رسائی کے لنکس

logo-print

زلزلے کیوں آتے ہیں؟


میرپور کے زلزلے سے سڑکوں پر دراڑیں اور شگاف پڑ گئے۔ 24 ستمبر 2019

قدیم زمانے میں زلزلے سے عجیب طرح کی روايات اور کہانیاں منسوب تھیں۔ جیسے ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ ایک بہت بڑے بیل نے زمین کو اپنے ایک سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

یونان کی دیومالائی کہانیوں میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کا دیوتا پوسیڈان جب اپنی برچھی زمین کو چبھوتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

قدیم یونانی فلاسفروں کا خیال تھا کہ زمین کے اندر گیسیں بھری ہوئی ہیں۔ جب گیسیں باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہیں تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

اٹھارہویں صدی تک نیوٹن سمیت مغربی سائنس دان اس نظریے کے حامی تھے کہ زمین کی تہوں میں موجود آتش گیر مادوں کے پھٹنے سے زلزلے آتے ہیں۔

البانیہ میں ایک شخص زلزلے کے بعد اپنے گھر کا ملبہ ہٹا رہا ہے۔ یکم جون 2019
البانیہ میں ایک شخص زلزلے کے بعد اپنے گھر کا ملبہ ہٹا رہا ہے۔ یکم جون 2019

زلزلوں کے متعلق جدید سائنسی نظریہ ریورنیڈ جان مچل نے 1760 میں پیش کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جب زیرزمین چٹانیں حرکت کرتی ہیں تو زمین کی سطح لرزنے لگتی ہے۔

زلزلے کیوں آتے ہیں

لاس اینجلس کی ساؤتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے ایک ماہر جان ویڈیل کہتے ہیں کہ زمین کے اندر موجود چٹانی پرتیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اور جب وہ اپنی جگہ سے کھسکتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور جب یہ دباؤ ایک خاص سطح پر پہنچتا ہے تو وہ زلزلے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

زلزلے کے جھٹکوں سے زمین کی سطح پر موجود چیزوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ عمارتیں اور دوسری تنصیبات گر جاتی ہیں۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ درخت اور بجلی کے پول زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ اگر متاثرہ علاقے میں دریا یا جھیلیں ہوں تو ان کی جگہ بدل سکتی ہے۔ پہاڑوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔

انڈونیشیا کے علاقے پالو میں زلزلے کے بعد سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔ 2 اکتوبر 2018
انڈونیشیا کے علاقے پالو میں زلزلے کے بعد سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔ 2 اکتوبر 2018

اگر زلزلے کا مرکز سمندر کی تہہ یا ساحلی علاقوں کے قریب ہو تو سمندری طوفان اور سونامی آ سکتے ہیں اور بپھری لہریں ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

ہماری زمین کے بعض حصوں کے نیچے چٹانوں کی پرتیں اس نوعیت کی ہیں کہ ان میں نسبتاً زیادہ حرکت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان علاقوں میں زلزلے بھی کثرت سے آتے ہیں۔ بعض ملک اور علاقے زلزلوں کے زون میں واقع ہیں۔ ان میں نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، فلپائن، جاپان، روس، شمالی امریکہ میں بحرالکاہل کے ساحلی علاقے، وسطی امریکہ، پیرو اور چلی شامل ہیں۔ اسی طرح بحرالکاہل کے کئی حصے بھی ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں زیادہ زلزلے آنے کا خدشہ رہتا ہے۔

چین کے تبتی علاقے گیگو میں ایک خاتون ملبے کے ڈھیر پر اپنے بچنے کو اٹھائے حسرت سے اپنا گھر دیکھ رہی ہے۔ 19 اپریل 2010
چین کے تبتی علاقے گیگو میں ایک خاتون ملبے کے ڈھیر پر اپنے بچنے کو اٹھائے حسرت سے اپنا گھر دیکھ رہی ہے۔ 19 اپریل 2010

ریکٹر اسکیل کیا ہے؟

ریکٹر اسکیل ایک پیمانہ ہے جس سے زلزلے کی شدت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریکٹر اسکیل کے موجد ایک امریکی سائنس دان چارلس ریکٹر ہیں جنہوں نے 1935 میں ایک آلہ متعارف کرایا تھا جس میں ایک سے 10 کے اسکیل پر زلزلے کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

زلزلے کی اقسام

زلزلوں کو عمومی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر چار درجے سے کم شدت کے زلزلوں کو معمولی یا کمزور نوعیت کا زلزلہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا۔

چار سے زیادہ اور چھ سے کم درجے کا زلزلہ درمیانی شدت کا زلزلہ کہلاتا ہے، جس سے تھوڑا بہت نقصان پہنچ سکتا ہے، جیسے چینی کے برتن اور پلیٹیں وغیرہ ٹوٹ سکتی ہیں۔ جب کہ ریکٹر اسکیل پر 6 سے 7 شدت کے زلزلے عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جب زلزلے کی شدت 8 کے ہندسے بڑھتی ہے تو وہ تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عمارتیں ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو سکتی ہیں، سڑکیں اور ریلوے لائنیں ٹوٹ پھوٹ سکتی ہیں۔

انڈونیشیا میں زلزلے سے بڑے پیمانے کی تباہی کے بعد خواتین اپنے گھروں میں بچ جانے والی چیزیں ڈھونڈ رہی ہے۔ 2010
انڈونیشیا میں زلزلے سے بڑے پیمانے کی تباہی کے بعد خواتین اپنے گھروں میں بچ جانے والی چیزیں ڈھونڈ رہی ہے۔ 2010

زلزلے میں کیا کرنا چاہیے؟

زلزلے کی صورت میں فوری طور پر عمارت سے باہر کھلی جگہ پر چلے جانا چاہیے۔ اگر باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو میز یا اسی نوعیت کی کسی دوسری چیز کے نیچے پناہ لینی چاہیے تاکہ آپ خود کو چھت یا دیواروں سے ممکنہ طور پر گرنے والے ملبے سے بچا سکیں۔ زلزلے کے دوران کھڑکیوں، بھاری فرنیچر اور بڑے آلات وغیرہ سے دور رہیں۔

البانیا کے علاقے ترانہ میں زلزلے سے املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ 21 ستمبر 2019
البانیا کے علاقے ترانہ میں زلزلے سے املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ 21 ستمبر 2019

تباہ کن زلزلے

جدید تاریخ کے چند تباہ کن زلزلے یہ ہیں۔

26 دسمبر 2004 کو انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں 9 اعشاریہ 1 شدت کے زلزلے میں دو لاکھ 27 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

12 جنوری 2010 کو ہیٹی میں 7 درجے کے زلزلے نے دو لاکھ 22 ہزار سے زیادہ زندگیوں کے چراغ گل کر دیے تھے۔

12 مئی 2008 میں چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں 7 اعشاریہ 8 قوت کے زلزلے میں 87 ہزار افراد ہلاک اور پونے چار لاکھ زخمی ہو گئے تھے۔

8 اکتوبر 2005 میں پاکستان کے شمال اور متنازع کشمیر کے علاقوں میں 7 اعشاریہ 6 طاقت کے زلزلے میں 73 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG