رسائی کے لنکس

نادر قرآنی نسخہ ایک لاکھ 37 ہزار پاؤنڈ میں فروخت


یہ نادر قلمی نسخہ 19 ویں صدی کے ایک کشمیری خطاط کا شاہکار ہے۔

نوادارات اور تاریخی دستاویزات کی فروخت کے لیے مشہور نیلام گھر 'سوتھ بیز' کے تحت ہونے والی نیلامی میں ایک کشمیری خطاط کے ہاتھ سے لکھا گیا قرآن کا نسخہ ایک لاکھ 37 ہزار پانچ سو برطانوی پاؤنڈ میں فروخت ہو گیا ہے۔

مذکورہ نسخے کو حال ہی میں نیلامی کے لیے پیش کیا گیا تھا اور اسے کسی بھی قرآنی نسخے کی فروخت کی سب سے بڑی رقم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ اس نسخے کا خریدار کون ہے۔

بھارتی روپوں میں اس کی مالیت ایک کروڑ 29 لاکھ جب کہ پاکستانی روپوں میں دو کروڑ سے زائد ہے۔

نیلامی سے پہلے 'سوتھ بیز' نے اس قرانی نسخے کو اپنی ویب سائٹ پر متعارف کراتے ہوئے لکھا کہ قرآن کا یہ نادر نسخہ 19 ویں صدی میں تیار کیے گئے نفیس ترین مخطوطات میں سے ایک ہے۔

بھارت کے ایک اہم ادارے 'نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج' کشمیر کے ایک عہدے دار محمد سلیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قرآن کا یہ تاریخی نسخہ کشمیری خوش نویسوں کے فن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اُن کے بقول اس تاریخی نسخے پر جلد ساز اور سرپرست کے نام بھی درج ہیں اور یہ ایک خوبصورت مخطوطہ ہے۔

محمد سلیم نے کہا کہ اُنہیں خوشی ہے کہ اس نادر نمونے کو 'سوتھ بیز' جیسے عالمی شہرت یافتہ نیلام گھر نے مناسب قیمت پر نیلام کیا۔ اُن کے بقول جس نے بھی اسے خریدا ہے اسے اس کی قدر و قیمت کا بخوبی اندازہ تھا اور یہ یقیناً محفوظ ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔

سوتھ بیز کے مطابق کشمیر میں لکھے گئے قرآنی نسخے غیر معمولی اور نایاب ہیں اور حال ہی میں نیلام کیا گیا نسخہ بھی ایک شاہکار ہے۔

اس نسخے کی خطاطی محمد حسن نے کی اور محمد اسماعیل نےحاشیے میں تفسیر درج کی اور یہ 1831 میں تیار ہوا تھا۔

یہ نسخہ 544 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں کالی، نیلی اور سرخ روشنائی استعمال کی گئی ہے۔

آیات کو سنہری رنگ کے بنے دائروں اور دوسرے نشانات سے ایک دوسرے سے الگ کیا گیا ہے۔ اس قرآنی نسخے پر جلد ساز عبدالعزیز مغل کے دستخط ہیں۔ نسخے کے بیرونی کنارے پر تفسیر نگار محمد اسماعیل کے نام کے ساتھ اس کام کے سرپرست کا نام بھی درج ہے۔

تقریباً دو صدیاں گزر جانے کے باجود قرآنی نسخہ اچھی حالت میں ہے۔

مورخ ڈاکٹر حکیم سمیر ہمدانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لگتا ہے کہ محمد اسماعیل، جنہوں نے فارسی زبان میں تفسیر لکھی ہے ایران کے وہ تاجر ہیں جنہوں نے اس کی تیاری پر آنے والے اخراجات بھی برداشت کیے۔

اُن کے بقول اس زمانے میں ایران، جارجیا اور آرمینیا سے تاجر کاروبار کے لیے سرینگر کا رُخ کرتے تھے اور یہ علاقہ ان دونوں تجارتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG