رسائی کے لنکس

logo-print

حزب اللہ نے اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس کے اختیارات میں تبدیلی کا مطالبہ مسترد کر دیا


فائل فوٹو

لبنان کی شیعہ عسکری تنظیم​ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اسرائیل کی سرحد پر گشت کرنے والی اقوام متحدہ کی امن فوج کو مزید بااختیار بنانے کے امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

نصراللہ نے لبنان سے اسرائیل کی دست برداری کو 20 سال مکمل ہونے پر منگل کو اپنے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ امریکی، اسرائیل کے مطالبات کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے مشن کی نوعیت تبدیل کرنے کا معاملہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنان اقوامِ متحدہ کے مشن کے اختیارات میں تبدیلی کو رد کر چکا ہے جب کہ اسرائیل ایسا کرنا چاہتا ہے۔

حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے مشن کو لوگوں کی نجی املاک پر چھاپے مارنے اور تلاشی لینے کا حق حاصل ہو اور اس کے لیے امریکہ، لبنان پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

حسن نصراللہ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سیکیورٹی کونسل میں کچھ ہفتوں بع اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان کے مینڈیٹ کی تجدید کے لیے ووٹنگ ہونے والی ہے۔ گزشتہ برس اگست میں اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے لبنان میں تعینات عبوری فورس کے مینڈیٹ میں ایک سال کی تجدید کے لیے ووٹ دیا تھا۔

حسن نصراللہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ہم اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس کے خلاف نہیں ہیں لیکن اب لبنان کو کمزور سمجھنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب لبنان پر اپنی شرائط لاگو نہیں کر سکتا چاہے یہ کوشش امریکی نقاب کے پیچھے چھپ کر ہی کیوں نہ ہو۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی نمائندگی کرنے والی سفیر کیلی کرافٹ نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ لبنان میں اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس کو کام کرنے نہیں دیا جا رہا اور حزب اللہ خود کو مسلح کرنے اور اپنی کارروائیوں میں توسیع کرنے میں کامیاب رہی ہے جب کہ لبنانی عوام کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کے مشن برائے لبنان کو بااختیار بنانے کے لیے اس کے مینڈیٹ میں تبدیلیاں کرے۔

اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس کے لبنان میں 10 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں جو سرحدوں پر لبنانی فوجیوں کی مدد اور معاونت کرتے ہیں۔

شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ کا لبنان میں سیاست، فوج اور سماجی سرگرمیوں سے گہرا تعلق ہے اور وہ لبنان میں ایک بڑی سیاسی اور عسکری قوت ہے۔

ایران کی پشت پناہی کی حامل حزب اللہ اس وقت ابھر کر سامنے آئی تھی جب اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 1982 میں فوجی مداخلت کی تھی۔ 1992 سے اس کی قیادت حسن نصر اللہ کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG