رسائی کے لنکس

جنوبی پاکستان میں شديد گرمی، درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا


پیر کے روز پاکستان کے جنوبی حصے میں شديد گرمی پڑی اور درجہ حرارت 122 اعشاریہ 4 ڈگری فارن ہائیٹ یعنی 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ گیا۔

شديد گرمی کی لہر کی زد میں آنے والا یہ شہر نواب شاہ تھا جس کی آبادی گیارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

فرانس کے ایک ماہر موسمیات کاپی کیان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اپریل کے مہینے میں یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایشیائی ملکوں کا گرم ترین دن تھا جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں ہے۔

عالمی شديد موسموں کے ایک ماہر کرسٹوفر برنٹ نے اپنی ایک ای میل میں کہا ہے کہ جدید دنیا کے دستیاب ریکارڈ میں غالباً وہاں کا یہ سب سے اونچا درجہ حرارت ہے۔

اپریل کے مہینے میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 2001 میں میکسیکو کے علاقے سینٹا روزا میں ریکارڈ کیا گیا تھا جو 123 اعشاریہ 8 فارن ہائیٹ یعنی 51 درجے سینٹی گریڈ تھا۔

یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے کہ نواب شاہ میں شديد گرمی پڑ رہی ہے۔ مارچ کے آخر میں وہاں کا درجہ حرارت 113 اعشاریہ 9 درجے فارن ہائیٹ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ایشیا کے کئی دوسرے ملکوں میں بھی 29 سے 31 مارچ کے دوران انتہائی اونچا درجہ حرارت دیکھنے میں آیا۔

ڈان نیوز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نواب شاہ میں شديد گرمی کی لہر نے مقامی آبادی کو بری طرح متاثر کیا اور درجنوں افراد لو لگنے سے بے ہوش ہوئے۔

پاکستان ٹوڈے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے سے بجلی کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے بجلی کی غیر اعلانیہ بندش دیکھنے میں آئی۔

گرمی کی لہر نے ہمسایہ ملک بھارت کو بھی متاثر کیا ہے اور پیر کے روز نئی دہلی میں درجہ حرارت 107 اعشاریہ 6 فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا۔

موسمیات کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی پاکستان میں پیر کے روز کا درجہ حرارت معمول سے 25 ڈگری تک زیادہ رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG