔ سب نےاپنی مرضی کے علاقے بنا لیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پارک کی زمین پر اسکول سمیت کسی قسم کی کوئی تعمیرات نہیں کی جا سکتیں۔

'تجاوزات اور قبضوں میں مافیاز ملوث ہیں'

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی تجاوزات کے خلاف مہم سے صرف غریب زد میں آتے ہیں۔

سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری
سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری

عدالت کا کہنا تھا کہ شہر کی ہر سڑک پر تجاوزات کی بھرمار ہے۔ اگر صوبائی حکومت کا وجود ہوتا تو یہ حال نہ ہوتا۔ کراچی میں گینگز اور مافیاز کام کر رہے ہیں۔ سرکاری زمینیں ہاتھ سے نکل گئی ہیں۔ اسی طرح لیاری، کھارادار، کھوڑی گارڈن اور اولڈ سٹی ایریاز کے دیگر علاقوں میں پارکس اور میدان ہی ختم ہو گئے ہیں۔ جب کہ باغ ابن قاسم کے ساتھ زمین پر بھی بلدیہ عظمیٰ کی زمین پر قبضہ ہو چکا ہے۔

عدالت کو تعمیراتی منصوبوں سے آگاہ کیا گیا

دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ گرین لائن بس ریپڈ سسٹم کی تکمیل سے روزانہ تین لاکھ لوگ سفر کر سکیں گے۔ جس کے لئے سرجانی ٹاون سے نمائش چورنگی تک کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

گرین لائن کے لئے بسوں کا آرڈر کیا جا چکا ہے اور مئی 2021 تک یہ بسیں آنے کی توقع ہے۔ یہ پراجیکٹ جون 2021 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ عدالت نے منصوبہ مکمل کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے شہر میں ریڈ لائنز بی آر ٹی کی تکمیل کے لئے رفاعی پلاٹ مختص کرنے پر حیرانگی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ عدالت نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ خطرناک بات تو یہ ہے کہ کابینہ کو رفاعی پلاٹس کو دیگر مقاصد کے لئے منتقلی کا اختیار دے دیا گیا ہے، جس استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

'زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ تجاوزات کے خاتمے کے لئے کچھ نہ ہوا'

عدالت نے تجاوزات کیس میں احکامات پر ڈیڑھ سال میں بھی عمل درآمد نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ سندھ کو فوری طلب کیا تھا جس پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کچھ سڑکوں سے تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اہم شاہراہوں پر ترقیاتی کام جاری ہیں۔ عدالت نے وزیر اعلیٰ کی درخواست پر انہیں عمل درآمد رپورٹ جمع کرانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دے دی۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، فائل فوٹو
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، فائل فوٹو

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ اور عدالتی احکامات پر من و عن عمل درآمد کرایا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے پاکستان ریلوے کی زمین پر قائم تجاوزات کےخلاف کارروائی کرنے اور اس سلسلے میں رینجرزکی مدد لینے کی ہدایت کی ہے۔ ڈی ایس ریلوے کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لئے انڈرپاسز اور فلائی اوورز کیلئے کنٹریکٹ دیا جا چکا ہےاور دیگر معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔

عدالت نے تجاوزات سے متعلق کسی کی مزید سماعت بدھ تک ملتوی کردی ہے۔

'تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کی وجہ ناقص منصوبہ بندی ہے'

سپریم کورٹ نے 5 مئی 2019 ک تجاوزات کے کیس کی سماعت میں شہر بھر سے ہر قسم کی تجاوزات ہٹانے، سرکلر ریلوے کا ٹریک بحال کرنے، اور بے دخل کیے جانے والے افراد کو متبادل جگہیں فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

شہری ترقی کے امور کے ممتاز ماہر اور کراچی اربن ریسورس سینٹر سے وابستہ زاہد فارق کے خیال میں تجاوزات ہٹانے میں ناکامی کی اصل وجہ حکومت کی جانب سے ناقص منصوبہ بندی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اکثر تجاوزات ہٹانے کی مہم متاثر ہونے والے افراد کو متبادل جگہ فراہم کیے بغیر ایک دم شروع کر دی جاتی ہے جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور مزاہمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کراچی شہر میں ریلوے کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کراچی شہر میں ریلوے کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

زاہد فاروق کہتے ہیں کہ تجاوزات کے خاتمے کے لئے انتظامیہ کو انصاف پر مبنی طرز عمل اختیار کرنا ہو گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ غریبوں کی بستیوں کو مسمار کیا جائے مگر اونچی غیر قانونی عمارتوں کو بچا کر ریگولرائز کر دیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو تجاوزات پر قابو پانے کے لئے شہر کے ماسٹر پلان بنانا، اس پر عمل درآمد اور قوانین کو سختی سے نافذ کرنا پڑے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG