رسائی کے لنکس

logo-print

رتوڈیرو: ایڈز کی وبائی صورتحال، عالمی ادارہ صحت سے تعاون طلب


فائل

پاکستان میں سندھ کے علاقے رتو دیرو میں ایچ آئی وی ایڈز کیسز کی وبائی صورتحال مخدوش ہونے پر پاکستان نے عالمی ادارہ صحت سے تعاون طلب کر لیا ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت نے ڈبلیو ایچ او کو مراسلہ تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے درخواست کی ہے کہ ڈبلیو ایچ او 50 ہزار تشخیصی کٹس کے ساتھ ماہرین کی ٹیم فوری روانہ کرے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد سلیم المندھاری کو تحریر کردہ مراسلے کی وائس آف امریکہ کے پاس موجود کاپی کے مطابق پاکستان نے عالمی ادارہ صحت سے ماہرین کی خصوصی ٹیم بھجوانے کی درخواست کی ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بچوں میں ایچ آئی وی کے طبی ماہرین کی ضرورت ہے جو ڈبلیو ایچ او ایڈز کے تشخیصی مراکز کے قیام میں تعاون فراہم کریں۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ضلع لاڑکانہ میں ایڈز کیسز وبائی صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔ مختصر وقت میں 600 ایڈز کے کیسز کا سامنے آنا خوفناک ہے۔ اس میں زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان میں بچوں کی تعداد 500 سے زائد ہے جن کی عمریں دو تا پندرہ برس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی وفاقی حکومت ایڈز کی وبائی صورتحال میں سندھ حکومت سے رابطے میں ہے اور سندھ محکمہ صحت کو بھرپور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا رتو دیرو کا دورہ

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں تعلقہ اسپتال رتو دیرو کا دورہ کیا جہاں انہیں بتایا گیا کہ صرف 32 دنوں میں رتو دیرو تعلقہ اسپتال میں 22ہزار سے زائد افراد کی ایچ آئی وی اسکریننگ کی گئی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے ایچ آئی وی اسکریننگ کرانے والے مریضوں سے بات چیت کی اور ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین کو حوصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

لاڑکانہ میں یہ مرض کیسے پھیلا

اب تک کی رپورٹس کے مطابق لاڑکانہ میں عطائی ڈاکٹرز، حجام اور بلڈ بینکس ایڈز ایچ آئی وی پھیلانے کے ذمہ دار قرار دیے گئے ہیں، جہاں عطائی ڈاکٹرز سرنجز کے دوبارہ استعمال میں ملوث پائے گئے۔ متعدد عطائی ڈاکٹرز نے سرنجز کے دوبارہ استعمال کا برملا اعتراف کیا۔

زیادہ تر کیسز میں ایڈز کا مرض بچوں میں والدین سے منتقل نہیں ہوا، بلکہ ان معصوم بچوں کو عطائی کلینکس سے انجکشنز لگوائے گئے تھے۔

اس کے ساتھ مقامی حجاموں نے فرسودہ اور غیر محفوظ طریقے استعمال کرنے کا اعتراف کیا جہاں وہ گندے اوزار استعمال کرتے رہے۔ مقامی حجاموں نے مختلف گاہکوں کیلئے ایک بلیڈ استعمال کرنے کا اعتراف کیا، جبکہ لاڑکانہ کے متعدد بلڈ بینکس میں سکریننگ کی جدید سہولیات موجود ہی نہیں ہیں، اور نجی بلڈ بینکس خون کی سکریننگ میں غفلت کے مرتکب پائے گئے۔

بتایا جا رہا ہے کہ ضلع لاڑکانہ میں ایڈز کا شکار متعدد بچے تھیلیسیما کے مریض ہیں اور غیر معیاری انتقال خون سے متعدد بچوں کو ایچ آئی وی منتقل ہوا۔ اب تک سامنے آنے والے کیسز میں ایک تا پانچ سال کے 403 بچے ایڈز سے متاثر ہیں۔

پاکستان کے بیشتر دیہی اور دوردراز علاقوں میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث عطائی ڈاکٹرز ہی تمام کاروبار سنبھالے بیٹھے ہیں اور سرکاری اسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG